اتوار 23  ستمبر 2018ء
اتوار 23  ستمبر 2018ء

ایک بڑی اور اہم وکٹ اور پاکستانی سیاست کا المیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر وقاص علی کوثر

  نوجوانوں کے قائد عمران خان کا متوقع بڑی اہم وکٹ گرنے کے اعلان پہ چہرے کا تاثر دیدنی تھا۔زیادہ تعجب نہ ہوا۔گزشتہ ہفتے پردہ سکرین پہ نظر پڑی، تو سابقہ ق لیگی اور موجودہ نون لیگی مشائد حسین سید کو شہباز شریف کی کراچی ائرپورٹ آمد پر شدومد سے ا ستقبال کرتے دیکھا تو ماتھا ٹھنکا۔ کچھ توقف کے بعد ق لیگ کے سابقہ لیڈر ، پرویز مشرف کے میڈیا کوآرڈینیٹر ،پیپلز پارٹی کے کچھ دنوں کے مہمان، جی سی لاہور کے فارغ التحصیل فواد چوہدری کو اسلامی انقلاب کے داعی جناب سراج الحق کے سینٹ الیکشنز بابت بیان کہ” آرڈر اوپر سے  آیا“ پر صدق دل سے دفاع عمرانی کرتے دیکھا تو غالب یاد آے کہ  اتنا تو مجھے یاد ہے کہ کچھ اس نے کہا تھا۔۔۔۔۔ کیا اس نے کہا تھا یہ مجھے یاد نہیں خسرو بختیار اور دیگر سیاسی بصیرت اور بصارت سے لبریز سرایئکی قائدین کو لگ بھگ پندرہ سو سے زائد دن صرف یہ سمجھنے میں لگے کہ موجودہ حکومت سرائیکیوںکی غربت اور محرومیوں سے فارغ البال ہے۔ چھوٹی سی خبر چلی پی ٹی آئی کے سردار نسیم چوہدری شجاعت کی پارٹی سدہار گئے اور یہ بھی سناکہ شہید محترمہ کی رفیق کار فردوس عاشق اعوان کا ”جیا پی ٹی آئی میں لاگے نہیں “ ۔ بات رکتی تو کیا تھا شہر قائد پہ نظر پڑی تو فاروق ستار بھائی کا گروپ، بہادرآباد گروپ،پی آی بی گروپ اور مزید متوقع گروپس ۔۔۔۔ جناب سراج الحق کو میاں نواز شریف کے لتے لیتے دیکھا، پانامہ پہ پر مغز گفتگو فرمائی، طلعت حسین کے پروگرام میںحلال سیاست پہ طبع آزمائی کرتے رہے اور کچھ دیر بعد فرید پراچہ صاحب نے فرمایا کہ سینٹ ووٹ ظفرالحق صاحب کو دیا۔ کے پی کے میں عمران، مرکز میں نواز، پنجاب میں اپوزیشن ، آزادکشمیر میں حکومت ، کمال مہارت سے نباہ ،قابل رشک ٹھہرا۔  خیال آیا کہ کہیں اقبال مرحوم ہماری سیاسی جماعتوں بارے تو نہیں کہہ گئے کہ” محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی“۔ جس ملک کے نوجوانوں کا قائد لوٹوں کی آمد پہ چراغ عطر و صبوح کرے، تین دفعہ وزیر اعظم کی مدت پوری کرتے کرتے رہ جانے والے پنجاب کے لیڈر کو اب سمجھ آ ئے کہ اس ہیجانی کیفیت سے نجات اور ملکی مسئلہ کا پائیدار حل میٹرو اور پلوں میں نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی معاہدے میں ہے بلاول ، زردارری صاحب کے سحر سے سر توڑ کوشش کے باوجود نہ نکل پایا اور (جس شدومد سے پیپلزپارٹی سے لوگ کوچ فرمارہے ہیں اب تو بلاول تقاضا چھوڑ ہی دیں)۔  مذہبی قیادت کا تو حال یہ ہو کہ آج تک یہ طے نہ پایا کہ جمہوری اسلامی سیاسی نظام والا پاکستان کیسا ہو گا ۔مرگ بر گ امریکہ سے لیکر لال قلعہ کی فتح اور پھر باطل مغرب سے ٹکر سے لیکر کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جس سے ہمارے نوجوان مشتعل نہ ہوئے ہوںتونتیجاتاً مغرب سے علمی عقلی اور تحقیقی دوڑ کی بجائے جذباتی اور جنونی پن نے لے لیا۔صبح جو نوجوان امریکہ اور مغرب کو گالیاں رسید فرماتے ہیں دن کو وہی مغربی سفارتخانے کے باہر تسبیح لیے ویزہ کے لگنے کی دعافرما رہے ہوتے ہیں۔        دنیا کی تاریخ میں جتنے سیاسی قائد امر ہوئے وہ اصولوں کی سیاست اور مضبوط سیاسی پیغاما ت کی وجہ سے ہوئے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں کمزور بنیادوں اور پے درپے مارشل لاوﺅں کے نتیجے میں ایک فیملی کلب یا شخصی سحر کا شکار ہو گئیں۔ یوں سیاسی قائدین اورکارکنان کا زیادہ وقت لیڈران کا دفاع کرتے گزرتاہے۔ پیپلز پارٹی سے ندیم افضل چن اور عمران خان کا متوقع بڑی وکٹ چوہدری نثار یا      قمر زمان کائرہ کی شکل میںہونے کا اعلان سیاسی ابتری کا غماز ہے۔ توقع تو یہ تھی کہ ہزاروں مسائل میں گھرے پاکستان کو سیاسی رہنما، داخلی اور خارجی بحرانوں کے چنگل سے آزاد کروائیں گے۔ ملک سے اندر دہشت گردی کے خلاف مضبوط بیانیہ تشکیل دیں گے۔ مایوس نوجوان نسل کو عالمی برادری کے اندر کھوئی ہوئی ساکھ لوٹائیں گے۔ مذہب ہو ، سماج ہو، یا بین الاقوامی معاملات معاشرے کاکوئی قابل بیان بیانیہ نہیں۔ یہ کام سیاسی لیڈر شپ کا تھا، میٹرو بس اور پل پاکستان کے مسائل کا مداوا نہیں۔ دور آمریت میں ترقی کی رفتار جمہوری ادوار سے کوسوں بہتر تھی لیکن معاشی ترقی جب تک سیاسی اور سماجی ترقی کے ساتھ قدم نہ ملا سکے تو حالات عرب ممالک جیسے ہوتے ہیں۔ معمر قذافی کا لیبیا ہو یا بشارالاسد کا شام ہو عبدااللہ صالح کا یمن ہو یا اسیسی کا مصر، یا پھر عرب بہار ہو، مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مضبوط معیشت کے باوجودشکست و ریخت کا عمل رکا نہیں۔ پاکستان سمیت تقریبا تمام امت مسلمہ کا چیلنج سیاسی ہے۔ جس معاشرے نے اپنے بنیادی سیاسی سوالات کے جواب استدلال ،جمہوری بحث و مباحثہ سے حاصل کیے ہوں اس کی بنیاد مضبوط ہے۔  نوجوانوں کے قائد عمران خان ہوں یا غریبوں کے قائد بلاول پنجاب کے شیر شریف ہوں یا اسلامی انقلاب کے داعی سراج الحق صاحب ہوں ، پاکستان کی اکثریتی آبادی کے مسائل کے اوپر کوئی مدلل بات اور جگہ بنانے میں ناکام رہے۔ جسکی مثال منظور پشین کی صورت واضح ہے۔  سیاسی جماعتوں کے مذاکروں کاعنوان دوسری شادی سے کرپشن، غدار، اسٹیبلشمنٹ میرا جج انکا جج۔ کسی بھی مشکل مسئلے کے اوپر سیاسی جماعتوں کا موقف اسوقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ مسئلہ کشمیرہو ، پاکستان، ہندوستان کے تعلقات ہوں ، افغانستان ہو ، دہشت گردی ہو یا پاک امریکہ تعلقات ہوں سیاسی جماعتیں اس کام سے دستبردار ٹھہریں۔انہیں جب حکومت ملتی ہے تو اہم مسائل پر ہوم ورک اور استعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ مولانا مودودی کی جماعت اسلامی ہو یا ذوالفقار بھٹو کی پی پی پی، وہ وقت گیا جب ان کے پاس مضبوط لٹریچر اور تربیتی نظام تھا۔ جس سے پارٹی ایک مضبوط ادارے کے طور پر پہچانی جاتی تھی۔ لیکن اسی لٹریچر اور سیر حاصل بیانیہ کے فقدان کیوجہ سے پاکستان کی سلامتی اور اہم ترین امور میں سیاسی قیادت کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ تمام جگہ جہاں سیاسی بیانیہ کارگر ہوتا بالا آخرسیاسی نا اہلی کی وجہ سے سٹریٹیجک بن گیا۔اسی وجہ سے پاکستان کے بالادست ادارےجو پالیسی بناتےان میں سٹریٹیجک زاویہ حاوی اشتراکی نقظہ کم ہوتاہے۔   اہم ترین ایشو پاک امریکہ تعلقات کے اوپر پاکستانی سیاسی ، جماعتوں نے شاید ہی کوئی پرمغز گفتگو اور پالیسی بنائی ہو۔ افغانستان جیسے اہم اور سنگین حالات کے اوپر سیاسی قائدین نابلد ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے بارے میں سیاسی قیادت پہلے ہی دستبردار  ہوچکی (شنید ہے پاکستان سے مال بردار ٹرکوں کو صرف کابل تک محدود کر دیا گیا)۔ ہر روز سکڑتی بیرونی دنیا سے تجارت کیوجہ پڑوسیوں اور باقی دنیا سے تعلقات استوار کرنے میں ناکامی ہے۔ جو خالصتا سیاسی کام ہے۔تاریخ میں جتنے سیاسی قائدین امر ہوے وہ اصولوں اور موثر سیا سی پیغامات کیوجہ سے ہوئے شخصی آزادیوں کا نعمل ا لبدل سوائے فساد کے کچھ نہیں اوریہ راز قریباً دو ہزار سال قبل سیاسی بزرجمہر افلاطون نے افشاں کیا جس کے بقول ریاست کے مسائل کی کنجی استدلال، مذاکروں، اور علمی بحث کے سوا کچھ نہیں۔سیاسی قائدین کو درباری سے ہٹ کر عوامی سیاست کرنی ہو گی۔ پرانے نظریاتی لوگوں کا سیاسی وفاداری بدلنا سیاسی نظام اور کلچر کے لیے تباہ کن ہوگا۔ عوامی سیاست اور درست مسائل کی نشاندہی ان کا بہترین حل اور ایک مثالی پاکستان کا خواب ہی وہ رستہ ہے جو نہ صرف نوجوان نسل کو امید دلاسکتا ہے بلکہ اس خواب کے خالق کو صحیح عوامی جیت دلا سکتا ہے ۔  بہرحال الیکشن تو آ ن پہنچے پھر وہی وفاداریاں بدلنے کا موسم ،فصلی بٹیرے اڑان بھرنے کو ہیں، الیکشن کمیشن کے انتظامات سے امید ہے اس دفعہ صاف شفاف انتخابات کا نتیجہ پہلے سے بہتر ہو گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کی تین سو بتیس اور صوبائی اسمبلی کی سات سو اٹھائیس نشتوں پہ تقریباً پچاسی ہزار پولنگ سٹیشنز دولاکھ پچاسی ہزار پولنگ بوتھ لگ بھگ نو لاکھ کا عملہ اور تقریبا کروڑ ووٹرز حق رائے دی کا استعمال کریں گے جس میں 44فیصد خواتین ووٹرز ہیں۔کمپیوٹرائزڈ الیکٹورل رولز اور71 ہزار جیو ٹیگنگ سے جڑے پولنگ سٹیشنز بائیومیٹرک جانچ کا نظام اور نتائج کی ترسیل اور مینجمنٹ کا بہتر نظام قابل ستائش ہے۔معذوروںاور خواتین کے لیے پوسٹل بیلٹ بھی امسال متعارف کروایا گیاہے۔