بدھ 21 نومبر 2018ء
بدھ 21 نومبر 2018ء

’’ب‘‘ سے بکری ، ’’ث ‘‘سے ثمر

            جب میں قاعدے کی تعلیم گھر میں حاصل کر کے سکول گیا تو اُستانی صاحبہ نے میرا ٹیسٹ لیا اور ایک ہی سوال پوچھا کہ ب سے ۔۔۔ ؟ میں نے رٹا ہوا جواب دیا کہ بکری ، ویسے اگر یہ فقرہ رٹا ہوا نہ بھی ہوتا توبھی اس زمانے میں یہ بھولنے والی بات نہ تھی کیونکہ قرب و جوار میں ہمیں ہمہ وقت بکریوں سے پالا پڑتا تھا جنہیں اس وقت بڑے شوق سے پالا جاتا تھا ۔ ویسے قاعدے کی ترتیب دینے والوں نے اس زمانے کے لحاظ سے اس لفظ کا صحیح انتخاب کیا کیونکہ یہ ایک ایسی چیز تھی جیسے ہم دیکھ بھی سکتے تھے اور پہچان بھی سکتے تھے ۔ یوں سیکھنے، سکھانے کا یہ عمل بڑا اچھا تھا ۔ چونکہ جس چیز کو آپ پہچانتے ہوں جب اس کے نام کا پتہ چلتا ہے تو اسے سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ پاکستان میں جب محمد خان جونیجو کی حکومت تھی تو ’’ نئی روشنی ‘‘ سکول کے نام سے پاکستان بھر سمیت آزادکشمیر میں بھی ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے گئے جن میں عمر کی قید سے ہٹ کر ان پڑھ لوگوں کو لکھنا پڑنا سکھانے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ یہ سکول عام سرکاری سکولوں کی ہی عمارتوں میں شام کے اوقات میں قائم کیے گئے تھے ۔ اصل مسئلہ ان سکولوں میں ’’ طلبہ ‘‘ کی تعداد پوری کرنا ہوتا تھا ۔ اکثر معلم اپنے بزرگوں یا دور کے رشتے داروں کو ان سکولوں میں داخل کیا کرتے تھے تا کہ مطلوبہ تعداد پوری کی جا سکے اور ان سکولوں کے قائم رہنے کا جواز بھی برقرار رہے ۔ میرے ایک دوست کسی سفارش کی بنیاد پر ان ہی سکولوں میں سے ایک سکول میں معلمین کے انچارج لگ گئے ۔ سرراہ میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کے ماتحت چلنے والے سکول کا حال پوچھا ۔کہنے لگے ایک مرحلہ تو طے کر لیا کہ مطلوبہ تعداد پوری کر لی لیکن محنت بہت زیادہ کرنی پڑ رہی ہے ، میرے دوبارہ سوال کرنے پر انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا ۔ کہنے لگے کہ نئی روشنی سکول کے نصاب میں ’’ ل ‘‘ سے لوٹا لکھا ہوا ہے لیکن ہمارے سکول کے ’’بزرگ طلبہ ‘‘ ل سے ’’کروا ‘‘ پڑھتے ہیں ، کیونکہ ہم انہیں ہر اس لفظ سے بننے والی چیز کا نمونہ بھی دکھاتے ہیں ۔ اب ہم نے انہیں بہت سمجھایا کہ یہ ’’ لوٹا ‘‘ ہے لیکن وہ نہیں مانتے۔ کہتے ہیں دادی جان نے بتایا تھا کہ یہ ’’ کروا ‘‘ ہے ۔ یوں اساتذہ کو ہی یہ کہہ کر ہار ماننی پڑی کہ چلو ’’ کروا ‘‘ ہی رہنے دو (کروا پہاڑی زبان میں لوٹا ہی کو کہا جاتا ہے)۔کوئی 35سال بعد یہ واقعہ مجھے چند ہفتے قبل اس وقت یاد آیا جب ایک نجی سکول میں زیر تعلیم پلے گروپ کے بچے نے ’’ کتے ‘‘ کو دیکھ کر شور مچایا کہ یہ ’’ بکری ‘‘ ہے ، میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ کتا ہے لیکن وہ ماننے کو تیار نہ تھا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ میری ٹیچر نے بکری کی جو نشانیاں بتائی ہیں وہ اکثر اس جانور میں پائی جاتی ہیں ۔ مثال کے طور پرچار ٹانگیں ،دم ،بڑے کان وغیرہ ، لیکن تھوڑی دیر سمجھانے کے بعد وہ سمجھ گیا کہ یہ بکری نہیں لیکن اس سے ملتی جلتی کوئی چیز یعنی کتا ہے ۔  یہ قصے سنانے کا مقصد صاف عیاں ہے کہ چالیس سال قبل ’’ ب ‘‘ سے بکری پڑھائی جاتی تھی تو اس کا معقول جواز تھا کہ اس وقت بکری کی اہمیت تھی اور وہ عام بچوں کی رسائی تک تھیں لیکن اب تو بچوں کی اکثریت نے اس طرح کی چیزیں دیکھی تک نہیں ہیں ۔ یوں بچوں کو چالیس سال ایک ہی لفظ پڑھانے کا نتیجہ کیا نکلے گا ۔ یہ تو ایک ’’ ب ‘‘ کی مثال تھی قاعدے کے سارے حروف تہجی کے معنی ہر سال بدلنے کی ضرورت ہے جس پر کام نہ کیا جا سکا ۔ ہر سال ’’ ب ‘‘ سے نیا لفظ پڑھنے والے بچے جب آپس میں لفظوں کا تبادلہ خیال کرتے تو کئی نئے لفظوں کا انہیں پتہ چلتا ۔ یوں ’’ ث ‘‘ سے ثمر پڑھائے جانے کا اصل مفہوم بھی واضع ہوتا ۔ نصاب سازی کا ایک بڑا فقدان ہے ، چار سال کی عمر میں تین زبانیں سیکھنے والے بچے کو حقیقت میںآپ مادری زبان کے ساتھ ساتھ اردو سے بھی دور رکھ رہے ہیں لیکن یہی بچہ جب اس ریاست میں گریڈ 17کی ملازمت حاصل کرے گا تو وہ اس سرکاری چٹھی پر کیا ’’ نوٹ ‘‘ لکھے گا ۔ جس میں یہ عبارت درج ہو گی ، ’’ اصل ہذا مرسل ہو کر تحریر ہے کہ معاملہ کو یکسو کر کے رپورٹ حکام بالا کو اندر سات یوم بھیجی جائے ‘‘ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ماضی یا مستقبل کی بجائے حال پر نظریں گاڑیں ہوئی ہیں ۔ ہمیں اس بات کا قطعاً علم نہیں کہ بچے کو پڑھا کیا رہے ہیں اور پڑھانا کیا چاہیے ، کئی والدین نے کتابوں کے نام ان کی قیمتوں پر رکھے ہوئے ہیں ۔ مثال کے طور پر ’’550 والی وہ نیلی کتاب لے آنا‘‘ ، لیکن اگر حقیقت سے جائزہ لیا جائے تو اس میں قصور والدین سے زیادہ حکمرانوں کا ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے شاید نصاب سازی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ حکومت اگر نصاب سازی بورڈ کی تشکیل نو کر کے ایجوکیشن رایفارمز جیسے ا قدام اٹھاتی تو شاید نوجوان نسل بہتری کی طرف مائل ہوتی ۔ ورنہ محض ادارے قائم کرنے اور نوکریاں دینے سے بقو ل حکمرانوں کیوقتی طورپر بیروزگاری تو ختم ہو سکے گی لیکن کئی گنا زیادہ بے روزگار پیدا ہوں گے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ’’ ب ‘‘ سے بیوقوف بنانے کا طریقہ ترک کیا جائے اور ’’ ث ‘‘سے ثمر دیا جائے ورنہ جاہلیت کی طرف جانے والے راستے کی ساری رکاوٹیں خود بخود ختم ہو جائیں گی ۔ ’’ب‘‘ سے بکری ، ’’ث ‘‘سے ثمر (Abid Siddique, Rawalakot AJK)     جب میں قاعدے کی تعلیم گھر میں حاصل کر کے سکول گیا تو اُستانی صاحبہ نے میرا ٹیسٹ لیا اور ایک ہی سوال پوچھا کہ ب سے ۔۔۔ ؟ میں نے رٹا ہوا جواب دیا کہ بکری ، ویسے اگر یہ فقرہ رٹا ہوا نہ بھی ہوتا توبھی اس زمانے میں یہ بھولنے والی بات نہ تھی کیونکہ قرب و جوار میں ہمیں ہمہ وقت بکریوں سے پالا پڑتا تھا جنہیں اس وقت بڑے شوق سے پالا جاتا تھا ۔ ویسے قاعدے کی ترتیب دینے والوں نے اس زمانے کے لحاظ سے اس لفظ کا صحیح انتخاب کیا کیونکہ یہ ایک ایسی چیز تھی جیسے ہم دیکھ بھی سکتے تھے اور پہچان بھی سکتے تھے ۔ یوں سیکھنے، سکھانے کا یہ عمل بڑا اچھا تھا ۔ چونکہ جس چیز کو آپ پہچانتے ہوں جب اس کے نام کا پتہ چلتا ہے تو اسے سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ پاکستان میں جب محمد خان جونیجو کی حکومت تھی تو ’’ نئی روشنی ‘‘ سکول کے نام سے پاکستان بھر سمیت آزادکشمیر میں بھی ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے گئے جن میں عمر کی قید سے ہٹ کر ان پڑھ لوگوں کو لکھنا پڑنا سکھانے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ یہ سکول عام سرکاری سکولوں کی ہی عمارتوں میں شام کے اوقات میں قائم کیے گئے تھے ۔ اصل مسئلہ ان سکولوں میں ’’ طلبہ ‘‘ کی تعداد پوری کرنا ہوتا تھا ۔ اکثر معلم اپنے بزرگوں یا دور کے رشتے داروں کو ان سکولوں میں داخل کیا کرتے تھے تا کہ مطلوبہ تعداد پوری کی جا سکے اور ان سکولوں کے قائم رہنے کا جواز بھی برقرار رہے ۔ میرے ایک دوست کسی سفارش کی بنیاد پر ان ہی سکولوں میں سے ایک سکول میں معلمین کے انچارج لگ گئے ۔ سرراہ میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کے ماتحت چلنے والے سکول کا حال پوچھا ۔کہنے لگے ایک مرحلہ تو طے کر لیا کہ مطلوبہ تعداد پوری کر لی لیکن محنت بہت زیادہ کرنی پڑ رہی ہے ، میرے دوبارہ سوال کرنے پر انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا ۔ کہنے لگے کہ نئی روشنی سکول کے نصاب میں ’’ ل ‘‘ سے لوٹا لکھا ہوا ہے لیکن ہمارے سکول کے ’’بزرگ طلبہ ‘‘ ل سے ’’کروا ‘‘ پڑھتے ہیں ، کیونکہ ہم انہیں ہر اس لفظ سے بننے والی چیز کا نمونہ بھی دکھاتے ہیں ۔ اب ہم نے انہیں بہت سمجھایا کہ یہ ’’ لوٹا ‘‘ ہے لیکن وہ نہیں مانتے۔ کہتے ہیں دادی جان نے بتایا تھا کہ یہ ’’ کروا ‘‘ ہے ۔ یوں اساتذہ کو ہی یہ کہہ کر ہار ماننی پڑی کہ چلو ’’ کروا ‘‘ ہی رہنے دو (کروا پہاڑی زبان میں لوٹا ہی کو کہا جاتا ہے)۔کوئی 35سال بعد یہ واقعہ مجھے چند ہفتے قبل اس وقت یاد آیا جب ایک نجی سکول میں زیر تعلیم پلے گروپ کے بچے نے ’’ کتے ‘‘ کو دیکھ کر شور مچایا کہ یہ ’’ بکری ‘‘ ہے ، میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ کتا ہے لیکن وہ ماننے کو تیار نہ تھا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ میری ٹیچر نے بکری کی جو نشانیاں بتائی ہیں وہ اکثر اس جانور میں پائی جاتی ہیں ۔ مثال کے طور پرچار ٹانگیں ،دم ،بڑے کان وغیرہ ، لیکن تھوڑی دیر سمجھانے کے بعد وہ سمجھ گیا کہ یہ بکری نہیں لیکن اس سے ملتی جلتی کوئی چیز یعنی کتا ہے ۔  یہ قصے سنانے کا مقصد صاف عیاں ہے کہ چالیس سال قبل ’’ ب ‘‘ سے بکری پڑھائی جاتی تھی تو اس کا معقول جواز تھا کہ اس وقت بکری کی اہمیت تھی اور وہ عام بچوں کی رسائی تک تھیں لیکن اب تو بچوں کی اکثریت نے اس طرح کی چیزیں دیکھی تک نہیں ہیں ۔ یوں بچوں کو چالیس سال ایک ہی لفظ پڑھانے کا نتیجہ کیا نکلے گا ۔ یہ تو ایک ’’ ب ‘‘ کی مثال تھی قاعدے کے سارے حروف تہجی کے معنی ہر سال بدلنے کی ضرورت ہے جس پر کام نہ کیا جا سکا ۔ ہر سال ’’ ب ‘‘ سے نیا لفظ پڑھنے والے بچے جب آپس میں لفظوں کا تبادلہ خیال کرتے تو کئی نئے لفظوں کا انہیں پتہ چلتا ۔ یوں ’’ ث ‘‘ سے ثمر پڑھائے جانے کا اصل مفہوم بھی واضع ہوتا ۔ نصاب سازی کا ایک بڑا فقدان ہے ، چار سال کی عمر میں تین زبانیں سیکھنے والے بچے کو حقیقت میںآپ مادری زبان کے ساتھ ساتھ اردو سے بھی دور رکھ رہے ہیں لیکن یہی بچہ جب اس ریاست میں گریڈ 17کی ملازمت حاصل کرے گا تو وہ اس سرکاری چٹھی پر کیا ’’ نوٹ ‘‘ لکھے گا ۔ جس میں یہ عبارت درج ہو گی ، ’’ اصل ہذا مرسل ہو کر تحریر ہے کہ معاملہ کو یکسو کر کے رپورٹ حکام بالا کو اندر سات یوم بھیجی جائے ‘‘ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ماضی یا مستقبل کی بجائے حال پر نظریں گاڑیں ہوئی ہیں ۔ ہمیں اس بات کا قطعاً علم نہیں کہ بچے کو پڑھا کیا رہے ہیں اور پڑھانا کیا چاہیے ، کئی والدین نے کتابوں کے نام ان کی قیمتوں پر رکھے ہوئے ہیں ۔ مثال کے طور پر ’’550 والی وہ نیلی کتاب لے آنا‘‘ ، لیکن اگر حقیقت سے جائزہ لیا جائے تو اس میں قصور والدین سے زیادہ حکمرانوں کا ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے شاید نصاب سازی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ حکومت اگر نصاب سازی بورڈ کی تشکیل نو کر کے ایجوکیشن رایفارمز جیسے ا قدام اٹھاتی تو شاید نوجوان نسل بہتری کی طرف مائل ہوتی ۔ ورنہ محض ادارے قائم کرنے اور نوکریاں دینے سے بقو ل حکمرانوں کیوقتی طورپر بیروزگاری تو ختم ہو سکے گی لیکن کئی گنا زیادہ بے روزگار پیدا ہوں گے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ’’ ب ‘‘ سے بیوقوف بنانے کا طریقہ ترک کیا جائے اور ’’ ث ‘‘سے ثمر دیا جائے ورنہ جاہلیت کی طرف جانے والے راستے کی ساری رکاوٹیں خود بخود ختم ہو جائیں گی ۔