بدھ 20 نومبر 2019ء
بدھ 20 نومبر 2019ء

روزنامہ”دھرتی“ کے 9 سال مکمل۔۔۔۔عابد صدیق چیف ایڈیٹر

زمانہ ایک ہی رفتار سے چلتا ہے اور  اس کے گذرنے کا بھی ایک ہی طریقہ کار ہے،دن اور رات کے اوقات بھی ایک ہی جیسے ہوتے ہیں بس موسمیاتی تبدیلیاں۔بدلتے ہوئے حالات اور زندگی کے نشیب و فراز ان کے مزاج بدل دیتے ہیں،دن اور رات کی طرح سب شامیں بھی ایک جیسی  ہی ہوتی ہیں لیکن بعض شامیں کسی خاص وجہ تسمیہ سے یاد گار بن جاتی ہیں۔ ان ہی شاموں میں سے ہی ایک شام کی یادیں آج تک بھول نہ پائیں۔سردیوں کا موسم تھا۔کسی اور وجہ سے شہر میں ہی رکنا پڑا۔روز نامہ”دھرتی“ کے نام سے اخبار نکالنے کا اکثر سوچا کرتے تھے۔بس ایک شام چند دوستوں سے مشاورت کی اورروز نامہ”دھرتی“کے اجراء کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔مشاورت سے ہی اوراس کی اشاعت کی تاریخ 24 اکتوبر 2010مقرر کی گئی۔کسی ایسے”بنجر“ شہر سے ”روزنامہ“ کا اجراء کرنا جہاں بے شمار مسائل ہوں،مارکیٹ چھوٹی،وسائل بھی کم ہوں انتہائی مشکل کام ہے لیکن مضبوط ارادے مشکلیں آسان تو کر دیتے ہیں البتہ ختم نہیں کر سکتے۔ اخبار کی اشاعت کے لیے ایک اچھی ٹیم کا ہونا ضروری ہے۔ہمارے پاس ٹیم کہاں سے آتی،جس شہر سے کبھی اخبار نکلا ہی نہ ہو وہاں اخبار کی پیچیدگیوں کو سمجھنے والے کہاں سے آئیں گے۔ ہم نے کوشش کی کہ ایک اچھی ٹیم کے ساتھ میدان میں آئیں تو کچھ دیرنہ ساتھیوں کے تعاون سے پیشہ ورانہ ٹیم میسر آسکی۔ٹیم ممبران میں کئی ایسے تھے جو اس شعبہ میں پہلے کام کر چکے تھے اور کچھ بعض سچے جذبے سے کرنا چاہتے تھے۔یوں اکتوبر 2010 کے اوائل میں شہر سے منسلک ہاوسنگ اسکیم میں کرائے کی ایک عمارت میں دفتر لیا اور کچھ”مخیر“حضرات کے تعاون سے کمپیوٹر اور فرنیچر خرید لیا۔آفس تو سیٹ ہو گیا لیکن اگلہ مرحلہ اخبار کی تیاری،اس کی پرنٹنگ،سرکولیشن اور مارکٹنگ تھی۔سب سے زیادہ مسائل آئی ٹی کے شعبہ کے تھے کیونکہ ہمارے پاس اس شعبہ میں جو لوگ تھے وہ ماہر تو تھے،جذبہ بھی تھا لیکن اخبار کی صنعت سے ناآشناء تھے۔ان میں امجد حسین امجد،طلعت حنیف،کامران اور پھر رضوان عارف قابل ذکر ہیں۔نیوز کا شعبہ قدرے بہتر تھا۔میں بذات خود اور میرے بعض ساتھی  جن میں اعجاز قمر قابل ذکر ہیں مختلف اخبارات میں شعبہ نیوز میں کام کر چکے تھے یوں کچھ اتا پتا تھا لیکن اصل مسلہ آئی ٹی کا ہی تھا۔آئی ٹی کے شعبہ سے سب سے کم وقت میں کسی نے حوصلہ ہارا تو وہ طلعت حنیف تھے۔طلعت نے کام شروع کرنے کے دو دن کے بعد ہی”کورا“جواب دے دیا کہ یہ کام میرے بس کا نہیں اور واقعی ان حالات میں کہ جب ہمیں پتہ ہی نہ ہو کہ اخبار تیار کیسے ہو گا،کون سا سافٹ وئیر استعمال ہو گا،ایک مشکل کام تھا۔کامران نے تو یہ انکشاف کر کے خود ہمیں بھی حیران کر دیا کہ ”میں نے زندگی میں کبھی کوئی اخبار پڑھا ہی نہیں“نہ یہ پتہ ہے کہ اخبار ہوتا کیا ہے،کتنے صفحے ہوتے ہیں لیکن ایک بات حوصلے والی کی کہ ”ہم نکال لیں گے،کام چھوڑ کر نہیں جائیں گے،گئے تو سب اگھٹے ہی جائیں گے“۔اور رضوان تھا کہ سادہ طبعیت اور لمبا قد،وہ  بہت عرصے تک خبروں کی ترسیل کرنے والی معروف  نیو ز ایجنسی”ثناء“ کے بارے میں یہ سمجھتا رہا کہ یہ کوئی خاتون ہے جواسلام آباد سے ہمارے لیے خبریں تیار کر کے بھجتی ہے اور اس کے بارے میں فکر مند بھی تھا کہ وہ کتنا کام کرتی ہے لیکن آفس نہیں آتی۔نیوز کا شعبہ اعجاز قمر کے حوالے کیا گیا جو پہلے بھی اس شعبہ میں کام کر چکے تھے۔ان سے میری شناسائی کوئی 1996 کے عشرے سے تھی مجھے ان کی صلاحیتوں کا کوئی خاص اندازہ نہ تھا لیکن اتناپتہ تھا کہ وہ جو بھی کام کرتے ہیں تو مہارت سے کرتے ہیں اور ان کی زندگی میں ٹھہراؤ ہے جو میری زندگی میں نہیں تھا۔یہ فیصلہ بہت درست ثابت ہوا کہ وہ آج تک”دھرتی“کی ٹیم کا حصہ ہیں اور بلا شبہ اخبار کو اس مقام تک پہنچانے میں ان کا بڑا کردارہے۔اب مارکیٹنگ کا مرحلہ تھا اس کے لیے سہیل خان کا انتخاب کیا گیا۔وہ پہلے درس و تدریس سے وابستہ رہے۔مارکیٹنگ کا انہیں کو ئی خاص تجربہ نہ تھا لیکن اس شعبہ میں کام کرنے والوں کی جو خوبیاں ہوتی ہیں وہ ان میں قدرے پائی جاتی تھیں۔ان ہی خوبیوں کے باعث وہ بھی آج تک ہماری ٹیم کا حصہ ہیں۔کچھ عرصہ پہلے ان کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا لیکن اب وہ صحت یاب ہیں  اور  اب دوبارہ اپنے کام میں مگن ہیں۔انہوں نے بھی”دھرتی“کو اس مقام تک پہنچانے میں بڑا کردار ادا کیا۔جب کوشش کے باوجود اخبار کی تیاری میں مشکلات نے کم ہونے کا نام نہ لیا تو ہم نے آئی ٹی کے اسٹاف ممبران میں سے بعض کو دیگر اخبارات کے دفاتر میں بھیجا تا کہ بنیادی تربیت حاصل کر سکیں۔یوں نو سال پہلے چوبیس اکتوبر 2010 کو روز نامہ”دھرتی“کا  باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ ابتداء میں ایک مہینے تک تو سارا سٹاف اٹھارہ گھنٹے کام کرتا تھا تب اخبار تیار ہوتا تھا لیکن بتدریج کام سیکھتے گئے اور بہتری آتی گئی۔بعد میں ہماری ٹیم میں اور لوگ بھی شامل ہوگئے،جن میں شاہ زیب علی،حارث قدیر،سردار منظور،ساجد انور قریشی، انیق احمد، اسراراعظم، خرم خالق، شفقت اسلم، محمداخلاق،محمد مشتاق، امجد علی چوہدری، فیضان قیوم، احسان الحق،عمر خیام شامل ہیں۔کچھ چھوڑ کر چلے گئے کچھ ابھی تک ہمارے ساتھ ہیں لیکن کام رکا نہیں بلکہ مزید بہتری آتی گئی۔ہمیں خوشی ہے کہ ہمیں چھوڑ کر جانے والے بہتر رزق کی تلاش اور زندگی میں آگے بڑھنے کی لگن لیکر گئے، رضوان عارف اور طلعت حنیف آئی ٹی کے شعبہ میں ہی سعودی عرب چلے گے۔طلعت حنیف کا دل وہاں بھی نہ لگا اور واپس آگے، اب اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ سردار منظور صدارتی سیکرٹریٹ میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، محمد کامران آئی ٹی سے متعلقہ ہی اپنا کاروبار کر چکے ہیں جو کہ اس کی دیرینہ خواہش تھی، ساجد انور قریشی جو کہ اس وقت سی اے کے طالب علم تھے آجکل ایک قومی سطح کی آڈٹ کمپنی کے ساتھ منسلک ہیں، حارث قدیر ایک لمبے عرصہ تک شعبہ آئی ٹی کے انچارج بھی رہے اور بطور سب ایڈیٹر کام کیا پھر ”روزنامہ مجادلہ“ کے نام سے اپنا اخبار شائع کیاجس کے وہ چیف ایڈیٹرتھے،جو بوجوہ اب نہیں شائع ہو رہا۔ امجد حسین امجد ہمارے پہلے دن کے ساتھی تھے اور وہ ہماری ہی خواہش پر راولپنڈی سے اپنا کاروبار ترک کرکے راولاکوٹ آئے، ہمارے ساتھ زیادہ عرصہ آئی ٹی کے شعبہ میں وابستہ تو نہ رہے لیکن بطور نمائندہ خصوصی طویل عرصہ تک بہتر طریقہ سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اسرار اعظم نے بطور اکاؤنٹینٹ ہمیں جوائن کیا وہ آج کل اپنا کاروبار کرتے ہیں، انیق احمد بھی بطور اکاؤنٹینٹ کچھ عرصہ ہمارے ساتھ رہے اور آج کل جامعہ پونچھ میں بطور اسسٹنٹ اسٹیٹ آفیسر تعینات ہیں۔ امجد حسین چوہدری بھی اب ہمارے ساتھ نہیں رہے لیکن ایک عرصے تک ہمارے ساتھ کام کیا۔یوں ہمارے ادارے سے وابستہ رہنے والے سبھی ہی سٹاف ممبران زیادہ کامیاب و کامران ہیں جس سے ہمیں فخریہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ”دھرتی“ایک اخبار ہی نہیں اکیڈمی ثابت ہوا جس نے بے شمار لوگوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔  متعدد جامعات کی طالبات نے ہناے ساتھ انٹرن شپ کیا۔9 سال اخبار کی صنعت میں کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہوتا لیکن ان9 سالوں میں روز مہ”دھرتی“نے جومقام پایا وہ بہت کم  اخبارات کو حاصل ہوا۔سرکولیشن میں اضافہ ہوا،اخبار کا معیار پسند کیا گیا اور خبروں،تحقیقاتی رپورٹس،فیچر،تجزیے اور مضامین میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ہم نے شروع سے جو پالیسی اپنائی اس پر قائم رہے اور سرخرو بھی ہوئے۔اس میں شک نہیں کہ یہ سب کچھ ایک ٹیم ورک کی صورت میں ہی میسر آسکا۔بطور خاص ادارہ ان کالم نگاروں کا شکر گذار ہے جن کے کالموں کی تواتر کے ساتھ اشاعت نے اخبار کے معیار کو بلند کیا۔جن میں خاص طور پر معروف کام نگار و ادیب ارشاد محمود،سردار کبیر خان(ابوظہبی)،افتخار گیلانی(نیودہلی)، شجاعت بخاری (مرحوم)(سری نگر)،جسٹس (ر)منظورحسین گیلانی،سردار بشیر سدوزئی (کراچی)،سردار نذر محمد خان،ڈاکٹر محمدصغیر خان،بیرسٹر حمید بھاشانی(کنیڈا)، سردار عبدالخالق وصی ایڈووکیٹ،قمر رحیم (ابوظہبی)، ڈاکٹروقاص کوثر، جمیل احمد،سردار حیات خان (ایڈووکیٹ)سردار پرویز (ناروے) حبیب حسین شاہ ایڈووکیٹ،راحت فاروق ایڈووکیٹ، سید اسد ہمدانی، حاجی زاہد حسین، عبدالخالق وصی،راجہ افضل کیانی (ایڈووکیٹ)، خواجہ شریف،شامل ہیں،ادارہ ان کا شکرگزار ہے کہ انہوں نے تواتر کے ساتھ ”دھرتی“ کے لیے کالم لکھے جنہیں قارئین نے بے پناہ پسند کیا۔مجموعی طور پر پوری ٹیم نے دن رات محنت کر کے جو پودہ لگایا تھا وہ آج 9سال کا ہو چکا ہے۔اب یقینا یہ پودہ پھل بھی دے گا۔قارئین!ہماری پہلے دن سے جو پالیسی چلی آرہی ہے اس پر آج بھی قائم ہیں،کسی دباؤ میں آئے بغیر خبروں کی اشاعت،غیر جانبدارانہ رپورٹنگ،اداروں میں کرپشن کی نشاندہی،اور عوامی مسائل کو ایوان اقتدار تک پہنچانے کی پو ری کوشش کی گئی لیکن اس کے لیے آپ قارئین کے تعاون کی ابھی بھی اشد ضرورت ہے تا کہ نہ صرف اس پالیسی پر عمل پیرا ہوا جا سکے بلکہ مزید بہتری بھی لائی جا سکے۔ہم نے اس شہر بے آواز سے پہلا اخبار شائع کر کے ایک شمع روشن کر دی ہے اور اس روشن شمع کی نہ بجھتی آگ نے مزید روشنی پھیلائی،یہی وجہ ہے کہ2010  میں پورے ڈویژن میں ایک ”دھرتی“ ہی شائع ہوتا تھا آ ج چھ مزید اخبارات شائع ہوتے ہیں۔مقابلے کی فضاء پیدا ہونے سے معیار بھی بلند ہو رہا ہے اور روز گار کے مواقع بھی میسر آرہے ہیں ۔امید ہے کہ قارئین ماضی کی طرح بھر پور تعاون کریں گے تا کہ یہ سلسلہ چلتا رہے اور غریب کی آواز ایوان اقتدار تک پہنچتی رہے۔ روزنامہ”دھرتی“کو پڑھنے والوں کی بڑی تعداد بیرون ملک مقیم ہے جو آن لائن اخبار پڑھتی ہے۔ اخبار کی ویب سائٹ کو بھی جدید طرز پر ڈیزائن کروایا گیا ہے۔ا دارہ ”دھرتی“بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے تعاون کا بھی شکر گذار ہے،یقیناان کے تعاون کے بغیر آگے بڑھنا مشکل کام تھااور یہ ان ہی کے تعاون کا نتیجہ ہے کہ ریاستی اخبارات میں روزنامہ”دھرتی“ واحد اخبار ہے جس کی حالیہ آن لائن ریڈر شپ دیگر اخبارات سے کہیں زیادہ ہے، ساؤتھ ایشیاء کے کئی تحقیقاتی ادارے اپنی تحقیقاتی رپورٹس مرتب کرتے وقت روزنامہ”دھرتی“سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ آن لائن انٹرن شپ بھی کروائی جاتی ہے،ادارہ ان تمام سرکاری اور نیم سرکاری ادارہ جات،کمرشل ادارہ جات اور سیاسی و سماجی تنظیمات اور تاجر حضرات کا شکر گذار ہے جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ”دھرتی“کے ساتھ تعاون کیا جس کی وجہ سے”دھرتی“ایک تن آور درخت بنا۔ہمارے حوصلے سازشوں کے باوجود بلند ہیں اور ہم نے تہیہ کر رکھا ہے کہ روز نامہ ”دھرتی“ بہت جلد ریاست کشمیر کا ایک بڑا اخباربن کر ابھرے گا۔