پیر 08 مارچ 2021ء
پیر 08 مارچ 2021ء

محکمہ پولیس ایک نڈر اکمانڈر سے محروم ہو گیا۔۔۔۔۔عابد صدیق

بعض عہدے  ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے متعلق جان کر خود بخود ذہین میں اس کا ایک خاکہ آجاتا ہے کہ فلاں بندہ کس طرح کا ہو گا،اس کا قد کتنا ہو گا،اس کی گفتگو اس کا دوسروں سے روایہ کیسا ہو گا۔پھر کسی تجربے،مشاہدے یا ملاقات کے بغیر ہی ہر کوئی اس عہدے پر فائز آفسر یا اہلکارکے بارے میں ایک رائے قائم کر دیتا ہے،ذہن میں خاکہ تیار کر دیتا ہے اور یہ رائے اس وقت تک قائم و دائم رہتی ہے جب تک اس ”شخصیت“ سے ملاقات نہیں ہو جاتی اور پھر یہ ثابت نہیں ہو جاتا ان عہدوں کے پیچھے چھپی شخصیت ضروری نہیں کہ آپ کی سوچ سے مطابقت رکھتی ہو  آپ کے تیار کردہ خاکے سے مشاہبت رکھتی ہو بلکہ یہ شخصیت آپ کی سوچ سے بڑھ کر اس آسامی کی اہل ہو، تب انسان سوچتا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز نا ممکن نہیں ہے اور آپ کی اہلیت و صلاحیت اپ ہی سب پر حاوی ہے۔         پلندری کے ایک دور آفتادہ بلکہ قدرے پسماندہ گاوں بھاگپورگوراہ  میں پیدا ہونے والے بچے کی پرورش بھی ایک متوسط گھرانے میں ہوئی۔وثوق سے تو نہیں کہا جا سکتا کہ پیدائش کے بعد والدین نے کس طریقے سے جشن منایا ہو گا لیکن اس وقت کے رسم و رواج یہی بتاتے ہیں کہ پورے گھرانے نے مل کر خوشی منائی ہو گی  اور پھر رشتے میں ہی کسی خاتون کی تجویز پر اس بچے کا نام الیاس رکھا گیا  ہو گا جو بعد میں محمد الیاس خان بن گیا۔ واجبی سی تعلیم حاصل کی  لیکن ارادے اور منصوبے ہمیشہ پختہ رکھے۔اسکول ہو یا گھر، پڑھانے اور تربیت کرنے والوں دنوں کو بس ایک ہی شکایت رہتی کہ ”بچہ شرارتی ہے“۔گھر سے بھی ڈانٹ پڑتی لیکن بچہ تھا کہ جو من میں جوآتا کر گذرتا۔ایک وقت آیا کہ سب ہی اس بات پر متفق ہو گئے کہ ”بچہ ہے بڑاہو کر ٹھیک ہو جائیگا“۔شرارتوں سے بھر پور بچپن گذارنے والے اس بچے کے مستقبل کی کسی کو کوئی فکر بھی نہیں تھی بس سب کی یہی رائے تھی کہ”تیز طراز ہے بڑا ہو کر کچھ بن جائے گا“۔        مقامی گاوں میں تعلیم کی معقول سہولت نہ تھی تو اس بچے نے عمر کے ساتھ ساتھ گھاٹ گھاٹ کا پانی بھی پیا اور دور دراز جا کر کھٹن حالات میں تعلیم حاصل کی۔ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی پوشیدہ ہوتی ہے جو اس کے گھر والوں کو بھی کم ہی نظر آتی ہے اس نوجوان میں بھی ایک خوبی تھی کہ وہ طنز و مزاح کا بادشاہ تھا۔وہی بچپن کی شرارتیں اب طنز و مزاح  میں بدل چکی تھیں اور اس منفرد خوبی نے اس نوجوان کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیا کیونکہ وہ جہاں بھی جاتا تھا ایک بڑا حلقہ احباب اس کا منتظر رہتا۔کالج سے لے کر جامعہ تک اور پھر محکمہ تعلیم کی سروس سے لے کر پولیس کی سروس تک محمد الیاس خان ایک ”ٹریڈ مارک“ بن گیا تھا۔یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرتے ہی وہ سروس میں آگیا اور پھر سروس کی انتہا کو چھو کر سب کو بے وقت تنہا چھوڑ گیا۔       محکمہ تعلیم میں کچھ عرصہ خدمات سرانجام دینے کے بعد محکمہ پولیس آزاد کشمیر میں بطور آفیسر بھرتی ہو۔ا غالباًیہ 2004 کا سال تھا۔جب تربیت کے لیے سول سروس اکیڈمی میں گیا تو ان کے ساتھ اس بیج میں محکمہ پولیس آزاد کشمیر کے چار دیگر آفسران بھی ٹرینگ کے لیے گئے۔ ان میں عرفان مسعود کشفی،سجاد حسین،راشد نعیم اور شہریار سکندر شامل تھے (یہ بیج غالباًٍواحد تھا جس میں اتنی بڑی تعداد میں محکمہ پولیس آزاد کشمیر  کے افسران شامل تھے)۔یہ سارے ہی افسران اب ڈی آئی جی کے عہدوں پر فائز ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس شان جرت اور بہادری سے سردار محمد الیاس خان نے پولیس میں خدمات سرانجام دیں وہ کم ہی کسی کے حصے میں آتی ہیں۔سردار محمد الیاس خان کی زندگی کے مختلف گوشے تھے۔وہ ایک بالکل الگ شخصیت کے مالک تھے۔دوستوں کے دوست تھے،منہ پر بات کہنے کا فن ان سے زیادہ کسی کو نہیں آتا تھا،جائز بات پر ڈٹ جانا،بظاہر ماتحتوں سے غصہ کرنا اور پھر انہیں کبھی نقصان نہ پہچانا ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔وہ ہر کسی سے گھل مل جاتے تھے لیکن پہلی ملاقات میں ہی بندے کو اس قدر پرکھ لیتے تھے کہ اس بندے سے متعلق ان کی قائم کی گئی رائے کم ہی غلط ثابت ہوتی تھی۔جس بندے سے مزاج مل جائے تو بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔         سروس کا ایک بڑا حصہ انہوں نے راولاکوٹ میں گذارا،مختلف عہدوں پر فائز رہے،دوران سروس بہت مشکل مشکل دور بھی ان پر آئے لیکن وہ بہت ہی پیشہ ورانہ طریقے سے ان مشکلات سے نمٹے۔جب وہ سنیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی)راولاکوٹ تھے تو ڈپٹی کمشنر ظفر محمود تھے۔عدلیہ اور انتظامیہ کا ایک معاملے پر جھگڑا پیدا ہو گیا تو ان کے لیے یہ ایک بڑا امتحان تھا۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلا۔انہوں نے کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور ایک وقت جب انہیں زیر عتاب لانے کی کوشش کی گئی تو راولاکوٹ پولیس کی ساری فورس نے اپنے بلٹ اور ٹوپیاں اتار کر ان کے حوالے کر دیں کہ اگر آپ کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی تو وہ اس فورس کا حصہ نہیں رہیں گے۔ اس واقعہ سے ان کی صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہوتا  تھا۔انہوں نے تینوں ڈویژنز میں اپنی خدمات سرانجام دیں،وہ جہاں بھی گے نام ہی پایا،وہ  پولیس کے محکمے میں مسائل پیدا کرنے والے نہیں بلکہ مسائل حل کرنے والوں آفسروں میں شمار ہوتے تھے۔دو ما ہ پہلے ہی انہیں گریڈ بیس میں ترقیاب کیاگیا تھا، ابھی انہوں نے کامیابیوں کی کئی اور منازل بھی طے کرنی تھیں لیکن شاید اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا کہ وہ سب کو دکھیا چھوڑ کر خود سفر ٓاخرت پر روانہ ہو گے۔اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ نصیب کرے۔آمین        

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم