بدھ 16 اکتوبر 2019ء
بدھ 16 اکتوبر 2019ء

مسیحی خاتون آسیہ نورین پاکستان سے چلی گئی ہیں

  لندن (بی بی سی)پاکستانی حکام کے مطابق توہین مذہب کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے باعزت بری ہونے والی مسیحی خاتون آسیہ نورین پاکستان سے چلی گئی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق پاکستانی دفترِ خارجہ اور وزارتِ اطلاعات کے ذرائع نے آسیہ بی بی کی روانگی کی تصدیق کی تاہم یہ نہیں بتایا کہ ان کی منزل کیا ہے اور وہ کب ملک سے روانہ ہوئیں۔آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کے مطابق وہ کینیڈا پہنچ چکی ہیں جہاں ان کی دونوں بیٹیاں پہلے سے موجود ہیں۔توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت کی حقدار ٹھہرائے جانے والی آسیہ بی بی کو آٹھ سال قید میں رکھا گیا تھا لیکن گزشتہ برس اکتوبر میں عدالتِ عظمیٰ نے ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے انھیں بری کر دیا تھا۔بعدازاں رواں برس کے آغاز میں ان کی بریت کے خلاف دائر اپیل بھی مسترد کر دی گئی تھی۔آسیہ بی بی کو رہائی کے بعد پاکستان میں ایک نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا کیونکہ ان کی رہائی کے فیصلے پر ملک میں مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے 10 اپریل کو بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ آسیہ بی بی 'بہت جلد پاکستان چھوڑ دیں گی۔