جمعه 21  ستمبر 2018ء
جمعه 21  ستمبر 2018ء

راولاکوٹ ،ارشدمحبوب کی سزا موت کے فیصلے پر عملدرامد روک دیا گیا

 میرپور(دھرتی نیوز) عدالت العالیہ آزادجموں وکشمیر نےسزائے موت کے ایک قیدی کی پھانسی کے احکامات کوعارضی طورپرمعطل کردیا۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل میرپورسے 5مارچ کوعذرات طلب کر لیے جبکہفریقین کو بھی نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔ سزا موت کے قیدی ارشدمحبوب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کاذہنی توازن خراب ہوچکاہے اس لئے پھانسی کی سزاسے قبل علاج کرنا ضروری ہے ۔جائے۔ ارشدمحبوب کے ورثا کی جانب سے سردارمحمدرازق خان ایڈووکیٹ اورمسٹرحامدرضاایڈووکیٹ آزادجموں وکشمیرعدالت العالیہ میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ مقدمہ قتل میں سزاپانیوالامجرم ارشدمحبوب قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرنے کیوجہ سے اپناذہنی توازن کھوچکاہے لہذاسزامتذکرہ پرعملدرآمدسے پہلے اس کاعلاج کراناضروری ہے جس پرابتدائی سماعت کے بعدچیف جسٹس عدالت العالیہ جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی نے مورخہ27فروری2018 کوسنٹرل جیل میرپورمیں ہونیوالی پھانسی پرعارضی طورپرمعطل کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل میرپور5مارچ کوپھانسی روکنے سے متعلق عذرات طلب کرتے ہوئے فریقین مقدمہ کوبھی 19مارچ کیلئے نوٹسزجاری کردیئے ہیں۔ارشدمحبوب کوایڈیشنل ضلعی فوجداری عدالت راولاکوٹ نے APC(302)aجرم ثابت ہونے پرپھانسی کی سزاسنائی تھی جس کیخلاف مجرم نے شریعت کورٹ آزادکشمیر،مابعدسپریم کورٹ میں فیصلہ پرنظرثانی کیلئے اپیلیں دائرکیں لیکن اپیل ہامستردکردی گئیں،بعدازاں ملزم نے صدرریاست آزادجموں وکشمیرسے رحم کی اپیل کی جومستردکردی گئی تھی جس پرجیل حکام نے ٹرائل کورٹ سے ڈیتھ وارنٹ حاصل کئے تھے اورآج مورخہ27فروری کوصبح 6.30بجے سنٹرل جیل میرپورمیں پھانسی دی جاناتھی۔سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سرداررازق خان ایڈووکیٹ اورنوجوان قانون دان سردارحامدرضاایڈووکیٹ کی انسانی جان بچانے کیلئے اس کاوش کوقانونی حلقوں میں کافی سراہاجارہاہے کیونکہ اس سے قبل اس نوعیت کے مقدمہ میں پاکستان وآزادکشمیرمیں ایسی کوئی نظیرنہیں ملتی۔