جمعه 24 جنوری 2020ء
جمعه 24 جنوری 2020ء

مخالفین کو انکے گرجانے کانہیں اپنے ہارنے کا خطرہ ۔۔۔۔تحریر: مریم حارث

 اس وقت انسانی معاشرے میں مجموعی طور پر پچاس فیصد سے زائد حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور دنیا بھر میں خواتین اس نظام کے جبر کا سب سے زیادہ شکار بھی ہیں۔ پاکستان و کشمیر میں گزشتہ سال آٹھ مارچ کو اور حال ہی میں طلبہ یکجہتی مارچ کے دوران خواتین اور طالبات کی ایک بڑی تعداد نے سڑکوں پر آکر اپنے مسائل کے خلاف نہ صرف نعرے بازی کی بلکہ پہلے سے مقبول عام نعروں کو ایک ایسا آرٹسٹک رنگ دیا کہ طلبہ یکجہتی مارچ میں کم تعداد میں اپنی شرکت کے باوجود نہ صرف پاکستانی و کشمیری معاشرے میں بلکہ پوری دنیا میں اپنے سیاسی کردار کا لوہا منوایا۔ اس سب سے بڑھ کر اس یکجہتی مارچ نے بیشمار کامیابیاں سمیٹیں۔ پاکستان کے چاروں صوبوں اور کشمیر میں طلبہ یونین کی بحالی، طبقاتی نظام تعلیم اور تعلیم کے نام پر ہونے والے کاروبار کے خلاف ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا، سندھ میں طلبہ یونین کی بحالی کیلئے قانون سازی کا آغاز ہو گیا، پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کے وزیراعظم نے طلبہ یونین کے الیکشن کے انتخابات کیلئے انتظامات کرنے کیلئے احکامات جاری کئے، جبکہ وفاقی حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی اشرافیہ نے طلبہ یونین کو طلبہ کا بنیادی حق تسلیم کیا۔ طلبہ یونین کی بحالی کی حمایت کی گئی۔ قومی و بین الاقوامی میڈیا پر متعدد مضامین لکھے گئے، مختلف رپورٹس بنائی گئیں، ٹاک شوز منعقد کئے گئے۔ غرضیکہ طلباء و طالبات کے نعروں نے نہ صرف ایوانوں میں شور اٹھایا بلکہ شاہراہوں اور گلی کوچوں، جامعات و کالجز میں بھی ایک ہلچل، ایک نیاتحرک پیدا کر دیا۔ یہ مارچ بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام منعقد کئے گئے تھے، ایکشن کمیٹی گیارہ تنظیموں پرمبنی بنائی گئی لیکن اس کمیٹی کے تحت اعلان کردہ طلبہ یکجہتی مارچ کے اندر مجموعی طور پر چوالیس سے زائد بائیں بازو کی ترقی پسند طلبہ تنظیموں نے نہ صرف شرکت کی بلکہ ملک بھر کے پچاس سے زائد شہروں میں ہزاروں طلباء و طالبات، محنت کشوں کی انجمنوں، سول سوسائٹی اور دیگر مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ ملک بھر میں انقلابی سوشلزم کے نظریات کا پرچار کیا گیا۔ اور طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل کو اس انداز سے معاشرے اور حکمران طبقات کے سامنے رکھا گیا کہ کھل کر کوئی دائیں بازو کا سیاسی رہنما بھی اس کی مخالفت نہ کر سکا۔ جہاں سوشل میڈیا پر اسکی بہت زیادہ حمایت کی گئی، وہاں دائیں بازو کی فاشسٹ قوتوں، تنگ نظر قوم پرستوں وغیرہ نے مارچ میں طالبات کی ایک بڑی تعداد کی سرگرم شرکت کو سامنے رکھ کر ایک بے ہودہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ عزت، غیرت،اقدار اورروایات وغیرہ کے نام پر سوشل میڈیا پر یہ باور کروانے کی کوشش جاری ہے کہ خواتین عملی سیاست میں شرکت نہیں کر سکتیں، خواتین کے عملی سیاست میں سرگرم ہونے، آزادی مانگنے، اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے جدوجہد کرنے کے عمل کو بے حیائی، فحاشی، بے غیرتی اور پتہ نہیں کون کون سے القابات سے نوازا جانے لگا۔  اس ساری مہم کیلئے جو جواز تراشے جا رہے ہیں انکی ٹھوس بنیاد کہیں پر نظر نہیں آتی، پاکستان ہی کی قومی اسمبلی سمیت تمام صوبائی اور زیر انتظام علاقوں کی اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشستیں مقرر ہیں، خواتین کو الیکشن لڑنے کی اجازت حاصل ہے اور تمام ہی اسمبلیوں میں براہ راست الیکشن جیت کر آنے والی خواتین بھی موجود ہیں۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عناصر باور کروانا چاہتے ہیں کہ سیاست کرنا صرف حکمران طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کا حق ہے، محنت کش، محروم و محکوم طبقات اور پرتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سیاست میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔ ملک کے تمام تر شعبوں میں خواتین کے کام پر کوئی پابندی عائد نہیں، خواتین کو کمرشلائزیشن اور سرمائے کی حوس میں استعمال کرنے والے حکمران طبقات اور سرمایہ داروں کو انکے استحصال کی، انکی محنت لوٹنے کی، انہیں ایک جنس بنا کر مارکیٹ میں فروخت کرنے تک کی اس معاشرے میں مکمل آزادی موجود ہے، جس کے خلاف بائیں بازو کے نظریات کی حامل ان خواتین نے نعرے لگائے اور حکمران طبقات کے ہی پروردہ عناصر نے ان کے خلاف ایک مہم شروع کر دی۔ دوسرے لفظوں میں اگر کہا جائے تو یہ تمام تر پروپیگنڈہ حکمران طبقات کے مفادات کے تحفظ، حکمران طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کی اجارہ داری کو برقرار رکھنے، سرمایہ داروں کی لوٹ مار، عورت کو جنس بنانے، اسکا استحصال کرنے، اسے فروخت کرنے سمیت مختلف مصنوعات کی تشہیر کیلئے اسکے جسم کو ایک نمائشی اوزار کے طورپراستعمال کرنے والے سرمایہ داروں اور حکمران طبقات کے خلاف اٹھے والی آوازوں کو دبانے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا جا رہا ہے کہ خواتین تعلیم حاصل کر سکتی ہیں، اس کی بنیادپر حکمرانوں کیلئے ایک کارآمد مزدور بھی بن سکتی ہیں، لیکن اپنی تعلیم حاصل کرنے کے حق کا دفاع نہیں کر سکتیں، اپنی تعلیم کیلئے نصاب سازی کے عمل میں شراکت دار نہیں بن سکتیں، دوسرے لفظوں میں یہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے، کیا پڑھنا چاہیے، کیسے زندگی گزارنی چاہیے اور کون کون سے حقوق انہیں ملنے چاہئیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ عناصر انہیں ایک مکمل انسان کا درجہ دینے سے ہی انکار کرتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو خواتین کا انسانی معاشرے کے موجودہ حالت تک پہنچانے میں ایک کلیدی اور سرگرم کردار اور حصہ موجود ہے، یہ کہنا بے جا نہ ہوتا کہ خواتین کی عملی شراکت اور سماجی کردار کے بغیر دنیا میں موجود ذرائع پیداوار کی ترقی، وسائل کی بہتات اور ٹیکنالوجی کی بہتات کا حصول ممکن ہی نہیں تھا۔ زراعت کے آغاز  سے لیکر دنیا کے تمام تر انقلابات، بغاوتوں اور تحریکوں حتی کہ جنگوں میں بھی خواتین کے کردار کو منہا نہیں کیا جا سکتا۔ مزدوروں کیلئے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کا حصول ہو، انقلاب فرانس، انقلاب روس یا پھر اس وقت دنیا بھر میں رونما ہونے والے انقلابی واقعات، بغاوتیں اور تحریکیں ہوں ان میں سے اگر خواتین کے عملی کردار کو نکال دیا جائے تو شاید یہ تمام واقعات رونما ہی نہ ہو پاتے۔ اسوقت اگر مصر میں ابھر نے والی 2010ء کی انقلابی تحریک کو دیکھا جائے، سوڈان، لبنان، ایکواڈور، چلی، بولیویا، ایران میں عالمی مالیاتی نیو لبرل پالیسیوں، سامراجیت اور سرمایہ دارانہ حاکمیت کو چیلنج کرنے والی تحریکوں کو دیکھا جائے تو ان تمام تحریکوں میں بغاوت کے نشان کے طور پر خواتین سب سے نمایاں ہیں۔ سب سے بڑھ کر اگر بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں ابھرنے والی نوجوانوں کی تحریک میں بھی خواتین اور طالبات کی عملی شرکت نے ایک نیا رنگ اور نئی جہت ڈالی جس کی وجہ سے جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک کو نہ صرف انڈیا اور پاکستان کے محنت کشوں اور طالب علموں میں نہ صرف حمایت ملی بلکہ اس کے اثرات انڈیا اور پاکستان کے طالبعلموں اور نوجوانوں پر بھی اسطرح سے پڑے کہ آج برصغیر بھر میں آزادی کا نعرہ ایک مقبول عام نعرہ بن چکا ہے۔ اس ساری کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین پر مشتمل معاشرے کی نصف آبادی کی سیاست میں عملی مداخلت اور اس نظام کے خلاف سرگرم جدوجہد کے بغیرنہ تو اس کرہ ارض کے ننانوے فیصد محروم اور محکوم طبقات کو حقیقی آزادی سے سرفراز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس معاشرے کو اس سے آگے بڑھانے کیلئے کوئی حقیقی ٹھوس اقدام اٹھایا جا سکتا ہے۔ خواتین معاشرے کا نہ صرف نصف حصہ ہیں بلکہ وہ ایک مکمل انسان ہوتے ہوئے کائنات کی تسخیر کے عمل میں برابر کی حصہ دار بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظام کو تبدیل کرنے، حقیقی انسانی معاشرے کے قیام کیلئے خواتین کا عملی کردار بھی ناگزیر ہے۔ آج جو لوگ مختلف تعصبات کو استعمال کرتے ہوئے خواتین کی سیاست سمیت معاشرے کی ہر سرگرمی میں برابری کی مداخلت کے خلاف سرگرم عمل ہیں وہ دوسرے لفظوں میں حکمران طبقات کے اس نظام کو جاری رکھنے کے منصوبے میں شعوری یا لاشعوری طور پر حصہ دار ہیں بلکہ انکی جانب سے خواتین کو کمزور، ناتواں اور کم عقل قرار دینے کی تاویلیں دراصل اس خوف کا اظہار ہیں کہ خواتین جن سیاست سمیت معاشرے کی ہر سرگرمی میں عملی مداخلت کریں گی تو مقابلہ بازی پر مبنی اس نظام میں یہ عناصر ان خواتین کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہونگے اور خواتین ہر میدان میں ان سے آگے نکل جائیں گی۔ لیکن اصل میں خواتین کی آزادی سمیت اس معاشرے کی اکثریتی عوام کی حقیقی آزادی اس مقابلہ بازی پر مبنی استحصالی نظام کے خاتمے میں مضمر ہے، جس میں خواتین مقابلہ کر کے کسی سے آگے نکلنے کی جدوجہد میں نہیں مصروف ہیں بلکہ اس نظام کی ذلتوں اور استحصال کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ اس لئے خواتین کی عملی سیاسی جدوجہد میں شرکت، انقلابی سوشلزم کے نظریات کی بنیاد پر مرد محنت کشوں اور طالبعلموں کے شانہ بشانہ معاشرے کو آگے لے جانے کا سفر اصل میں اس کرہ ارض کو درپیش خطرات سے نکالتے ہوئے اسے انسانیت کا گہوارہ بنانے اور تمام انسانوں کو ایک بہتر انسانی زندگی فراہم کرنے کا باعث بنے گی۔ اس نظام کو اس وقت تک شکست نہیں دی جا سکتی جب تک اس کے مظالم اور بربریت کا شکار ہر سماجی پرت اس کے خلاف بغاوت پر تیار نہیں ہو جاتی۔ طالبات اور خواتین نے جس سرخ پھریرے کو اٹھا کر سیاسی میں عملی شرکت کا اعلان انتیس نومبر کو کیا ہے وہ بہر صورت آگے بڑھے گا، نہ صرف طلبہ یونین کو بحال کروایا جائے گا، نہ صرف نظام تعلیم کو ترتیب دینے میں طلبہ کی جمہوری شراکت کا حق حاصل کیا جائے گا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر طلبہ، مزدور، کسان اتحاد کو یقینی بناتے ہوئے اس نظام کو اکھاڑ پھینکتے ہوئے طبقات سے پاک معاشرے کے بنیادیں ڈالی جائیں گی جو دنیا بھر کے عام انسانوں کیلئے روشنی کا مینارہ ثابت ہوگا۔ اب ٹوٹ گریں کی زنجیریں، اب زندانوں کی خیر نہیں جو طوفاں جھوم کے اٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم