اتوار 23  ستمبر 2018ء
اتوار 23  ستمبر 2018ء

عام انتخابات 2018: فافن کی ابتدائی مشاہداتی رپورٹ کا اجرا

 انتخابی نتائج کے اجرا¿ میں تاخیر اور گنتی کے عمل میں غیر شفافیت کی شکایات کے علاوہ انتخابات کا دن نسبتاً پُرامن اور کسی بڑے تنازعے سے پاک رہا۔ 25 جولائی کو منعقدہ ان انتخابات میں نصف سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ دہشت گردی کے چند بڑے واقعات اور سیاسی تقسیم کا اثر انتخابی مہم پر نمایاں نظر آیا۔  فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافن) سمجھتا ہے کہ نئے انتخابی قانون کے تحت متعارف کرائے جانے والے ریزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کو درپیش مسائل کے باوجود انتخابی عمل کے اہم پہلو¶ں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی جس سے انتخابات پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے ووٹر رجسٹریشن بالخصوص خواتین رائے دہندگان کے انتخابی فہرستوں میں اندراج، انتخابی حلقہ بندیوں میں قانونی تقاضوں کی تکمیل، اور انتخابی مہم کے قواعد پر سختی سے عملدرآمد کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات کیے تا کہ انتخابات کا معیار بہتر بنایا جاسکے۔  عام انتخابات 2018 سے پہلے انتخابی قوانین میں کی گئی اصلاحات اور الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے جیسے اقدامات کے ان انتخابات پر مثبت اثرات دیکھنے میں آئے۔ تاہم الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ اپنے نئے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹوں کی گنتی، اور انتخابی نتائج کی تیاری کے حوالے سے اٹھائے گئے تحفظات دور کرے اور انتخابات کے معیار پر لگنے والے اس داغ کے ذمہ دار تمام اداروں اور اہلکاروں کے خلاف انظباطی کارروائی کرے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے بغیر کسی تفتیش کے سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو رد کرنا انتخابی عمل پر اعتماد بحال کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنے گا جو ملک کو ایک نئے سیاسی بحران کی جانب دھکیل سکتا ہے۔  عام انتخابات 2018 کے دوران انتخابی فرائض سرانجام دینے والے سرکاری اہلکاروں کی تعداد ماضی کے انتخابات کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔ پاکستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے تمام حلقوں کے لیے علیحدہ علیحدہ 849 ریٹرننگ افسران تعینات کیے گئے۔ اس قدر بڑی تعداد کے سبب پولنگ سکیم کی تیاری میں ابتدائی طور پر چند مسائل بھی سامنے آئے تاہم الیکشن کمیشن ان مسائل کو بروقت حل کرنے میں کامیاب رہا۔ مزیدبرآں، 242،088 بوتھوں پر مبنی 85،317 پولنگ اسٹیشنوں میں انتخابی فرائض سرانجام دینے کے لیے 811،491 اہلکار تعینات کیے گئے جنہوں نے پریزائیڈنگ افسران، اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران اور پولنگ افسران کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اسی طرح 371،000 فوجی اہلکاروں نے انتخاب کے دن کو پرامن بنانے کے لیے سکیورٹی کے فرائض سنبھالے۔ البتہ چند سیاسی جماعتوں کی جانب سے فوج کی انتخابات میں تعیناتی کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ انتخابات سے پہلے پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور مستونگ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں 150 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے اور انتخابات کے دن بھی تخریب کاری کے خدشات موجود تھے۔ بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایرانی سرحد کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں پر حملے اور بنوں میں انتخابی امیدوار پر حملوں سے بھی انتخابی ماحول متاثر ہوا۔ البتہ فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعیناتی سے انتخابات کے دن ووٹروں کی بڑی تعداد اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے باہر نکلی جس کی بدولت کوئٹہ میں دہشت گردی اور صوابی میں سیاسی جماعتوں کے  جھگڑے کے اکا دکا افسوسناک واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر انتخاب کا دن پُرامن رہا اور سکیورٹی اہلکاروں نے معمولی نوعیت کے جسمانی و زبانی لڑائی جھگڑوں پر بروقت قابو پالیا۔ انتخاب کے دن ووٹنگ کا عمل بلا تعطل جاری رہا۔ فافن کو اپنے مشاہدہ کاروں کی جانب سے تاحال 37،001 پولنگ اسٹیشنوں کی مشاہداتی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں سے ایک تہائی پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی قواعد و ضوابط کی کم از کم ایک خلاف ورزی فی پولنگ اسٹیشن دیکھنے میں آئی۔ تاہم ان میں سے کئی خلاف ورزیاں معمولی نوعیت کی تھیں جن کے انتخابی نتائج پر اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں مگر الیکشن کمیشن کو انتخابی قانون اور قواعد کے نفاذ کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی کاوشوں کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے 241 قومی اسمبلی کے حلقوں کے عبوری نتائج (فارم 47) کے جائزے کے مطابق انتخابات میں ووٹروں کا ٹرن آ¶ٹ 53.3 رہا۔ پنجاب میں ووٹر ٹرن آ¶ٹ دیگر صوبوں کی نسبت سب سے زیادہ رہا اور 59 فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جو کہ 127 حلقوں کے عبوری نتائج پر مبنی ہے۔ اسلام آباد کے تین حلقوں میں ٹرن آ¶ٹ 58.2 فیصد، سندھ کے 52 حلقوں میں 47.7 فیصد، خیبرپختونخوا بشمول فاٹا کے 50 حلقوں میں 43.6 فیصد اور بلوچستان میں 39.6 فیصد رہا۔ مجموعی طور پر ان حلقوں میں مرد ووٹروں کا ٹرن آ¶ٹ 58.3 فیصد جبکہ خواتین کا ٹرن آ¶ٹ اس سے کہیں کم 47 فیصد رہا۔ عام انتخابات 2013 میں 46.9 ملین ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا جبکہ 2018 میں یہ تعداد 49.48 ملین رہی۔ واضح رہے کہ حتمی نتائج کی تیاری کے دوران پوسٹل بیلٹ پیپر اور انتخابات کے دن مسترد شدہ بیلٹ پیپروں کی تصدیق کے بعد اس ٹرن آ¶ٹ میں معمولی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر قومی اسمبلی کے 35 حلقوں میں جیتنے والے اور دوسرے نمبر پر رہنے والے امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کا فرق ان حلقوں میں مسترد کردہ ووٹوں کے فرق سے کم ہے۔ ان 35 حلقوں میں سے 24 پنجاب، چھ خیبرپختونخوا، چار سندھ اور ایک بلوچستان کا حلقہ شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام ریٹرننگ افسران حتمی نتائج کی تیاری کے دوران اپنے حلقے کے پولنگ اسٹیشنوں پر گنتی سے خارج کیے جانے والے بیلٹ پیپروں کی محتاط طریقے سے جانچ کریں تا کہ کوئی بیلٹ پیپر غلط طور پر مسترد قرار نہ دیا جائے۔ عبوری نتائج کے مطابق این اے دس شانگلہ اور این اے اڑتالیس شمالی وزیرستان ایجنسی کے حلقوں میں خواتین ووٹروں کا ٹرن آ¶ٹ دس فیصد سے کم رہا ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کسی انتخاب میں خواتین کا ٹرن آ¶ٹ مجموع ووٹوں کے دس فیصد سے کم رہنے کی صورت میں الیکشن کمیشن متعلقہ پولنگ اسٹیشنوں یا حلقے کے نتائج کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ انتخاب کا حکم دے سکتا ہے۔ فافن کی یہ ابتدائی رپورٹ ملک بھر سے موصول شدہ مشاہداتی رپورٹوں پر مبنی ہے تا ہم ابھی مزید رپورٹوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ تمام مشاہدہ کاروں کی جانب سے رپورٹیں موصول ہونے کے بعد فافن انتخابات کے جائزے کی تفصیلی رپورٹ جاری کرے گا۔  فافن اس موقع پر پاکستانی ووٹروں، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور انتخابی عمل کے انتظام، نگرانی اور تحفظ کی ذمہ داریاں نبھانے والے تمام افراد کی کاوشوں کو سراہتا ہے اور انتخابی مہم اور انتخابات کے دن دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد سے  ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔