بدھ 21 نومبر 2018ء
بدھ 21 نومبر 2018ء

چاہ بہار بھارت کے حوالے،پراکسی وار کا آغاز۔۔۔۔۔سردار بشیر سدوزءی

      ایران نے چابہار بندرگاہ کو بھارت کے حوالے کر دیا جس سے گوادر کی بندرگاہ کے انتظامی امور اور اسکورٹی کو خطرہ لائق ہو سکتے ہیں جو گوادر سے صرف 90 کلومیٹر دوری پر واقع ہے ۔بظاہر اس پورٹ کے ایک حصے کا آپریشنل کنٹرول انڈیا کے سپرد کرنے کے لیے ہفتہ 17 فروری2018 کو صدر حسن روحانی اور مودی کے درمیان دورہ بھارت کے دوران دلی میں  معاہدے پر دستخط ہوئے۔تاہم ایک مسلمان پڑوسی ملک کی جانب سے  یہ اہم ترین بندرگاہ کشمیریوں کے قاتل اور پاکستان کے دشمن ملک بھارت کے حوالے کرنے کا پہلا قدم ہے ۔گل بھوشن کی گرفتاری کے بعد یہ کوئی راز نہیں  رہا کہ چابہار پہلے بھی انڈیا پاکستان کے خلاف مخبری اور تخریب کاری کے لئے استعمال کرتا رہا۔اب اس کو اس شہر سےہر قسم کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا قانونی  و اخلاقی جواز مہیا ہو گیا ہے ۔ بظار تو بھارت کا اس بندرگاہ کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کی وسیع منڈی تک اپنی مصنوعات پہنچانا بتایا گیا ہے مگر حقیقت یہی ہے یہ دونوں ممالک کا سی پیک کے مقابلے کا پروگرام ہے۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس شہر سے بھارت آسانی کے ساتھ  پاکستان میں جاسوسی سرگرمیوں کو فروغ افغانستان میں تخریب کاری اور خطہ میں دہشتگردی کو فروغ دے گا۔ یہ کام وہ اس سے پہلے بھی کرتا رہا ہے مگر اس کے لئے اس کو راہداری کے وسائل مختصر اور اس پر آنے  والے اخراجات وسیع تھے۔ ایران کی نیت پر ہم شکل نہیں کر رہے مگر یہ بات باعث تشویش ضرور ہے کہ حسن روحانی سے قبل اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک ہفتہ بھارت میں قیام کیا ۔ مسلمانوں کا دشمن اول اور فلسطینیوں کا قاتل دنیا کے خطرے ناک ملک کا وزیراعظم  لو میرج کر نے تو بھارت نہیں آیا تھا اورنہ ہی سیر سپٹا کر نے آیا ۔وہ ایک ہفتہ تک سفارت کاری  ہی کرتا رہا ہوگا ۔اور یہ سمجھنے کے لئے بہت زیادہ دانشمندی کی ضرورت نہیں کہ اسرائیل کی سفارت کاری کا مہور کیا ہے ۔ایران بظاہر اسرائیل کا سخت مخالف اور سفارتی تعلقات سخت کشیدہ ہیں مگر مودی جو اسرائیل کو اپنا دوسرا گھر اور  نیتن یاہو کو بھائی کہتا ہے ۔ دونوں بھائیوں کی ایک ہفتہ تک رازونیاز کی باتوں کے فوری بعد متحرم حسن روحانی یاہو کے بھائی کو ملنے دلی پہنچ گئے بلکہ عنایتوں کی بارش اور اس کے لئے ایران کی سرحدیں کھول دیں تو اس سے شکوک و شبہات پیدا تو ہوں گے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں یو ٹرن تو نہیں آ رہا ۔ محترم حسن روحانی نے انڈیا کا تین روزہ دورے کا آغاز حیدرآباد سے شروع کیا جہاں ایرانی صدر حیدر آباد کی مکہی مسجد بھی گئے اور نماز بھی ادا کی سنی عقائد کی یہ بھارت کی قدیم ترین مسجد ہے جہاں پہلی مرتبہ کسی شعیہ مسلک کے حکمران  نے نماز ادا کی بلا شبہ یہ اچھی روایت  اور مثال ہے ۔عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک حکمرانوں کو ایک دوسرے کے مسالک کی مساجد میں نمازیں ادا کرنی چاہیے تاکہ یہ مثبت پیغام عوام تک جائے ۔ حیدرآباد میں انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو متحد ہو جانا چاہیے اور اگر ان میں اختلافات نہ ہوتے تو امریکہ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ نہ کرتا۔ جب کہ دلی میں دوسری بات کی۔ نریندر مودی سے مذاکرات کے بعد کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں اور دونوں علاقے سے دہشت گردی کا مسئلہ ختم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر تیار ہیں۔۔ اس موقع پر اسلامی ملک کے اہم ترین رہنما نے دہشت گردی کی وضاحت نہیں کی کہ آیا ایران ایک بڑا مسلمان ملک ہونے کے ناطے کشمیر میں بھارتی  ریاستی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھارت کو تیار کرے گا یا بھارت کے ساتھ مل کر کشمیریوں کو ختم کرے گا جن کو بھارت  آزادی کا مطالبہ کرنے پر دہشت گرد کہہ رہا ہے  ۔ کیا بھارت بلوچستان اور کے پی کے سمیت پاکستان میں گل بھوشن بھج کر دہشت گردی بند کرے گا یا پڑوسی ملک میں اس گڑھ بڑھ کو دونوں ملک دہشت گردی نہیں مانتے۔  مودی کا دوست نیتن یاہو فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھے گا یا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔ صدر حسن روحانی نے دلی میں نو معاہدوں کو حتمی شکل دی جن میں سب سے اہم معاہدہ چابہار بندرگاہ کے بارے میں ہے جو انڈیا کی مدد سے تعمیر کیا جا رہا ہے اور یہ پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے صرف 90 کلومیٹر دور ہے۔چابہار بندرگاہ میں انڈیا کی خاص دلچسپی ہے اس نے بہترین سفارت کاری سے اس بندرگاہ کو حاصل کیا۔ اس راستے سے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست افغانستان پہنچ جائے گا  جہاں سے وسط ایشیا ریاستوں کے دروازے تک پہنچنے میں آسانی ہو گی ۔۔ انڈیا افغانستان اور ایران نے گذشتہ برس اس سلسلے میں ایک سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ انڈیا نے افغانستان کو گندم سپلائی کرنے کے لیے اس راستے کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔صدر روحانی نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر مغربی دنیا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی پاسداری کرے گا۔ مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدہ کو مسنوخ کرنے پر زور دیتا ہے تو بھارت جس کے امریکہ کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں اس سلسلے میں ایران کی کوئی مدد کر سکتا ہے یہ ابھی قبل از وقت ہے مگر ممکن ہے ایرانی قیادت کے پیش نظر یہ مسلہ بھی ہو کیونکہ عرب دنیا امریکہ سے تعلقات کی بنیاد پر ایران کو نقصان نہ دیں تو مدد کچھ نہیں کر سکتے ۔ انڈیا اور ایران کی قربت اور افغانستان کے ساتھ سہ ملکی اتحاد اور راہداری کے منصوبے پر پاکستان کو تشویش اورچابہار بندرگاہ پر پاکستان کے خدشات ایک فطری عمل ہے کیوں کہ چابہار اور گوادر، بندرگاہوں پر کام شروع ہو نے کے بعد مودی روحانی خواہش کے مطابق امن نہیں بلکہ خطے کی سیاست  میں طلاطل پیدا ہو گا اور پراکسی وار شروع ہو کی اور ممکن ہے کہ بھارت حسب عادت دہشت گردی کو بھی فروغ دے ۔ تاہم اس صورت کو پیدا ہونے میں ہماری سفارتی پالیسیوں کا بھی کچھ کردار ہے خواہ اس کے کیا مسائل ہیں۔  70 سال میں بھی ہم سفارت کاری کی سمت کو ملک اور کشمیریوں کے مفاد میں ترتیب نہیں دے سکے اسلامی بلاک میں ہمارا جھکاو ہمیشہ عرب کے ساتھ رہا مگر بھارت میں ہزاروں مسلمانوں کے قاتل اور کشمیر میں قتل و غارت کرنے کے باوجود مودی کو سعودی عرب کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دینے پر خادمین  حرمین شریفین سے کوئی یہ سوال پوچھنے والا نہیں کہ مودی نے ایسا کیا کارنامہ انجام دیا کہ اس کو مقدس سرزمین پر اتنی پذیرائی دی گئی ۔متعدد عرب عمارت میں ہندوں کی کتنی تعداد ہے کہ ظہور اسلام کے بعد سے اب تک مندر کی ضرورت نہیں تھا جو اب ہوئی ہے اور مودی جلد ہی اس کا افتتاح کرنے جا رہا ہے ۔ انڈونیشیا کے صدر نے حالیہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران کشمیر کا نام تک نہیں لیا ۔ ماضی میں ایران نے پاکستان سے اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو فروغ دینے کی متعدد بار  کوشش کی ۔صدر آصف علی زرداری نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا ایران نے اپنے حصہ کا کام بھی مکمل کر لیا ہم نے ابھی شروع بھی نہیں کیا۔ گزشتہ  سال مارچ میں ایرانی صدر حسن روحانی کے دورہ پاکستان کے موقعے پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم سالانہ پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا  تھا۔ مگر اسی دوران  بھارتی جاسوس گل بھوشن  کی گرفتاری کے بعد پاکستان اور ایران کے تعلقات میں سرد مہری پیدا ہو گئی ۔ایران پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانا چاہتا تھا لیکن ایران سمجھتا ہے کہ پاکستان ایران سے تعلقات کو وسعت دینے میں سنجیدہ نہیں۔ اس لیے ایران نے انڈیا سے تجارتی تعلقات بڑھانے شروع کر دیے ہیں۔آج ایران انڈیا کو تیل سپلائی کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ اگرچہ دونوں ملکوں نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ تیل اور گیس فیلڈز کے بارے میں مذید پیش رفت ہو گئی یا نہیں البتہ انڈیا جنوبی ایران کے اُن آئل فیلڈز سے تیل اور گیس نکالنے کے لیے کانٹریکٹ حاصل کرنا چاہتا ہے جن کی ممکنہ مالیت اربوں ڈالر ہے۔ برسوں سے جاری مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے مگر سفارتی اور خارجی تعلقات اسی طرح جاری رہتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے ۔  انڈیا ایران اور افغانستان نے مئی 2016 میں بین الاقوامی راہ داری قائم کرنے کا جو معاہدہ کیا  تھا اس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ۔ بھارت  نے گذشتہ سال اس بندرگاہ سے گندم  افغانستان بھیجی ۔ پاکستان کے پڑوس پر سہ ملکی اتحاد پاکستان کو اقتصادی تنہائی کی کوشش ہو سکتی ہے ۔اس میں پاکستان قیادت کا یہ شور بھی پڑوسیوں کو ہوشیار کر رہا ہے کہ  وہ جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے اور وہ خطہ کے ممالک کے لئے  پل کا کردار ہے ۔ پڑوسیوں نے اس پر غور فکر کیا کہ جن کناروں کے لیے  پاکستان پل ہے اُنھیں ہی ختم کر دیا جائےتاکہ اس  کی جغرافیائی اہمیت ہی ختم ہو جائے۔ پھر انہوں نے  اپنے متبادل راستے تلاش کیے جو اب بن رہے ہیں۔‘ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاکستان کی معیشت کے لئے بہت اہم ہے لیکن اقتصادی ترقی کے لیے علاقائی تجارت کو فروغ ہونا ضروری ہے ۔ علاقائی تجارت کا فروغ ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات اور اعتماد سازی کے بغیر ممکن نہیں ۔ چابہار اور گوادر بندرگاہ کے فنکشنل ہونے سے جو پراکسی وار شروع ہو کی اس کا تمام نقصان تحریک آزادی کشمیر کو ہو گا ۔مودی نے زبردست سفارت کاری کے باعث چند ممالک کے سوائے سب کے منہ بند کر دئے تو بھارت کو کون مجبور کرے گا کہ کشمیریوں کو آزادی دے ۔لہذا پاکستان کے پالیسی سازوں اور حریت کو مشترکہ طور پر نئے بیانیہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خون اور عزتوں کی یہ قربانیاں ضائع نہ ہونے جو کشمیری دے رہے ہیں ۔