هفته 22  ستمبر 2018ء
هفته 22  ستمبر 2018ء

گلکت بلتستان والو ! نءی صبح کی مبارک ہو ۔۔۔۔ارشاد محمود

ارشادمحمود وزیراعظم شاید خاقان عباسی نے ڈرامائی انداز میں گلگت بلتستان کو بااختیار بنانے کے مطالبات نہ صرف تسلیم کرلیے بلکہ وزیراعظم پاکستان کو حاصل تمام اختیارات گلگت بلتستان کی اسمبلی اور وزیراعلیٰ کو منتقل کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ کرکے ہر ایک کو ششدر کردیا۔الحمداللہ ! گلگت بلتستان والوں کی دہائیوں پر محیط پرامن سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر انہیں مل گیا۔ وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز ،گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اوران کی ٹیم کویک اعلیٰ سطحی اجلاس میں مدعو کیا جہاں سرتاج عزیر ریفامز کمیٹی برائے گلگت بلتستان کی سفارشات کے جائزے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان کونسل ‘جس کے خود وزیراعظم پاکستان چیئرمین ہیں‘ کو ختم کرکے تمام اختیارات گلگت بلتستان کی اسمبلی اور حکومت کو منتقل کردیئے جائیں۔  یہ فیصلہ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کے لیے غیر متوقع تھا۔اقتدار کی راہداریوں تک رسائی رکھنے والوں نے اس کالم نگار کو بتایا کہ یہ کوئی آسان فیصلہ نہ تھا۔ وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وزیراعظم  گلگت بلتستان والوں کو اختیارات منتقل نہ کریں۔اس فیصلے کے خلاف لابنگ ہی نہیںگئی بلکہ وزیراعظم کے اختیارات کو بھی بیوروکریسی نے چیلنج کیا ۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبوں اور آزادکشمیر کے برابر حقوق لے لیں۔ اس طرح گلگت بلتستان اپنے فیصلے کرنے میں نہ صرف آزاد ہوگا بلکہ مقامی حکومت بھی رائے عامہ اور وفاق کے سامنے جوابدہ ہوگئی۔وزیراعظم سے کہا گیا کہ ابھی گلگت بلتستان والوں کی استعداد نہیں کہ وہ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاسکیں لیکن وزیراعظم اس طرح کے لنگڑے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ انہیں گلگت بلتستان کے عوام اور منتخب قیادت کی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے۔ گلگت بلتستان وہ بدقسمت خطہ ہے جو گزشتہ ستر برسوں سے سیاسی، آئینی ، مالیاتی اور انتظامی اختیارات حاصل کرنے کی جدوجہد کررہاہے ۔اسے بااختیار بنانے کا عمل ناقابل برداشت حد تک سست روی کا شکار رہا۔ نوکرشاہی کا سکہ یہاں 2009تک چلتا رہا۔ جناب آصف علی زرداری کی حکومت نے گلگت بلتستان کو وزیراعلیٰ، گورنر اور اسمبلی کا تحفہ دیا لیکن اختیارات وزرارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان کے پاس رہن رکھ دیئے گئے۔کشمیری سیاستدانوں بھی دانستہ یا نادانستہ اس خطے کو ملنے والے اختیارات کی راہ رکاوٹ بنتے رہے جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان میںلوگ کشمیر یوں کا نام سننا گوارہ نہیں کرتے۔ گھاگ نوکر شاہی اکثر اپنی بندوق کشمیری لیڈروں کے کندھے پر رکھ چلاتی جو خود اختیارات اور کشمیر کونسل کے خاتمے کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کررہے تھے۔ حکومت پاکستان چاہتی تھی کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنادیا جائے۔ پاک چین راہداری کے پس منظر میں بھی یہ خواہش تھی کہ گلگت بلتستان کی رائے عامہ کو مطمئن کیا جائے۔ گلگت بلتستان سے سی پیک کے مکمل ہونے کے بعد کوئی چار بڑی شاہرائیں گزریں گی جو نہ صرف چین کو پاکستان سے مربوط کریں گی بلکہ تاجکستان کے راستے یہ سلسلہ وسطی ایشیائی ممالک تک جاپہنچے گا۔وزیراعلیٰ حفظ الرحمان نے بتایا کہ سرتاج عزیز اصلاحات کمیٹی برائے گلگت بلتستان کے لگ بھگ بیس کے قریب اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے ۔ہر پہلو سے صوبہ بنانے کے فوائدیا مضمرات کا جائزہ لیاگیا۔بھاری اکثریت کی رائے تھی کہ صوبہ بنانے سے پاکستان کا کشمیر پر اقوم متحدہ میں مقدمہ کمزور ہوگا۔قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی کے مطالبے کو بھی قابل عمل نہیں گردانا گیا۔چنانچہ متبادل آپشنزپر غور کرنے کے بعد وزیراعظم شائد قاخان عباسی اس نتیجے پر پہنچے کہ کونسل کو ختم کردیا جائے اور گلگت بلتستان کی قیادت اور شہریوں پر اعتماد کرکے اختیارات انہیں منتقل کردیئے جائیں۔ یہ کوئی آسان فیصلہ نہ تھا۔ ایک ایک انچ پر اس کی مزاحمت ہوئی۔ وزرات امور کشمیر وگلگت بلتستان اور گلگت بلتستان کونسل کے اعلیٰ عہدے داروں نے وزیراعظم کو اس فیصلے سے باز رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔  بہت کم لوگ کو معلوم ہے کہ گلگت بلتستان کونسل جو اگرچہ ایک نیا ادارہ ہے ‘نے رفتہ رفتہ گلگت بلتستان میں قدم جمانا شروع کردیئے تھے۔ روزمرہ کے سرکاری کاموں میں مداخلت معمول بنتی جارہی تھی حتیٰ کہ وفاق سے ملنے والے مالی وسائل کوبھی کونسل کے کرتا دھرتا دباکر بیٹھ جاتے۔مرضی سے ٹھیکے دیتے اور بھرتیاں کراتے۔ فراخ دلی کے ساتھ کونسل میں ملازمین کی ایک فوج ظفر موج بھرتی کی گئی۔ اس وقت تک 124 ملازمین بھرتی کیے جاچکے ہیں۔ڈیپوٹیشن پر آنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ملازمین کی بھاری تعداد گلگت بلتستان کے بجائے ملک کے دیگر حصوں سے بھرتی گئی جس کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں۔ حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا کہ وہ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کو قومی مالیاتی کمیشن، ارسا اور قومی اقتصادی کونسل میں بھی بطور مبصرنمائندگی دے گی۔ اگلے ہفتے قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس ہورہا ہے جس میںراجہ فاروق حیدر خان اور حفظ الرحمان کو مدعو کیا جاچکاہے تاکہ وہ اہم قومی امور پر رائے دینے کے علاوہ اپنے اپنے خطوں کے مسائل کے حل کے لیے وسائل کا تقاضہ بھی کریں۔ نئے نظام کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی مکمل طور پر بااختیار ہوجائے گی۔اسے قانون سازی کے تمام اختیارات حاصل ہوں گے۔کونسل کی موجودگی میں اسے قانون سازی، مالیاتی اور انتظامی امور کے بہت سارے اختیارات نہیں تھے۔گلگت بلتستان کی حکومت کو کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے قبل اسلام آباد میں مقیم کونسل کے” بابوو¿ں“ کی اجازت درکا ر ہوتی تھی۔55امور پر گلگت بلتستان اسمبلی کوسرے سے قانون سازی کا اختیار نہیں تھا۔ چیف کورٹ ، چیف اپیلٹ کورٹ جوڈیشل کونسل میں ججوں کی تقرریاں، چیف الیکشن کمشنراورایڈیٹر جنرل جیسی اہم تقرریاں بھی وزیراعظم پاکستان اور گورنر کے پاس تھیں۔ عالم یہ ہے کہ جنگلات ‘ معدنیات‘ سیاحت ‘ نصاب تعلیم ‘ محصولات اور ٹیکسز ‘ہوائی اڈوں اور شاہراہوں ‘ بجلی وغیرہ تمام اہم امور پر قانون سازی اورانتظامی اختیارات کونسل کے پاس ہیں۔قانونی طور پر منتخب وزیراعلیٰ کو چیئرمین کونسل، انچارج وزیر کونسل اور گورنر کے سامنے جواب دہ بنادیا گیا۔کہنے کو وزیراعلیٰ چیف ایگزیکٹو تھا لیکن عملاًاسے عضو معطل بنا کررکھاگیا۔نئے نظام کے تحت اب مقامی حکومت پبلک سروس کمیشن قائم کرنے اور سول سروس کے نظام میں اپنی ضرورت سے تبدیلی لانے کے قابل ہو گی۔ ججوں کے تقرر ، ایڈیٹر جنرل سمیت اسے پن بجلی کے چھوٹے منصوبے لگانے، زیر زمین معدنیات کی دریافت ، ٹیکس اور ٹوارازم کے فروغ کے لیے منصوبے لگانے کے اختیارات مل جائیں گے ۔اس طرح وہ بتدریج خودانحصاری کی راہ پر گامزن ہوجائے گی ۔ وہ دن دور نہیں جب سی پیک اور وفاقی حکومت کی مالی معاونت سے گلگت بلتستان کی حکومت کشکول لیے اسلام آباد کی راہداریوں کا طواف کرنے کے بجائے وسائل سے ملامال ہوگی۔ پاک چین راہداری کے اعلان کے بعد اس خطے کی اسٹرٹیجک اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہی نہیںبلکہ امریکہ نے بھی گلگت بلتستان سے گزرنے والی راہداری پر اعتراض کیاہے۔ واشنگٹن اور کئی ایک یورپی ممالک میں گلگت بلتستان کے حوالے سے باقائدہ ادارے قائم کیے گئے ہیں جنہیں وسائل ہی نہیں فراہم کیے جاتے بلکہ پاکستان مخالفت نقطہ نظر بیان کرنے کے لیے پلیٹ فارم بھی مہیا کیا جاتاتاکہ وہ اقتصادی راہداری کے خلاف ایک محاذ کھڑ اکرسکیں۔ جینوا میں انسانی حقوق کونسل کے سال میں تین اجلاس ہوتے ہیں۔ان تینوں اجلاسوں میں گلگت بلتستان کے حقوق اور محرومیوں پر درجنوں سیمینارز اور کانفرنسیوں کا اہتمام کیا جاتاہے تاکہ عالمی اور مقامی رائے عامہ ترقیاتی منصوبوں کے خلاف اکسایاجاسکے۔ امید ہے کہ گلگت بلتستان کو ملنے والے حقوق کے بعد یہ زیریلا پروپیگنڈا نہ صرف غیر موثر ہوجائے گا بلکہ گلگت بلتستان کے عوام اور حکومت زیادہ اعتماد اور جوش وخروش کے ساتھ خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سرگرم کردار ادا کریں گے۔