هفته 22  ستمبر 2018ء
هفته 22  ستمبر 2018ء

اب خطبہ جمعہ پر بھی بندشیں! ۔۔۔۔۔ارشادمحمود

سنا ہے کہ اب اسلام آباد کی مساجد میں ایک ہی خطبہ جمعہ پڑھا جائے گا۔ سیاسی تقاریر نہیں ہوں گی۔خارجہ اور دفاعی امور پر گفتگو کی اجازت نہ ہوگی۔ ہمسائیہ ممالک میں جہاد کی ترغیب نہیں دی جاسکے گی ۔ خاص کر افغانستان کی جان بخشی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں ۔یہ وہ واحد بدقسمت ملک ہے جہاں ہر ملک اور ہر مسلک کے لوگوں نے اپنا زور بازو آزمایا۔  مغرب میں ایک زمانے میں چرچ کا سکہ چلتاتھا۔ حکومتیں اور ریاستیں مذہبی پیشواو¿ں کے حکم کی منتظر رہتی تھیں۔پادریوں نے سیاسی معاملات اور خاص کر امور مملکت پر غلبہ حاصل کرلیا۔ جدید ایجادات اور نئے خیالات کے راستے میں سدراہ اور طرز کہن پر اڑگئے۔ لوگوں نے سمجھایا کہ انسانی سوچ و فکر اور زبان خلق پر پہرے نہیں بٹھائے جاسکتے۔ حیات وقت کے ساتھ ساتھ ارتقائی مراحل طے کرتی ہے۔ نئے حالات اور ماحول کے مطابق زندگی کے رنگ ڈھنگ بدل جاتے ہیں لیکن پادریوں نے ہر دلیل سنی ان سنی کردی۔ لوگ اس طرزعمل سے عاجز آتے گئے۔ رائے عامہ پادریوں کے خلاف ہوتی گئی حتیٰ کہ چرچ اور شہریوں کے مابین طویل کشمکش برپا ہوئی۔بہت خون بہا لیکن بالآخر مغرب نے چرچ کو سیاسی معاملات سے الگ کردیا۔ مغرب میں آج بھی مذہب بعض معاملات میں اہم کردار ادا کرتاہے‘ خاص کر مذہبی اقدار کا خیال رکھاجاتاہے لیکن اسے ریاستی معاملات سے الگ تھلگ کردیا گیا۔ سعودی عرب میں جس تیزی سے تبدیلی اور آزادی کی ہوائیں چلیں کل تک ان کا تصور بھی محال تھا لیکن اب بادشاہ کی سرپرستی میں معاشرے میں کھلا پن آرہاہے۔ تازہ خیالات کو جگہ دی جارہی ہے۔ پابندیاں اٹھی رہی ہیں اور لوگ آزادی سے سانس لینا شروع ہوگئے۔ قریب نوے برس تک جاری رہنے والی گھٹن آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔ایران میں بھی ملائیت نئی نسل کے خوف سے لزرہ براندام ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی کو عوام کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرنا پڑا۔  پاکستان میں جمہوری نظام اور ایک اسلامی دستور ہونے کی بدولت گزشتہ کئی عشروں سے یہ مسئلہ زیربحث نہیں رہا کہ پاکستان کا دستور اسلامی نہیں یا کہ قوانین کو اسلامی ڈھانچے میں ڈالنا ہے۔مذہبی سیاسی حلقوں میں یہ بحث چلتی رہی کہ اسلامی قوانین پر ان کی رو ح کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیے۔ پاکستان کے سیاسی نقشے پر مذہبی جماعتوں کا بڑا فیصلہ کن کردار رہاہے لیکن نائن الیون کے بعد انہوں نے ایک ایسا بیانیہ اختیار کیا جو بظاہر امریکہ کے افغانستان پر حملے اور بعدازاں مقامی آباد ی کو پہنچنے والے نقصان کے پس منظر میں اختیار کیا گیا تھا لیکن دراصل اس نے پاکستان کے اندر شدت پسند گروہوں کو طاقت ور بنایا اور انہیں جوازیت بخشی۔ مساجد اور مدارس میں زیر تعلیم لاکھوں طلبہ کو پرتشدد کارروائیوں کی طرف راغب کیا۔ رفتہ رفتہ معاشرے میں مکالمے اور قانون کے احترام اور انصاف کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کے بجائے لوگوں نے خودہی عدالت اور منصف کا منصب سنبھال لیا۔ بدقسمتی سے علماءکے ایک بڑے طبقے نے محض امریکہ کی مخالفت کے باعث اس بیانیہ کو فروغ دینے میں بھرپور کردار اداکیا۔راقم الحروف نے راولپنڈی اسلام آباد کی جس بھی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی وہاں سخت گیر علماءکو خارجہ ، دفاعی اور سیاسی امور پر تقاریر کرتے پایا۔ اپنے ہی وطن اور ریاست کے خلاف شہریوں کو اکساتے ہوئے پایا۔ بعض مساجد میں تو مخالف فرقے کی باقائدہ تذلیل کی جاتی اور انہیں دائرہ اسلام سے خارج کیا جاتا۔سرکار کی پالیسیوں پر تنقید ہر شہری کا حق ہے لیکن مسجد کا منبر اس کا م کے لیے موزوں نہیں۔اس افراط وتفریط کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہبی جماعتوں کی ملک گیر اپیل ختم ہوتی گئی۔ نوجوان نسل میں ان کی پذیرائی نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ ان کا امیج جنگجو اور خطرناک لڑاکوں کا بن گیا جو دلیل یا مکالمے کے بجائے بندوق اور تشدد کے ذریعے اپنا نقطہ نظر مسلط کرتے ہیں۔مغربی میڈیا نے بھی مذہبی طبقے کا خطرناک اور ناقابل مہم امیج بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان کے حوالے سے عالمی میڈیا میں جو بھی تصویر چھپتی ہے اس میں جلاو¿ گھیراو¿ کرتے ہوئے مذہبی جماعتوں کے پرچم بردار نظر آتے ہیں۔ چنانچہ دنیا میں جہاں بھی جائیں لوگ پاکستان کو ایک خطرناک ملک اور پاکستانیوں کو مہم جو تصور کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ سیاح آنا ہی کم نہ ہوئے بلکہ سرمایاکاروں نے بھی منہ موڑ لیا۔  پاکستان میں معاملات کو مغربی ممالک کے طرز پر نہیں چلایا جاسکتاہے لیکن حکومت کے ان اقدامات کی تائید ضرور کی جاسکتی ہے جو وہ مساجد اور مدارس کو قومی دھارے میں لانے اور ایک نظام میں پرونے کے لیے کررہی ہے۔ اسلام آباد میں سرکاری سطح پر طے کردہ موضوعات پر خطبہ جمہ کا اعلان ایک احسن فیصلہ ہے۔ اسی طرح مجھے خیبر پختون خوا حکومت کی طرف سے درالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کو بھاری مالی امداد دینے اور مساجد کے اماموں کا وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ بہت مناسب لگا۔ابھی مساجد کے اماموں اور مدارس کے ذمہ داران کا ریاستی قانون اور قوائد وضوبط کو تسلیم کرنے میں کوئی اسٹیک ہی نہیں ۔ یہ ادارے شہریوں کے مالی تعاون سے چلتے ہیں۔ اس لیے حکومت کا ان پر کوئی اثر ورسوخ نہیں ہوتا۔ مقامی سطح کی کمیٹیاں مساجد او رمدارس کا انتظام وانصرام سنبھالتی ہیں۔ان کمیٹیوں میں جس مزاج یا نقطہ نظر کے لوگ ہوتے ہیں ۔ اماموں کی اکثریت اسی طرف جھک جاتی ہے۔حکومت کفالت کی ذمہ داری سنبھالے تو یقینا سرکاری پالیسیوں اور حکمت عملی کو بھی خطبات میں پیش نظر رکھنا پڑے گا۔ اس طرح قومی سطح پر فرقہ واریت کا زور ٹوٹ جائے گا اور عبادت گائیں سیاسی کھیل کا حصہ نہیں بنائی جاسکیں گی۔ کے پی کے حکومت کے درالعلوم حقانیہ کے ساتھ معاہدہ کے مطابق وہ اپنے نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے پابند ہیں۔ مالی امداد لینے کے لیے طلبہ کی سوچ وفکر کو زیادہ وسعت دینے کے اقدامات بھی کرنے ہوں گے ۔ باقی حصوں صوبائی حکومتوں کو بھی مساجد اور مدارس کی تعمیر، اماموں کی تعیناتی اور بعدازاں ان کی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیں تاکہ یہ لوگ قومی دھارے کا حصہ بن سکیں اور انہیں یہ احساس نہ ہو کہ وہ خیرات پر پلے ہیں۔