جمعه 21  ستمبر 2018ء
جمعه 21  ستمبر 2018ء

لائن آف کنٹرول کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر اقوام متحدہ فوری اقدامات اٹھائے ، صدر آزادکشمیر

لندن (دھرتی نیوز ) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ برطانیہ کو اقوام متحدہ کے مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو لائن آف کنٹرول پر بگڑتی ہوئی صورتحال سے اقوام متحدہ کو آگاہ کرنے کے سلسلے میں اپنا موثر کردار اد ا کرنا چاہیے۔ صدر نے ان خیالات کا اظہار آل پارٹیز پارلیمنٹری کشمیر گروپ (APPG)جس کی صدارت کرس لیزلی (Chris Leslie)نے کی کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے ہاﺅس آف کامن میں منعقدہ میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ آل پارٹیز پارلیمنٹری کشمیر گروپ (APPG)نے مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو بھی میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی لیکن انہوں نے شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز پارلیمنٹری کشمیر گروپ (APPG) مذاکرات کے ذریعے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے اور برطانوی اراکین پارلیمنٹ کی مدد سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا چاہتا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کشمیریوں کے لیے انصاف چاہتا ہے۔ میٹنگ کے دوران صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے برطانوی اراکین پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی برادری کی اقوام متحدہ کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں حمایت حاصل کریں۔ صدر نے کہا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کا انہی کی سرزمین پر قتل عام اور لائن آف کنٹرول پر سویلین آبادی کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا بند کرنا چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال بھارت نے سال 2003ءکے سیز فائر معاہدے کی 400مرتبہ خلاف ورزی کی ہے جس سے 17افراد شہید اور 70شدید زخمی ہوئے ہیں۔ صدر آزاد جموں وکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت کی جانب سے بلا اشتعال مسلسل فائرنگ سے صورتحال خطرناک ہو چکی ہے ۔ اس لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے اس خطرناک صورتحال کی روک تھام کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔ صدر نے میٹنگ میں موجود 14اراکین پارلیمنٹ اور دو لارڈز سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت کے فوجی مبصر گروپ (UNMOGIP)کو موثر گروپ بنانے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف 44ماہرین جنہیں 71سویلین کی حمایت حاصل ہے جو UNکا سب سے چھوٹا مشن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس مشن کو کام کرنے کی کبھی اجازت نہیں دیتا۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ (UNMOGIP)امن مشن کے ممبروں کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے ۔ اور امن مشن کو سلامتی کونسل کے ممبران کو روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ دینی چاہیے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشن کی جانب سے رپورٹ پیش کرنے مین کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ صدر نے آل پارٹیز پارلیمنٹری کشمیر گروپ (APPG)کے ممبران کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پاس کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس نہ لے اور اس مسئلے پر بحث و مباحثہ نہ کرے جو اس کے مستقل ایجنڈے میں شامل ہے۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر دونوں اطراف میں ہیومن رائٹس کمیشن اور OICکے فیکٹ فائنڈنگ مشن کا خیر مقدم کیا لیکن بھارت ان مشن کو آنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا ۔ صدر نے مختلف جماعتوںکے برطانوی پار پارلیمنٹرینز کو آزاد کشمیر کے دورے کی دعوت بھی دی۔