بدھ 16 اکتوبر 2019ء
بدھ 16 اکتوبر 2019ء

کافرستان میں چند روز۔۔۔۔عابد صدیق۔۔قسط نمبر 8

یوں تو کلومیٹر کے حساب سے  یہ سفر92 کلومیٹر بنتا ہے لیکن اسے طے کرنے میں کم سے کم پانچ گھنٹے لگتے ہیں۔سڑک ناہموار اور قدرے تنگ ہے۔لیکن تاخیر کی ایک بڑی وجہ وہ حسین و جمیل وادیاں ہیں جو اس سڑک کے اطراف میں ہیں۔بلند و بالا پہاڑ آپ کو ہر موڑپر نئے انداز میں نظر آئیں گے۔سڑک کے کنارے کوئی بورڈ نہیں لگا ہوا کہ آ پ کو پتہ چلے کہ آپ جس جگہ سے گذر رہے ہیں وہ کون سی ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے یا پھر یہ کہ اب کتنا سفر باقی ہے۔ویسے سائن بورڈ یا دوسرے لفظوں میں معلوماتی بورڈ نصب نہ ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ تجسس کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے ہیں کہ پتہ نہیں آگے کیا ہو گا۔اس طرح تھکاوٹ کا احساس بھی نہیں رہتا۔دیر بالا سے کمروٹ تک راستے میں آپ کو ڈھنگ کا کوئی ہوٹل نہیں ملے گا۔بس درمیانہ درجے کے ہوٹل سے آپ کھانا اتنا کھا سکتے ہیں کہ سفر کر سکیں لیکن بہت سارے ہوٹل زیر تعمیر ہیں جو آنے والے دو سالوں میں مکمل ہو جائیں گے۔یہ ہوٹلز گزشتہ چند سالوں میں سیاحوں کی اس علاقے میں زائد آمد کی وجہ سے شروع کیے گے۔کمروٹ ویلی میں داخلے کے ساتھ ہی یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ یہاں آنے کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔دریا کے کنارے بنے اسپاٹ،ٹھیلے اور قدرتی آبشاریں آپ کی تھکاوٹ دور کرلیتے ہیں۔کمروٹ ویلی کاف زیادہ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔جب آپ وہاں داخل ہوتے ہیں تو چھوٹا سا بازار ہے جس کے ساتھ ہی دریا بہتا ہے۔چھوٹے چھوٹے کافی سارے ہوٹل ہیں جہاں خاصا رش رہتا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے وہاں آکر پختہ سڑک ختم ہو جاتی ہے اور اس کے آگے صرف جیپیں ہی جا سکی ہیں۔اکثر سیاحوں کے گروپ جو بڑی گاڑیاں لے کر آتے ہیں یا پھر کار وغیرہ پر سفر کرتے ہیں وہ اپنی گاڑیاں یہی پر کھڑی کر دیتے ہیں  اور آگے کا سفر جیپ پر کرتے ہیں جو یہاں آسانی سے کرایے پر دستیاب ہوتی ہے۔گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے یہاں بے شمار پرائیویٹ پارکنگ ایریا ہیں جو مناسب اجرت پر گاڑیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔یہاں سے ایک سڑک کالام بھی جاتی ہے لیکن دشوار گزار راستہ ہے۔یہاں پر ایک صدیوں پرانی مسجد بھی ہے جس میں ہاتھوں سے کشیدہ کا ری کی گئی ہے۔یہ وہاں کی ثقافت اور کلچر کا ایک نمونہ ہے۔ہم لوگ اس جگہ سے تھوڑا ہی آگے گے۔چند گھنٹے وہاں پر گذارے اور مغرب سے پہلے وہاں سے واپس دیر کی طرف روانہ ہو گے جہاں سے ہماری اگلی منزل مینگورا(سوات) تھی۔دیر کا نام اصل میں دیر قصبہ کی وجہ سے پڑا۔ یہ قصبہ دیر ریاست کا دارلحکومت تھا اور ایک چھوٹا سا شہر تھا جو آج بھی دیر بالا کا ضلعی ہیڈکوارٹر ہے۔ دیر پاکستان کا ایک خوبصورت خطہ ہے۔ دیر پاکستان میں ضم ہونے سے پہلے ایک نوابی ریاست تھی جو ریاست دیر کے نام سے جانی جاتی تھی پھر جب پاکستان میں شامل ہوئی تو دیر کے پورے ریاست یا خطے کو پختونخوا کا ضلع بنایا گیا جو بعد میں 1992 میں مزید دو ضلع میں تقسیم ہوا ایک دیر زیریں اور دوسرا دیر بالا۔ ضلع دیر بالا نواب شاہجہان خان کی ایک سابقہ ریاست تھی۔ 1969 میں یہ پاکستان میں ضم کی گئی اور مالاکنڈ ڈویژن بننے کے بعد1970 میں اس کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔1996 میں ضلع دیر کو مزید دو حصوں لوئر دیر اوراپردیر میں تقسیم کیا گیا۔ یہ ضلع خوبصورت مناظر اور محنت کش افرادی قوت کی وجہ سے مشہور ہے۔ ذرائع معاش میں جنگلات،معدنی دولت،کھیتی باڑی،تجارت اور سمندرپار روزگار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ لوئر دیر یا دیرِ زیریں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک ضلع ہے۔ دیر زیریں پاکستان کے بہت سے خوبصورت علاقوں میں بھی شمار ہے۔ یہ اسلام آباد سے 265 کلومیٹرور پشاور سے تقریبا 180 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ دیر ایک خوبصورت وادیوں کا مجموعہ ہے جو مشرق میں سوات،مغرب-جنوب میں قبائلی علاقہ جات، شمال میں دیر بالا سے لگا ہوا ہے، جنوب میں مالاکنڈ سے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے 26 ضلعوں میں سے یہ ایک اہم ضلع ہے۔ یہاں کے مناظر دلکش اور خوشگوار ہیں۔ اب و ہوا تندرست اور پانی میٹھا اور قدرتی ہے۔ یہاں فصلیں بھی اُگتی ہیں جن میں گندم،جوار یا مکھء،اور چاول اہم فصلیں ہیں۔ یہاں کے عوام سو فیصد مسلمان ہیں اور یہاں پر پشتو زبان بولی جاتی ہے۔اس ضلع کا کُل رقبہ 1583 مربع کلومیٹر ہے،یہاں فی مربع کلو میٹر 570 افراد آباد ہیں،دیہی آبادی کا بڑا ذریعہ معاش زراعت،جنگلات اور ماہی گیری ہے۔ کُل قابِل کاشت رقبہ 116910 ہیکٹیرز ہے۔بہت لمبے عرصے تک یہ ضلع کشیدگی کا شکار رہا جسکی وجہ سے یہاں سیاحت زیادہ فروغ نہ پا سکی۔اب حالات معمول پر آچکے ہیں جس کی وجہ سے سیاحت نئے انداز میں فروغ پا رہی ہے  اور بڑے پیمانے پر سیاح اس علاقے کا رخ کر رہے ہیں۔دیر سے مینگورہ کا راستہ150کلومیٹر ہے۔مسافت چار گھنٹے کی ہے۔سڑک درمیانہ درجے کی ہے۔ہم لوگ راستے میں دو سے زائد مرتبہ رکے ہیں جس کی وجہ سے رات گئے ہم مینگورا پہنچے۔دیر سے مینگورا جانے کے لیے آپ کو چکدرہ سے بائیں مڑنا ہو گا۔چکدرہ سے مینگورہ چالیس کلومیٹر دور ہے۔یہ سوات کا دارلحکومت ہے۔یہاں ایک بات قارئین کی دلچسپی کے لیے بتاتا چلوں کہ اکثر لوگوں کے ذہین میں ہوتا ہے کہ سوات کوئی شہر ہے جو بہت ہی خوبصورت جگہ ہے لیکن حقیقت میں سوات کوئی شہر نہیں ہے بلکہ یہ ایک ریاست تھی جس کا نام سوات تھا۔مینگورہ سوات کا دارالحکومت ہے اور واقعی یہ ایک بہت ہی خوبصورت جگہ ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ ایک تاریخی جگہ بھی ہے اور اب یہاں سیاحت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔(سوات میں ہم نے کیا دیکھا،اس کی کیا تاریخی اہمیت ہے،اگلی قسط میں سیر حاصل معلومات پہنچائی جائے گی)۔(جاری ہے)۔