منگل 23 اپریل 2019ء
منگل 23 اپریل 2019ء

حفیظ کیانی بھی چل بسے۔۔عا بد صدیق

عزیز کیا نی حفیظ کیا نی کے بڑے بھائی ہیں اور ان کی پہچان ’’نوائے وقت‘‘ اور’’ پوسٹ آفس کے سامنے دکان ‘‘تھی اور آج بھی ہے۔ان ہی کی پہچان حفیظ کیا نی میں منتقل ہوئی اور پھر آخر دم تک یہی رہی۔حفیظ کیانی میں بھی وہی خوبیاں پائی جاتی تھیں جو ان کے بڑے بھائی میں پائی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ بڑے بھائی کی عدم موجودگی میں وہ سارے کام جو بڑے بھائی کرتے تھے وہ کر لیتے تھے۔اعتماد کی حد تو یہ تھی کہ ان کی جگہ دستخط بھی کر لیتے تھے۔حفیظ کیانی سے واقفیت تو بچپن سے تھی لیکن زیادہ تعلق تب بنا جب وہ بھائی کا ہاتھ بٹانے ان کے پاس آنا شروع ہوئے ۔اس زمانے میں صحافیوں کی تعداد بھی قدرے کم تھی اور جو کچھ تھی وہ اسی’’ دکان ‘‘ کے ارد گرد گھومتی تھی ۔بیان اور خبریں لگوانے کا شوق کس کو نہیں ہوتا لیکن یہ کمال ان ہی بھائیوں کا تھا کہ سب کا شوق پورا کر دیتے تھے۔1991 میں حفیظ کیانی نے صحافتی سفر شروع کیا تو اس سے پہلے آزاد کشمیر میں نوائے وقت اور جنگ دو ہی اخباروں کا راج تھا جن میں سے ایک نوائے وقت کی ایجنسی ان بھائیوں کے پاس تھی ۔روزنامہ خبریں جب آیا تووہ پہلی ایجنسی تھی جو حفیظ کیانی نے لی اس کے بعد 1997 میں روزنامہ اوصاف شائع ہوا تو اس نے کافی شہرت پائی اس اخبار کی ایجنسی اور نمائندگی دنوں حفیظ کیانی کے پاس تھیں ۔یوں تو اس کے بعد اور پہلے بھی بے شمار اخبارات آئے جن کی ایجنسیاں ان کے پاس رہیں لیکن ان کی وجہ شہرت روزنامہ اوصاف کی وجہ ہی بنی اور آخری وقت تک رہی۔چوہدری نذیر کاپرانے اخبار فروشوں میں شمار ہوتا ہے ،وہ 1984 کے عشرے میں راولاکوٹ آیا اور سات سال صرف نوائے وقت اور جنگ ہی فروخت کرتے رہے،اس کا کہنا تھا کہ 35 سال میں نے ان بھائیوں کے ساتھ کام کیا ۔حفیظ کیانی نے ہمیشہ مجھ پر شفقت کیے رکھی ،مشکل وقت میں بھی انہوں نے مجھے مشکل سے نکانے میں کردار ادا کیا ۔ایک عادت سی ہو گئی تھی کہ وہ صبح کس وقت آئیں گے یا شام کو کس وقت چکر لگائیں گے۔اس نے افسردہ لہجے میں بتایا کہ حفیظ کیانی کی کمی پوری نہیں ہو سکتی۔ پاکستان اور آزاد کشمیر سے شائع ہونے والے اخبارات جب بھی مارکیٹ میں آتے بزنس منیجرز حفیظ کیانی سے رابطہ ضرور کرتے ۔بہت سارے اخبارات کی ایجنسیاں ان کے پاس رہیں ۔حفیظ کیانی کا کمال کا تجربہ تھا وہ نیا اخبار مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی بتا دیتے تھے کہ یہ کتنا ایک فروخت ہو گا پھر وہی ہوتا جو وہ سمجھتے تھے۔اپنے فرائض ایمانداری سے نبھاتے تھے۔روز مرہ کے شب و روز کو اپنے تابع رکھتے تھی ۔صبح سویرے شہر میں آنا شام کو دیر تک کام کرنا ان کی زندگی کا حصہ تھا ۔کبھی زندگی میں ہم نے انہیں غصے میں نہیں دیکھا۔پریس کلب کے انتخابات میں ہمیشہ ہم ایک ہی گروپ میں رہے۔انہوں نے کبھی کسی عہدے کے لیے خود اپنے آپ کو امید وار ظاہر نہیں کیا۔جب اجلاس ہوتا تو ان کی خواہش ہوتی کہ کو ئی متنازعہ بات نہ کی جائے یا پھر اتفاق رائے سے امیدواروں کا اعلان کیا جائے۔وہ اگر دل میں کوئی خواہش رکھتے بھی تھے تو اس کا اظہار شاید اس لیے بھی نہیں کرتے تھے کہ کوئی دوسرا ساتھی ناراض نہ ہو جائے۔وعدے کے پکے تھے کبھی یہ نہیں ہوا کہ وعدہ کسی کے ساتھ اور ووٹ کسی اور کو دیا ہو۔ کوئی بڑا ہو یا چھوٹا سب سے تمیز کے ساتھ بات کرتے تھے۔چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ بکھیرتے تھے۔سیاسی ،سماجی ،مذہبی اور کاروباری شخصیات سے ایک جیسے تعلقات تھے کبھی متنازعہ نہیں بنے ۔انسان تھے اگر کبھی کوئی غلطی سرزد بھی ہو جاتی تو اس کا اعتراف بھی کرتے اور ازالہ بھی کر لیتے۔ میری آخری ملاقات تین چار دن پہلے عنایت بیکری کے اس چوک میں ہوئی جہاں دن میں ایک یا ایک سے زائد ان کے چکر لگ جاتے تھے۔اسی چوک میں اخبارات کا سب سے بڑا اسٹال لگتا ہے تقریباً سب ہی اخبارات مل جاتے ہیں ۔ان اخبارات میں سے اکژ کی ایجنسیاں ان ہی کے پاس تھیں اس لیے وہ اکثر اس اسٹال پر آتے تھے۔اب تو اخبارات کی تعداد بھی زیادہ ہو گئی ایک وقت تھا کہ بس وہی اخبارات یہاں بکتے تھے جن کی اکثریت ان کے پاس ہی تھی۔آہستہ آہستہ سرکولیشن کم ہو تی گئی تو انہوں نے بھی پارٹ ٹائم اپنا کام بڑھانا شروع کیا ۔ ایک وقت تھا کہ جس دکان پر ڈائجسٹ اور رسالے کرایے پر پڑھنے کو ملتے تھے وہاں اب ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء بھی مل رہی ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے اخبار اور قاری کا رشتہ ختم نہیں ہونے دیا ۔وہ اپنے پیشے میں بڑے مخلص تھے۔یہی وجہ ہے کہ روزنامہ اوصاف جس کے ساتھ وہ پہلے دن سے تھے آخر تک رہے اور کئی ایوارڈ حاصل کیے۔غازی ملت پریس کلب کے بھی معا ملات میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔بڑے متحرک ممبر رہے ہیں ۔ موجودہ وقت وہ غازی ملت پریس کلب کے سنیئر نائب صدر تھے ۔وہ آزاد جموں و کشمیر یونین آف جرنلسٹس کے ممبر رہے ۔ان کے قریبی ساتھیوں نے دوسری صحافتی تنظیموں کو جائن کیا لیکن انہوں نے بس ایک دفعہ جس تنظیم کی ممبر شپ لی زندگی بھر اسی کے ساتھ رہے۔وہ آزاد جموں و کشمیر پریس فاونڈیشن کے بھی ممبر رہے۔سادگی کے ساتھ زندگی بسر کی ۔انہوں نے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اور ایک بیٹا سوگوار چھوڑے ہیں ۔آزد کشمیر بھر کی صحافتی برادری نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ،موت تو برحق ہے جس نے ہر حال میں آنا ہے لیکن جس شان سے حفیظ کیانی کی موت وارد ہوئی وہ ان ہی کی شان تھی ۔نہ خود تکلیف میں رہے اور نہ گھر والوں کو کسی آزمائش میں ڈالا۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی آخروی زندگی آسان کرے اور ان کے اہل خانہ کو صبر و جمیل عطا کرے۔

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم