جمعرات 27 جنوری 2022ء
جمعرات 27 جنوری 2022ء

آزاد کشمیر میں ”آنکھ مچولی“ کے مقابلہ جات ..........تحریر۔۔۔عابد صدیق

آزاد کشمیر میں رواں سال جولائی کے آخری ہفتے میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے۔پاکستان میں برسراقتدار سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ماضی کی انتخابی سیاست کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آزاد کشمیر میں ہونے والے ان انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔دوسرے اور تیسرے نمبرپر بتدریج ماضی میں اقتدار کی ”باریاں“ لگانے والی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)اور پاکستان مسلم لیگ”ن“ آزادکشمیر رہی ہیں۔آزاد امیدوار اور قدرے چھوٹی سیاسی جماعتوں کے امیدوار”بڑوں“ کی اس جنگ میں نظروں سے اوجھل ہی رہے۔جو کوئی امیدوار تھوڑی بہت مقابلے کی سکت رکھتا تھا وہ یا تو کسی ”مصلحت“میں کھڑا رہا یا پھر وسیع تر مفاد کے پیش نظر دستبردار ہو گیا۔حکومت سازی کا مرحلہ یوں تو اگست کے آخری ہفتے میں مکمل ہو گیا تھا لیکن حکومتی سیٹ اپ کو دل سے تسلیم کرنے کی اندرونی جنگ ابھی جاری ہے۔یوں توپی ٹی آئی آزاد کشمیر میں پہلی بار اقتدار میں آئی لیکن اس کے ممبران اسمبلی مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعار لیے گئے ہیں اس لیے اکثریت تجربہ کاروں کی تھی لیکن تین ماہ گذر جانے کے باوجود ان کا کوئی تجربہ کام نہ آیا۔اسمبلی میں اتنا بڑا مینڈیٹ لینے کے باوجود حکومت تین ماہ میں اسمبلی کا اجلاس تک نہیں بلا سکی۔آزاد کشمیر میں رائج آئینی قوانین کے تحت ایک سال میں 60 دن اسمبلی کا اجلاس منعقد ہونا ضروری ہے اس طرح ہر ماہ تقریباًپانچ دن اسمبلی کا اجلاس ہو تو تب آئینی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔حکمران جماعت بجائے اس کے کہ اجلاس خود بلائے اپوزیشن کی تحریک پر بلائے گے اجلاس کو بھی نہیں ہونے دیا گیا جس کے بعد اپوزیشن نے اجلاس بلانے کی دوبارہ تحریک کر دی۔ موجودہ حکومت کا مسلہ ہے کیا؟اگر اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آتی۔رواں سال جولائی میں ہونے والے انتخابات کے انعقاد سے چند ماہ قبل تک عام خیال یہ تھا کہ ماضی کی روایات کے پیش نظر پی ٹی آئی آزاد کشمیر میں حکومت تو بنا لے گی لیکن انگلیوں پر حساب کتاب کیا جاتا تو سیٹیں پوری ہوتی نظر نہیں آتی تھیں۔اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے ممبران اسمبلی یا وزراء حکومت پی ٹی آئی میں جانے کے خواہشمند تو تھے لیکن آخری تنخواہ کے حصول تک جڑے رہنا چاہتے تھے۔کچھ سیاسی لیڈران یا الیکشن لڑنے کے خواہشمند پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے خواہشمند تو تھے لیکن انہیں یقین دہانی کروانے والا کوئی نہیں تھا کہ ”آپ کا مستقبل کیا ہو گا“۔برسٹر سلطان محمود چوہدری جو اس وقت پارٹی کے مرکزی صدر تھے ”سلوموشن“ میں پارٹی کو آگے لے جارہے تھے۔ان کا خیال تھا  اور درست بھی تھا کہ وہ مستقبل میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم ہوں گے۔الیکشن سے چند ماہ قبل سیاسی جوڑ ٹوڑ شروع ہوا۔سردار تنویر الیاس کے نام سے عام لوگ کم واقف تھے۔بنیادی طور پر وہ ایک کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی ان کی پہچان بھی تھی اور ہے۔سیاسی منظر نامے پر پہلی بار ان کا نام اس وقت سامنے آیا جب وہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں ایبٹ آباد سے سینٹ کی نشست کے لیے ٹکٹ کے امیدوار بنے لیکن قانونی سقم کی وجہ سے یہ تیر نشانے پر لگ نہ سکا۔پاکستان میں انتخابات سے پہلے عبوری حکومت بنی تو تو وہ اس کا حصہ بن گے انہیں پنجاب میں حکومتی ذمہ داریاں دی گئیں۔انتخابات کے بعد یہ تو اندازہ نہیں کہ وہ کب پی ٹی آئی میں شامل ہوئے لیکن انہیں پھر پنجاب حکومت میں ایڈجسٹ کر لیا گیا۔کچھ دوستوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اگر آزاد کشمیر کی سیاست میں قدم رکھیں تو معمولی سی ”تکنیکی“ محنت سے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔انہوں نے خود بھی کئی لوگوں سے مشاورت کی اور پھر ایک رات یہ فیصلہ کر لیا کہ ایسا ہی کرنا ہے۔وہ سیاست میں بھی ”ٹی 20“ کی طرح آئے۔بلا تفریق کہ کوئی کس حیثیت کا ہے،کس جماعت کا ہے،سب کو ساتھ ملاتے اور ان کی ایڈجسٹمنٹ کے ضامن بھی خود ہی بنتے گے۔اسی دوران ان کے چچا محترم ممبر اسمبلی سردار صغیر خان کی حادثاتی موت ہو گئی۔ان کے سیاسی جانشین بننے کے امکانات زیادہ تھے کیونکہ حلقہ خالی ہو گیا تھا اور خود سردار صغیر خان اس حادثے سے پہلے خاندانی دباو پر پی ٹی آئی میں شامل ہو گے تھے لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا، انہوں نے دوسرے ضلع  کے ایک حلقہ سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور کامیاب ہو گے۔پی ٹی آئی ان انتخابات میں واضع اکثریت سے جیت گئی۔وزیر اعظم کی دوڑ میں دو ہی امیدوار تھے،ایک پارٹی صدر برسٹر سلطان محمود چوہدری اور دوسرے سردار تنویر الیاس،”تبدیلی“ کے نعرے کی موجد پی ٹی آئی نے ایک دفعہ پھر غیر متوقع فیصلہ کیا اور سردار عبدالقیوم نیا زی کو وزیر اعظم آزاد کشمیر نامزد کر دیا گیا۔ برسٹر سلطان محمود چوہدری کو صدر ریاست بنا دیا گیا۔پارٹی صدرات بھی ان سے لے کر  سردار تنویر الیاس کو دے دی گئی اور انہیں پہلے نہ صرف سنیئر وزیر حکومت بنا یا گیا بلکہ تحفہ کے طور پر ”موسٹ“ کا لقب بھی دیا گیا۔   اب موجودہ حکومت کو تین ماہ ہو چکے ہیں،پی ٹی آئی کے دو واضع اور ایک غیر واضع گروپ ”طاقت“ اور”حکمت“ کے جوہر دکھانے کے لیے ”آنکھ مچولی“کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔وزراء کا ایک گروپ  برسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ کھڑا ہے اور انہیں اپوزیشن ممبران اسمبلی کی بڑی تعداد کی بھی حمایت حاصل ہے۔وزراء کادوسرا گروپ  بشمول اسپیکر اسمبلی سردار تنویر الیاس کے ساتھ ہے جو انہیں ہمہ وقت وزیر اعظم بننے کے مشورے دے رہا ہے جبکہ کچھ وزراء اور ممبران اسمبلی موجودہ وزیر اعظم  کے ساتھ بس اس شرط پر کھڑے ہیں کہ ”جیتوں تو تجھے پاوں،ہاروں تو پیا تیری“۔اقتدار کی طاقت حاصل کرنے کی اس کشمکش میں تین ماہ گذر جانے کے باوجود عوام کی بھلائی یا ریاستی مفاد کا کوئی کام نہ ہو سکا،اہڈہاک ملازمین کو فارغ کرنے کا دعویٰ کر کے سینکڑوں افراد کو ایڈہاک بھرتی کر دیا گیا،پبلک سروس کمیشن غیر فعال بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،احتساب بیورو  جب کام کرنے لگا تو اس میں تبدیلی کی جانے لگی،بیوروکریسی کے تبادلوں پر زور دیا تو ایک ہی دن میں دو دو دفعہ فیصلے بدلی کرنے پڑے،جس طرح بغیر کسی ضابطے کے سنیئر وزیر کے ساتھ”موسٹ“ کا سابقہ لگا دیا اسی طرح چند بیوروکریٹس کی خوشنودی کی لیے ”ایڈیشنل“ کا تخلص نواز دیا،حکومتی رٹ کا یہ عالم کہ اسسٹنٹ کمشنر کے تبادلے پر بھی عملدرآمد نہیں ہو پا رہا۔بس ان ہی افواہوں کو ہوا دی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے،۔”آنکھ مچولی“ کی ا س جنگ میں عوام ”شاید کل آج سے بہتر ہو“ کی امید پر جی رہے ہیں۔صورتحال یہی رہی تو یہ آزاد کشمیر کی بد ترین حکومت تصور کی جائے گی اور ایک افراتفری کا ماحول جنم لے گا جو شاید ریاستی مفاد میں نہ ہو۔       

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم