بدھ 16 اکتوبر 2019ء
بدھ 16 اکتوبر 2019ء

آئینی ترامیم کیلئے تیار مسودہ من و عن نافذ کیا جائے ، پیپلزپارٹی ۔ آزادکشمیر

اسلام آباد (دھرتی نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے سابقہ دور حکومت میں ایکٹ 74ءمیں آئینی ترمیم کے لئے تیار مسودہ کو من و عن نافذ کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں صدر پی پی پی آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے دیگر پارٹی قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں ۔ کشمیر کونسل کے انتظامی و مالیاتی اختیارات ختم کر کے آزاد حکومت کو ملنے چاہیں ۔ پیپلز پارٹی دور میں تیارکردہ ترمیمی مسودہ وفاقی حکومت کے پاس ہے اس پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہے اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان بھی اپوزیشن لیڈر کے طور پر اس مسودہ کی تیاری میں شامل رہے ۔ اسمبلی اور اسمبلی کے باہر تمام جماعتوں نے پی پی دور میں تیار ہونے والی ترامیم پر اتفاق کیا تھا ان پرعمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ہم نے ترمیمی مسودہ تیار کرنے کے لیے سب کو اعتماد میں لیا اور سب کی رائے کی روشنی میں دو سال تیار ہوا تھا ۔ کشمیر کونسل کے خاتمہ کی بات کی گئی لیکن وزیر اعظم نے اس پر کسی کو بھی اعتماد میں نہیں لیا ۔اس وقت تک یہ صرف زبانی دعوئے ہی نظر آ رہے ہیں عملاً آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کو آن بورڈ نہیں لیا گیا ۔ میاں نواز شریف کی مودی کے ساتھ یاری اور دوستی کی داستانیں چھپی نہیں ہیں راتوں رات کونسل کے خاتمے کی باتوں سے سازشوں کی بو آ رہی ہے ۔ حکومت اگر مخلص ہے تو ہمارے دور کی تیار تجاویز پر عمل کیوں نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ہماری تجاویز میں تمام اختیار ات حکومت آزاد کشمیر کو منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ کونسل کا کردار صرف برج کا ہی رہ جاتا ہے ۔ اگر کونسل کا خاتمہ ہی ضروری ہے توآزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور جماعتوں سی مشاورت کی جانی چاہیے ۔کشمیر کونسل ہمیشہ کرپشن ، بند بانٹ کا گڑھ رہا ۔ آج بھی کشمیر کونسل سے 40%اور 30%پر سکیمیں فروخت کی جا رہی ہیں ۔ کشمیر کونسل میں موجود پیسہ کشمیریوں کی جمع پونجی اور ٹیکسز کا ہے جسے سابقہ دور میں وزیر امور کشمیر من چاہی کرتے ہوئے اپنے اپنے حلقوں میں استعمال کرتے رہے اور 30%پر سکیمیں بیچتے رہے ۔ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پی پی پی کے سیکرٹری جنرل راجہ فیصل ممتاز راٹھور ، سیکرٹری اطلاعات سردار جاوید ایوب ، سابق سپیکر و چیف آرگنائزر سردار غلام صادق ، نائب صدر میاں عبد الوحید ، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات سید عزادار حسین کاظمی، ایڈیشنل رابطہ سیکرٹری امجد جلیل ، پی ایس ایف کے چیئرمین سردار عبدا لشکور، مرکزی رہنما سید تصدق گردیزی اور دیگر بھی موجود تھے