هفته 22  ستمبر 2018ء
هفته 22  ستمبر 2018ء

معرکہ لودھراں۔۔۔۔۔۔۔۔راحت فاروق ایڈووکیٹ

  پہلے ہم سنتے آئے تھے اور اب دیکھ رہے ہیں ” جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے “ پاکستانی عوام کے مقدر میں ذلت ، بھوک، ننگ اور افلاس لکھنے کی بذعم خود طاقت رکھنے والی قوتیں کب یہ گوارہ کر سکتی ہیں کہ اجلا اور روشن پاکستان عزت اور وقار کے ساتھ دنیا کے ملکوں کی صف میں باوقار انداز سے کھڑا ہو۔ ان قوتوں نے وہ تمام حربے استعمال کئے جس سے پاکستان کے مستقبل کی روشن امید کو تین بار منفی حربوں کے ذریعے اقتدار سے نکال کر عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی مگر ہر تخفیف اور ترغیب سے بے نیاز دھن کے پکے ، قول کے سچے عزم و استقلال کی روشن مثال ، مدبر و دور اندیش سربراہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر استبدادی قوتوں سے نبرد آزما ہونے کا لودھراں کے عوام نے جس طرح جرات مندانہ اظہار کیا اور ہر قسم کی ترغیب و تحریص کو پایہ حقارت سے ٹھکرایا ۔اسے سال 2018ءکے عام انتخابات کے طبل پڑ پڑنے والی پہلی چوٹ کی صدائے باز گشت سمجھا جا سکتا ہے اور تحدیث نعمت کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ  ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنش میں  جیسے ہو غرور ، آئے کرے شکار مجھے  کسی بھی شخصیت کا بڑا پن ، احسان اور نیکی صرف یاد رکھنے میں نہیں بلکہ اس کے عملی ثبوت میں بھی ہے۔ ویسے تو پوری شریف فیملی کے بدترین دشمن بھی اس بات کے معترف ہیں کہ وہ معاشرتی اقدار کے رکھ رکھاﺅ، مروت و لحاظ داری اور انسان دوستی میں مفاداتی رنجشوں سے بلند و بالا ہو کر اعلیٰ روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں، مگر لودھراں کے الیکشن کے بعد جس طرح اس خاندان کے چار بڑے اتفاق سے جو ملک کی حکمران جماعت کی مرکزی قیادت بھی ہیں اکٹھے ہو کر لودھراں کے عوام کا شکریہ ادا کرنے کو پہنچے اس سے دشمنوں کے سینے پر سانپ تو لوٹے ہی مگر اس کے ساتھ ہی بہت سے ہوا خواہوں کی پھیلائی افواہیں بھی دم توڑ گئیں، بقول کسے  حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مر جھا گئے  پاکستان مسلم لیگ (ن) کی لودھراں کے حلقے سے جیت اگرچہ 2018کے سال کی پہلی جیت ہے مگر اس سے پہلے NA-120 اور چکوال کے ضمنی انتخابات کے نتائج نے محترمہ مریم نواز شریف صا حبہ کی مدبرانہ دانش مندانہ قیادت و سیادت کو بھر پور طریقے سے اجاگر کیا اور لودھراں کے حلقے میں جس خوبصورتی سے مخالفین کی حواس باختگیوں کو ہوا دی اور پاکستان تحریک انصاف کی جیتی ہوئی نشست مسلم لیگ (ن)نے جیت کر سال 2018کے انتخابات کی راہ ہموار کر لی۔ حالانکہ تحریک انصاف کی طرف سے بہر پور الیکشن مہم چلائی گئی اور میاں نواز شریف تو الیکشن مہم کے سلسلے میں لودھراں جا ہی نہ سکے مگر میاں نواز شریف وہ مدبرانہ قیادت رکھنے والے سیاست دان ہیں کہ جب وہ سیاست میں آئے حامد ناصر چٹھہ، غلام مصطفی جتوئی، محمد خان جونیجو جیسی شخصیات کا سیاست میں طوطی بولتا تھا مگر انہوں نے ان تمام قد آور شخصیات کو سیاست کے میدان سے باہر پٹخا اور منزل کی جانب ہزار دار و رسن کے باوجود کامیابی سے قدم بڑھاتے گئے اور تین دفعہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے کا شرف حاصل کیا۔ اب ان کی شفیق قیادت اور رہنمائی کے سائے تلے تربیت یافتہ محترمہ مریم نواز کی صلاحیتوں کے اعتراف پر مخالفین بھی مجبور ہو گئے ہیں اگر ضمنی انتخابات کے نتیجے میں ہونے والے جوڑ توڑ کے نئے زاویوں کے ملکی سیاست پر پڑنے والے اثرات کی تاریخ ملحوظ خاطر رکھی جائے تو یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس اب مرکزی سطح پر عملی تجربہ کی حامل نوجوان قیادت میسر آ رہی ہے جو روشن پاکستان کے خواب کو حقیقت بننے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ میاں محمد نواز شریف اور خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے ہمراہ مریم نواز اور حمزہ شہباز کو ساتھ رکھ کر جس طرح لودھراں کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور عوام نے بھی اپنے قائدین کو اپنے درمیان پاکر جو پذیرائی بخشی اور جلسے کی رونق کو دو چند کیا اس سے بحالی عدل تحریک اپنے مثبت منطقی انجام کو پہنچ کر ایک عادلانہ منصفانہ اور مساویانہ نظام انصاف کی خواہش کو عملی روپ دھارتا دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ تاریخ عالم گواہ ہے کہ کسی بھی معاشرے اور قوم کی بقا صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ عدل و انصاف کو لوگ ہوتا ہوا محسوس کریں اور ایوان عدل و انصاف میں رنجیر عدل بلا خوف کھٹکھٹائیں۔  لودھراں کا انتخابی معرکہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سمجھی جانے والی یہ نشست کچھ اپنوں کی غفلت کی بناءپر ہتھیا لی گئی تھی اور اس معرکے میں خیال یہ تھا کہ اس کڑے وقت میں تحریک انصاف میں اس پر قابض و غاصب رہے گی مگر اللہ کے فضل و کرم سے ایسا نہ ہوا اور حق بحق دار رسید والا معاملہ ٹھہرا۔ لودھراں کے جلسے میں عوام جس جوش و خروش سے شریک ہوئے اور اپنے محبوب قائد پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا اسے تحریک بحالی عدل کے سلسلے میں ہونے والے کامیاب جلسوں کی ایک کڑی قرار دیا جا سکتا ہے کوٹ مومن، ہری پور، آزاد کشمیر، شیخو پورہ ، مانسہرہ میں ہونے والا میڈیا کنونشن جو بڑے جلسے کی شکل اختیار کر گیا اور دیگر جلسوں میں عوام کی بھر پور شرکت اس امر کی غماز ہے کہ ملکی اداروں کو اپنے مفاد کی بھینٹ چڑھانے والے جو فیصلے صادر کرتے ہیں کرتے رہیں عوام کی رائے ان فیصلوں کی پابند نہیں وہ اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار و آزاد ہیں اور اداروں کے فیصلے جب اشاروں پر ہونے لگیں تو کبھی کبھی ان کا تارو و پود کچھ اس طرح کھلتا ہے کہ کہے بناءچارہ نہیں رہتا ۔  آپ ہی اپنی اداﺅں پر زرا غور کریں  ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی