بدھ 01 دسمبر 2021ء
بدھ 01 دسمبر 2021ء

یوم تاسیس کی بنیاد”تاسیسی قرار داد“ہے۔۔۔۔ جسٹس (ر) منظور گیلانی

آج 24 اکتوبر کا دن 1947 کی جس قرار داد کی بناء پر آزاد کشمیر کے یوم تاسیس کے طور منایا جاتا ہے اس کے اغراض و مقاصد کے نقاط کی تخصیص کی مختصرتلخیص اور“ اساس“ یہ الفاظ ہیں۔عبوری حکومت ریاست کی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے ہندو، مسلم اورسکھوں کی اجتماعی آواز کی ترجمان ہے، جس کا مقصد امن و امان قائم کر کے  لوگوں آزادانہ ووٹ سے قبول عام حکومت قائم کرے۔عبوری حکومت ہمسایہ ممالک ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ دوستی اور خیر سگالی کے جذبات اور ان سے کشمیری عوام کی فطری آرزوئے آزادی کے ہمدردی کی  خواہش مند ہے۔ان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا فیصلہ غیر جانبدار مبصرین کی موجودگی میں آزادانہ رائے شماری کے زریعہ ہوگا -“ آزادریاست جموں کشمیر کی ایک باغی حکومت کی بنیاد چار اکتوبر 1947  کو راولپنڈی میں انور نامی ایک شخص نے اپنی صدارت میں ڈالی تھی - اس کا نام غلام نبی گلکار بتایا  جاتا ہے - پاکستان کے معتبر انگریزی اخباروں نے اس کی بھر پور تشہیر بھی کی تھی لیکن اس کے کنٹرول میں نہ کوئی علاقہ تھااورنہ انتظامی نظم و نسق، اس لیے اس کا وجود اخباری رپورٹوں کی حد تک رہا۔  بائیس اکتوبر 1947 کو صوبہ سرحد کے قبائل لشکر کی مدد سے مقامی لوگوں نے  مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج کو اسلحہ اور دست بدست جنگ کے زریعہ، ریاست کے ان حصوں سے پسپا کردیا جس پر چوبیس اکتوبر 1947 کو با ضابطہ طور“ آزاد حکو مت ریاست جموں و کشمیر“ کی بنیاد ڈالی گئی، اس کے مزاہم کاروں کو مارا گیا- اس کے پہلے صدر، ریاستی اسمبلی کے منتخب ممبر سردار محمد ابراہیم خان منتخب کئے گئے۔ان کے  انتخاب کی تو ثیق آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے ان علاقوں میں رہنے والے ارکان نے کی۔ اس کا قیام پہلے جو نجال ہل، پھر پلندری اور بلآخر اس کو مظفر آباد منتقل کیا گیا۔آزاد کشمیر بھر اور پوری دنیا میں بسنے والے ریاستی باشندے اس دن کو“  آزاد کشمیر کے یوم تاسیس کے طور“ مناتے ہیں۔میرے نزدیک اس“ یوم تاسیس کی تاسیس“ فی الواقع اس قرار داد  کے درج بالا الفاظ ہیں۔ اس کی روح کے مطابق اس حکومت کے اقتدار اعلی کی علامت“ وزارت دفاع اور خزانہ“ بھی قائم کی گئیں“۔ ہندوستان کے 27 اکتوبر کو سرینگر میں فوجیں اتارنے کے ساتھ دو ملکوں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ ہندوستانی فوج کے آزاد علاقوں کی طرف پیش قدمی کے تدارک کے طور پاکستانی فوج نے آزاد فوج کے دستوں کی کمان سنبھال لی اور جنگ بندی کے بعد اس کی تنظیم بندی اور بالآخر اس کا پاکستانی فوج کے اندر انظمام ہوگیا۔ اس طرح آزاد کشمیر کے یوم تاسیس کی”  تاسیسی دستاویز“ جسکے تحت آزاد کشمیر کی حکومت ریاست بھر کے عوام کے ترجمان کے طور، آزاد،  خود مختار اور سیکولر ریاست کے طور عمل میں لائی گئی تھی کسی رسمی اعلان کے بغیر ہی تحلیل ہوگئی اور آزاد کشمیر کا نمائندہ کرداربھی اختتام پذیر ی کے مراحل میں داخل ہوگیا۔  اس کی تحلیل کے ساتھ ہی ہندوستان نے  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو رجوع کرلیا جس نے رائے شماری کے زریعہ مسئلہ کے حل کی قرار داد پاس کی اور اس کی خاطر دو ملکوں کے درمیان سلامتی کونسل کے توسط سے یکم جنوری 1949 جنگ بندی کا معاہدہ عمل میں آیا جس کے تحت دو ملکوں کے کنڑول والے علاقے کی حد بندی کو“ جنگ بندی لائن”قرار دیا گیا - یہ معاہدہ نیمے دروں نیمے بروں کی صورت اختیار کرتے ہوے ریاست کی عملی تقسم کی طرف منتقل ہونا شروع  ہوا گوکہ“ نصابی“  طور متنازعہ ہی ہے۔1972 کے شملہ معاہدہ کے تحت“ جنگ بندی لائن”  کو“ لائن آف کنٹرول“میں بدل دیا گیا ”جبکہ ہندوستان نے 19 اگست 2019 کو ہندوستانی آئین کے تحت ریاست کو جو متنازعہ اور خصوصی حیثیت حاصل تھی اس کو ختم کرکے ریاست کو تحلیل اور ہندوستانی اقتدار اعلی کے تحت مرکزی کنٹرول میں لے لیا - اسطرح ہندوستان نے  جنگ بندی لائن سے لائن آف کنٹرول کے مراحل عبور کرتے ہوئے حد اختیار کو یکطرفہ طور حتمی کردیا -ادھر  جنگ بندی معاہدے کے فوراًبعد آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان 28 اپریل 1949 کو کراچی معاہدے کے نام سے تقسیم کار کا ایک معاہدہ عمل میں آیا جس کی خصوصی بات گلگت بلتستان، جو پہلے سے ہی صوبہ سرحد کے زریعہ حکومت پاکستان کے کنٹرول میں تھا، مکمل طور حکومت پاکستان کے نظم و نسق میں رکھنے  کا معاہدہ طے پایا - اس طرح ہندوستان کے ساتھ ریاست کی حدود کو“ جنگ بندی اور پھر  لائن آف کنٹرول“ میں بدل کے دونوں ملکوں کا ریاست کے اپنے اپنے دائرہ اختیار کے اندر دونوں حصوں کی“ غیر نصابی”تقسیم اور معائدہ کراچی کے تحت ریاست کے آزاد حصوں کی بھی مملکت پاکستان کے اندر عملی نظم و نسق کی تقیم عمل میں آئی- کراچی معاہدہ کے تحت ہی حکومت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان آزاد کشمیر کے نظم و نسق کے بارے میں دونوں حکومتوں کے اختیارات کے حدود کی تقسیم بھی عمل میں آئی جو زمانے کے عبور و مرور، حالات کے بدلنے، اقتدار اور اختیارات کی حوس، لیڈر شپس کی کمزوری اور طاقت وری کے ساتھ ساتھ  سٹاک ایکسچینج کی طرح اتار چڑھاؤ کا شکار رہے- کراچی معاہدہ تو 1950 کے رولز آف بزنس کے نافذ ہونے کے بعد تو ختم ہوگیا لیکن اس کی بد روح کھینچ تان کی شکار رہی- 1958 میں رولز آف بزنس میں ترمیم ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی 1960- 1964- 1968 - 1970 -  1974کی آئینی دستاویزات  کے زریعہ بھی بلواسطہ اور بلا واسطہ اختیارات کی تقسیم عمل میں   آتی رہی- ان میں سے کسی آئینی دستاویزات کے تحت کراچی معاہدے کو تحفظ نہیں دیا گیا - اس وقت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے تحت عمرانی معاہدہ جملہ ترامیم کے ساتھ صرف عبوری آئینی1974 ہے۔اس ایکٹ کے تحت  حکومت پاکستان نے“ آزاد جموں وکشمیر کونسل“ کے نام سے آزاد کشمیر حکومت کے  متوازی ایک  “ proxy“ مرکزی حکومت بناء جو آزاد کشمیر کا لبادہ اوڑھ کر “ مرکزی حکومت کی قائم مقام تھی“  آزاد کشمیر کے آئین میں تیرہویں ترمیم کے زریعہ کشمیر کونسل کے مالی اور انتظامی اختیارات تو ختم کئے گئے لیکن کشمیر کونسل اپنی جگہ موجود ہے جس پر اٹھنے والے اربوں روپے کے اخراجات حکومت آزاد کشمیر برداشت کرتی ہے - گوکہ“ ٹیکس“ اور ان سے جڑے معاملات  حکومت آزاد کشمیر کے حدود میں آگئے ہیں  ، لیکن کشمیر کونسل کے قانون سازی اور ان کے تحت تمام انتظامی اختیار وزیر اعظم پاکستان“ کو منتقل کئے گئے ہیں -  یہ سب مرکزی نوعیت کے معاملات ہیں جو پاکستان کے متعلقہ اداروں کے پاس ہی رہنے چاھئیں، وزیر اعظم پاکستان کے پاس نہیں -  تاہم ان کے تحت پالیسی سازی، فیصلہ سازی، قانون سازی اور نفاذ میں آزاد کشمیر کے لوگوں کو نمائیندگی کا حق ملنا چاہیے - اختیارات کا یکطرفہ استعماال بہت بڑا جمہوری اور آئینی خلاء ہے، جو آمریت اور کو لو نئیل ازم  Colonialism میں چل سکتا ہے، لبرل جمہوریت میں نہیں -کشمیر کا متنازعہ ہونے کا مطلب جمہوری حقوق کا بھی متنازعہ ہونا نہیں - 24 اکتوبر 1947 کی آزاد کشمیر اور اس کی حکومت کی تاسیسی قرار داد کی تحلیل بہتری پہ منتج ہونی چاھئے، جمہوری حقوق کے انحراف پہ نہیں -   فی الوقت آزاد کشمیر کا مملکت پاکستان کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر کوء مقام نہیں، نہ ہی یہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت لوکل اتھارٹی کی حیثیت رکھتا ہے -  نئی نسل کو ریاست کی تاسیسی  مقام سے موجودہ سیاسی سطح پر پہنچانے کی وجوہات سمجھانے کی ضرورت ہے جو اس سلسلے میں زہنی انتشار کا شکار ہیں - سطحی اور جذباتی نعرہ بازی سیاسی،سفارتی اور آئینی دلائل کا جواب نہیں ہو سکتے - اس میں پاکستان اور آزاد کشمیر کا مفاد، آزاد کشمیر کے بہتر نظم و نسق، ملازمین کی استعداد کار اور مجموعی طور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے  ایک بہتر قدم ہے- اکیسویں صدی میں اس کا ادراک کرنا ضروری ہے -  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم