بدھ 20 نومبر 2019ء
بدھ 20 نومبر 2019ء

سردار خالد ابراہیم خان۔۔۔کچھ یادیں کچھ باتیں۔۔عابد صدیق

 اُن دنوں جب ہم حسین شہید ڈگری کالج راولاکوٹ میں پڑھتے تھے، پڑھتے کم اور طلبہ سیاست میں زیادہ وقت دیتے تھے، طلبائتنظیموں میں یوں تو نصف درجن کے قریب فعال تنظیمات تھیں لیکن زیادہ فعال یا پر کشش دو طلبہ تنظیمیں تھیں۔ ایک پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) اور دوسری نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف)۔اس کے بعد اسلامی جمعیت طلبہ یا پھر دیگر طلبہ تنظیمیں تھیں، راقم این ایس ایف میں تھا اور ایک لمبا وقت رہا لیکن اس دوران پی ایس ایف کے  دوستوں کے طفیل ان  کے ایسے پروگرامات یا دیگر ایسی تقریبات میں شرکت کا موقع ضرور ملتا جہاں سردار خالد ابراہیم خان بھی موجود ہوتے۔ کالج یونینز پر جب پابندی عائد ہو گئی تو طلبہ تنظیمیں بھی زیادہ فعال نہ رہیں، میں بھی اس عرصے میں بوجوہ پی ایس ایف میں شامل ہو گیا تو مجھے آج تک یاد ہے کہ سردار خالد ابراہیم خان نے انگریزی زبان میں مجھے ایک خط لکھا، خط پڑھ کر مفہوم کا پتہ چلانے کی بجائے میں نے از خود ہی یہ مفہوم نکال لیا کہ مبارکباد ہی دی ہو گی، سچی بات یہ ہے کہ ایک تو وہ خط مجھ سمیت میرے کئی ساتھی کو پڑھ کر بھی سمجھ ہی نہ آیا۔آسان الفاظ میں لکھوں تو پڑھا ہی نہیں گیا تھا اور جب پڑھوایا گیا تو آنکھوں میں خوشی کے آنسو ٹپک پڑے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنماء اور سابق وزیراعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو شہید جب پہلی دفعہ راولاکوٹ آئیں تو سیکورٹی فراہم کرنے اور ٹریفک کا نظام سنبھالنے کیلئے پی ایس ایف کے دستے تشکیل دیئے گئے، ٹریفک ونگ کے انچارج محمد رضوی خان (ریٹائرڈ بینک آفیسر) تھے اور راقم بھی اس دستے میں شامل تھا، ہم تین کے گروپ کی جس میں محمد سعید خان(متیالمیرہ) اور ارشد رفیق (حال مقیم ساؤتھ افریقہ) کی ڈیوٹی منگ کے مقام پر لگی،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے راولاکوٹ سے براستہ منگ آزاد پتن تک اس شاہراہ کو ایک دن کیلئے ون وے قرار دیا گیا تھا یعنی راولپنڈی سے راولاکوٹ گاڑی آ سکتی تھی جا نہیں سکتی تھی۔ ہمارا گروپ صبح آٹھ بجے منگ پہنچ گیااور ٹریفک کا نظام سنبھالا، ہمارا ڈریس بھی منفرد تھا، پورا دن لوگ ہمیں دیکھتے اور فقرے کستے رہے۔ دن قریباً 12بجے کے قریب محترمہ بینظیر بھٹو کی گاڑی ایک قافلے میں منگ پہنچی، جہاں ہماری ڈیوٹی تھی۔ منگ میں ایک ہجوم اُمڈ آیا تھا جو بینظیر بھٹو کو قریب سے دیکھنا چاہتے تھے۔ شیڈول میں منگ کے مقام پر کوئی تقریب نہیں تھی اور نہ محترمہ نے خطاب کرنا تھا، منگ شہر سے قریباً ایک کلو میٹر دور خواتین بڑی تعداد میں بینظیر بھٹو کے استقبال کیلئے آئی تھیں اور وہ بالکل سڑک کے درمیان میں آ گئیں، بینظیر بھٹو کی گاڑی میں سردار خالد ابراہیم خان بھی سوارتھے، یا پھر گاڑی چلا رہے تھے (یہ مجھے صحیح یاد نہیں)۔محترمہ اور سردار خالد ابراہیم خان کے درمیان کیا بات ہوئی اس کا بھی اندازہ نہیں لیکن ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ سردار خالد ابراہیم خان نے محترمہ کو ان خواتین سے مختصر خطاب کیلئے کہا لیکن محترمہ نے بوجوہ انکار کر دیا جس کے بعد سردار خالد ابراہیم خان ناراض ہو گئے اور گاڑی سے اتر گے، جس کے بعد منگ سے آگے گاڑی پی پی پی کے سنئیر رہنمائجہانگیر بدر ڈرائیو کر کے لے آئے۔ یہ واقعہ کئی عرصہ تک لوگوں کے ذہنوں میں رہا اور یہی واقعہ پیپلزپارٹی کی تقسیم کا بھی سبب بنا۔ اور سردار خالد ابراہیم نے پی پی پی کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا۔ سردار خالد ابراہیم خان کے سیاسی سفر پر سینکڑوں کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے نظریات سے اختلافات کرنے والوں کی تعداد شاید زیادہ ہو لیکن اس بات سے یہ ثابت ہوا کہ نظریات سے اختلافات سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں اور آج جب وہ ہم سے جدا ہو چکے ہیں تو اختلاف رائے رکھنے والے زیادہ رنجیدہ ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ سردار خالد ابراہیم خان کا موقف ہمیشہ درست ہوتا تھا۔آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ان کی آخری تقریر جن لوگوں نے سنی ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک سے زائد بار یہ الفاظ دہرائے کہ”شاہد اس اسمبلی میں ان کی یہ آخری تقریر ہو“۔ اجلاس ختم ہوا تو کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ یہ بات کیوں دہرا رہے تھے کہ یہ آخری تقریر ہے ابھی اس اسمبلی کو اڑھائی سال باقی ہیں آپ نے کئی مرتبہ تقریر کرنی ہے تو کہنے لگے کہ”ویسے تو زندگی کا بھی کوئی بھروسہ نہیں لیکن سپریم کورٹ کے ججز نے تہہ کیا ہوا ہے وہ کچھ کریں گے اور میں بھی اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اس لیے کیا پتہ وہ نااہل ہی قرار دے دیں اس حساب سے کہ کچھ ضرور ہو گا تو پھر یہ آخری تقریر ہی ہو گی“، وہ ارادے کے بڑے پکے تھے اور اپنے اظہار یا بیانیہ میں بالکل کلیئر تھے۔ یعنی وہ جو بات کہتے تھے اس پر قائم بھی رہتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ تنقید بھی کرتے تھے تو عزت و احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے لیکن کوئی ڈر یا خوف بھی نہیں ہوتا تھا،نہ بات کا کوئی خیال دل یا دماغ میں آتا تھا کہ سامنے کون کس حیثیت میں بیٹھا ہوا ہے۔اکیلے سفر کرنا ان کی عادت تھی اور یہ چیز کبھی آڑے نہیں آئی کہ اس وقت رات ہے یا دن ہے۔بس انہوں نے جو سوچ لیا وہ کر گذرتے تھے۔ان کے قریبی ساتھی بھی ان کی ان عادات کے اس قدر عادی ہو چکے تھے کہ کبھی ان کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنے۔بس یہی عادات ان کو دوسروں سے جدا کرتی تھیں، لیکن مجھے ان کی جو عادت سب سے اچھی لگتی تھی وہ ان کی ”انسان دوستی“ تھی،امیر غریب،چھوٹا بڑا،اپنا پرایا سب ان کے لیے برابر تھے،سب کی عزت یکساں کرتے اور میرٹ سب کے لیے ایک جیسا ہوتا۔ بس اب ان جیسا شاید کوئی نہ مل سکے۔آج ان کو ہم سے جدا ہوئے ایک سال گذر چکا ہے لیکن ان کی باتیں ان کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔موجودہ وقت جب کشمیر کو منقسم کرنے کی نہ صرف سازشیں ہو رہی ہیں بلکہ ان پر عمل بھی ہو چکا ہے،سردار خا لد ابراہیم خان جیسا مضبوط اعصاب کا مالک لیڈر شدت سے یاد آتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی آخروی زندگی آسان کرے اور ان کے چاہنے والوں ان کے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق دے۔