اتوار 23  ستمبر 2018ء
اتوار 23  ستمبر 2018ء

ججز کی تقرری کے عمل میں حکومت آزادکشمیر کا کوئی کردار نہیں،ترجمان

مظفرآباد( دھرتی نیوز)ترجمان حکومت آزاد کشمیر نے کہا ہے کہ ججز کی تقرری کے عمل میں حکومت آزادکشمیر کا کوئی کردار نہیں ہوتا، ان کی فہرست وزیر اعظم نے نہیں بلکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس ہائیکورٹ نے مشاورت سے بھیجنی ہوتی ہے ، ججز کوٹے اور برادری کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر تعینات ہو نے چاہیں۔ آزادکشمیر کے لوگوں کی بدقسمتی ہے کہ چوہدری یاسین اپوزیشن لیڈر ہیںجو ہمیشہ قومی معاملات پر ذاتی مفاد اور عناد ترجیح دیتے ہیں ۔ ان کا عہدہ قومی روایات کا امین ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کو حکومت پر تنقیدکرتے وقت اپنے گریبان میں جھانک اپنے دور حکومت میں پبلک سروس کمیشن ،شریعت کورٹ و دیگر اداروں کے ساتھ جو کھلواڑ اور سیاہ کاریاں کیں اس کی بدبو سے ناک نہیں موڑنی چاہیے ۔ اپنے ایک بیان میں آزادکشمیر حکومت کے ترجمان نے کہا کہ برادری ،علاقے اور ضلعوں کی بنیاد پر تعصبات کو ہوا دینے والے سطحی ذہنیت کے مالک ہیں ۔ ان لوگوں کے منہ سے میرٹ ،آئین و قانون کی بالادستی اور انصاف کی باتیں مذاق لگتی ہیں جنہوں نے اعلیٰ ترین مناصب پر براجمان ہونے کے باجود ایک چپراسی تک بھی اپنے چہتوں کو بھرتی کیا۔ آئین و قانون اور اسلامی تاریخ سے نا بلد لوگ جب ختم نبوت کا بل پاس ہوتا ہے تواس وقت فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے بھی مرزائیوں کے خلاف جہاد کیا تھااور جب آزادکشمیر کے عوام کے حقوق اور منتخب اسمبلی کو با اختیار کرنے کی بات آتی ہے تو ہیڈ کلرک کے کہنے پر اپنے منصب کی توہین کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے مظاہرے میں جا پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسے ریاست کی بد قسمتی کہنا چاہیے کہ آزادکشمیر کے اند رایسے لوگ بھی اپنے آپ کو سیاسی رہنما ءکہلاتے ہیں اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں جو آئین و قانون تو کجا اسلامی تاریخ سے بھی نا بلد ہیں۔ ایک ایسے مرحلے پر جب قومی معاملات پر بات کرنے کا وقت ہے وہ وہ اپنے اندر چھپے حسد اور بغض کو سامنے لارہے ہیں ،آزادکشمیر کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ آئین وقانون جمہوری روایات اور اخلاقیات سے عاری ا ور عقل سے نابلد شخص آزادکشمیر کے اپوزیشن لیڈر ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ قانون اور آئین کے ایک حرف سے نابلد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم آزادکشمیر نے ججز کی تقرری کرنی ہے حالانکہ انہیں یہ چاہیے کہ اب وہ قانون کا قاعدہ پڑھنے کی کوشش کریں، گزشتہ 5پانچ سال جو لوگ حکومت کر کے گئے انہیں ججز کی تعیناتیوں کے طریقہ کا بھی نہیں پتا ۔ زرداری ہاﺅس کے ملازمین کو یومیہ بھتہ دینے والوں کو خدا کا خوف کرتے ہوئے اپنے منصب کا ضرورخیال رکھنا چاہیے۔