پیر 19 نومبر 2018ء
پیر 19 نومبر 2018ء

آزادکشمیر :ایک نئی صبح طوع ہونے کو ہے ارشادمحمود

44سال کے انتظار کے بعد بالآخر آزادکشمیر کو بااختیار اور باوقار حکومت فراہم کرنے کافیصلہ صاد ہوچکا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ طے پاچکا کہ کشمیر کونسل کے غیر ضروری انتظامی کنٹرول اور مالیاتی بوجھ سے آزادکشمیر کو اگلے چند ہفتوں میں آزاد کردیا جائے گا۔اس ادارے کو آزادکشمیر حکومت میں ضم کردیا جائے اس طرح اس کی ذمہ داریاں اور اثاثے مظفرآباد منتقل ہوجائیں گے۔ آزادکشمیر کے سیاست دانوں بالخصوص وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کشمیر کونسل کے خاتمے کے لیے مقتدر حلقوں اور وزیراعظم پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سرتوڑ کوششوں کیں۔ وفاقی حکومت نے متعدد کمیٹیوں کی سفارشات کے جائزے کے بعد اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اٹھارویں ترمیم کے طرز پر آزادکشمیر کو داخلی معاملات میں مکمل انتظامی اور مالیاتی اختیارات دیئے جائیں تاکہ وہ خطے کی تعمیر وترقی کے لیے اعتماد اور وقار کے ساتھ متحرک ہوسکے۔ پاکستان اور آزادکشمیر کی حکومت کے مابین ادارہ جاتی تعلقات کی تاریخ 1949کے کراچی ایگرمنٹ سے شروع ہوتی ہے۔ آزادکشمیر کو حکومت پاکستان نے اپنی مرضی اور کشمیری رہنماو¿ں کی مشاورت سے صوبہ بنانے کے بجائے الگ شناخت دی تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کے لیے سرگرم کردار ادا کرسکے۔ چونکہ یہ کوئی آزاد مملکت نہیں تھی لہٰذا کراچی معاہدے کے تحت حکومت پاکستان دفاع؛ خارجہ پالیسی؛ کرنسی ؛ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن کے معاملات؛مسئلہ کشمیر پر مذاکرات اور گلگت بلتستان کا کنٹرول جیسی ذمہ داریاں اپنے ذمہ لے لیں۔ حکومت آزادکشمیر دیگر داخلی معاملات کو چلانے میں بااختیار کردیاگیا۔ آزادکشمیر میں جمہوری ڈھانچے کے قیام کے لیے کشمکش آزادی کے چندماہ بعد ہی شروع ہوگئی تھی۔ چودھری غلام عباس محروم کی خواہش تھی کہ آزادکشمیر خالصتاً اپنی توجہ مسئلہ کشمیر کے حل پر مرکوز رکھے ۔ سردار ابراہیم خان، راجہ حیدر خان اور چودھری نور حسین چاہتے تھے کہ آزادکشمیر میں الیکشن ہوں ۔ ایک جمہوری نظام حکومت قائم ہو تاکہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ آزادکشمیر کو ایک ماڈل ریاست سمجھیں اور اس کی طرف راغب ہوں۔1950 کی دہائی میں کاروبار حکومت چلانے کے لیے تین بار رولز آف بزنس میں ترمیم کی گئی۔ 1961ءمیں پہلی بار صدارتی الیکشن صدر محمد ایوب خان کے متعارف کیے گئے بنیادی جمہوریتوں (بی ڈی) کے نظام کے تحت منعقد کیے گئے۔ آزادکشمیر کے سیاستدان اور شہری اس نظام سے مطمئن نہ تھے وہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر شفاف الیکشن کے ذریعے ایک جمہوری نظام قائم کرنا چاہتے تھے ۔خطے کے لیے زیادہ سے زیادہ مالیاتی اور انتظامی اختیارات کا مطالبہ بھی کررہے تھے۔چنانچہ 1970ءمیںحکومت پاکستان نے ایکٹ 1970کے نام سے ایک نیا آئین دیا۔پہلا صدارتی الیکشن ہوا اور سردار عبدالقیوم خان صدر منتخب ہوگئے۔انہوں نے آزادی اور ریاضت سے علاقے کو ترقی دینے کی کامیاب کوشش کی۔ آزادکشمیر کے لو گ مطمئن تھے اور نظام حکومت مناسب انداز سے چل رہاتھا لیکن اسلام آباد میں برسراقتدار ذوالفقار علی بھٹو کو سردار عبدالقیوم خان ایک آنکھ نہ بھاتے تھے۔ نوکرشاہی کو بھی یہ گوارہ نہ تھا کہ آزادکشمیر اپنے فیصلے کرنے میں آزادہو۔چنانچہ سردار عبدالقیوم خان کی حکومت معزول کردی گئی۔ انہیں پلندی جیل میں ڈال دیا گیا اورنئے الیکشن کا ڈول ڈالا گیا۔اسلام آبادنے پی پی پی کو مظفرآباد میں اقتدار کے سنگھاسن پر فائز کرکے چھوڑا۔  اسی اثنا میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے آزادکشمیر کا نہایت ہی پیچیدہ نظام حکومت وضع کیا۔ آزادکشمیر کے سیاستدان ہمیشہ سے وزارت امور کشمیر کے خلاف رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیری سیاستدانوں کو لولی پاپ دیا کہ وہ کشمیر کونسل کے نام سے ایک نیا ادارہ تخلیق کررہے ہیں جس کا سربراہ براہ راست وزیراعظم پاکستان ہوگا۔اس طرح آزادکشمیر اور وفاقی حکومت کے مابین رابطہ اور معاملات کو وزیراعظم پاکستان براہ راست دیکھیں گے۔ کشمیر کونسل کو تمام اہم اختیارات بالخصوص ججوں اور الیکشن کمیشن کا تقرر، ٹیکس جمع کرنے سمیت 52امور حوالے کردیئے گئے۔اس ادارہ کا مرکزی سیکرٹری ایٹ اسلام آباد میں قائم کیا گیا۔ جلدہی بیوروکریسی نے وزیراعظم پاکستان کے نام پر اختیارات کا من مانا استعمال شروع کردیا۔آزادکشمیر کے اندر ایک متبادل حکومت قائم کردی۔ خود ہی ترقیاتی منصوبے شروع کردیئے۔ ترقیاتی سکیموں کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جانے لگے۔ آزادکشمیر کے ٹیکس دہندگان سے جمع کیے جانے والے اربوں روپے آزادکشمیر کی حکومت کی رضامندگی کے بغیر صرف کیے جانے لگے۔ عالم یہ ہے کہ کونسل نے 1700سے اوپر ملازمین کی ایک فوج بھرتی کرلی۔اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑمڑ اپنوں کو دے کے مصداق جو کوئی کونسل کا سربراہ بنتا وہ اپنے دوست احباب کو خوب نوازتا۔دکھ اس بات کا ہے کہ اختیارات کا غلط استعمال وزیراعظم پاکستان کے نام پر ہوتا اور وزیراعظم پاکستان کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔ کشمیر کونسل نے گزشتہ 44 سالوں میں آزادکشمیر حکومت کے ساتھ جو نارواسلوک کیا اس نے کشمیری سیاستدانوں کو ہی سیخ پا نہیں کیا بلکہ معاشرہ کے فعال طبقات میں یہ نقطہ نظر گہرا کیا کہ وفاقی حکومت ہمیں بااختیار دیکھنا چاہتی ہے اور نہ ہی کشمیریوں پر اعتماد کرتی ہے۔آزادکشمیر کے سیاستدانوں اور سول سوسائٹی نے کشمیر کونسل کے خاتمے کے لیے درجنوں مرتبہ تحریکیں چلائیں۔ حتی کہ پی پی پی کے وزیراعظم چودھری مجید نے پارلیمنٹ ہاو¿س اسلام آباد کے سامنے ایک مربتہ دھرنا بھی دیا لیکن کونسل کے ناخداو¿ں کے طرزعمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔  2010 میں، پاکستان کے آئین میں 18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو بااختیار بنایاگیا تو آزاد جموں و کشمیر میں بھی امیدکی ایک کرن پید اہوئی کہ اب وقت آگیا کہ وہ بھی اپنے اختیارات کے حصول کا مطالبہ کریں۔ سول سوسائٹی کے مختلف گروہوں نے مہمات چلائیں۔ تاہم یہ عمل موجودہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے برسراقتدارآنے سے تیر تر ہوگیا۔انہیں سابق وزیراعظم نوازشریف کی بھی آشیرباد حاصل تھی۔اب امکان ہے کہ اگلے چند دنوں یا ہفتوں میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مظفرآباد جائیں گے اور کشمیر کونسل کے خاتمے کا اعلان کریں گے۔ یہ ایک تاریخی دن ہوگا جس کا انتظار گزشتہ کئی عشروں سے آزادکشمیر کے شہریوں کو تھا۔آزادکشمیر کے لوگوں میں پایاجانے والے احساس کہ ان کا فیصلہ سازی میں کوئی اختیار نہیں نہ صرف ختم ہوگا بلکہ پاکستان کی طرف سے فراہم کیے جانے والے مالیاتی وسائل کا زیادہ بہتر استعمال کرکے یہ خطہ زیادہ سبک رفتاری سے ترقی کرے گا۔ حکومت پاکستان نے موجودہ مالی سال کے لیے پہلے ہی آزادکشمیر کا بجٹ دوگنا یعنی 22 ارب روپے کردیا ہے۔ پن بجلی کے کئی منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ آزادکشمیر کو نیلم جہلم ہائیڈل پاور جنریشن سے بھی ایک روپیہ دس پیسے کے حساب سے رائیلٹی یا واٹر یوززچارجز دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔اسی طرح پاک چین اقتصادی راہداری سے بھی کئی ایک منصوبے لگائے جارہے ہیں جو آزادکشمیر کا نقشہ اور یہاں شہریوں کے تقدیر بدل دیں گے۔  امید ہے کہ اس فیصلے سے آزادکشمیر کی سیاست کا موضوع گفتگو احساس محرومی اور مظلومیت بدل جائے گا۔ اقتصادی طور پر مضبوط اور سیاسی طور پر بااختیار علاقہ پاکستان کے ساتھ زیادہ اعتماد کے ساتھ شریک سفر ہوگا۔علاوہ ازیں کنٹرول لائن کی دوسری طرف بھی مثبت پیغام جائے گا جہاں کشمیریوں کی داخلی خودمختاری اور معمولی سے اختیارات کو بھی مودی حکومت سلب کرنے کے درپے ہے۔