بدھ 21 نومبر 2018ء
بدھ 21 نومبر 2018ء

بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا، وزیرا عظم آزادکشمیر

کوٹلی/تتہ پانی (دھرتی نیوز)وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ متاثرین کنٹرول لائن سے یکجہتی کے لےے آیاہوںکنٹرول لائن پربھارتی افواج کی بلااشتعال فائرنگ کاجب ٹی وی پرٹکٹ چلتاہے توصورتحال کالمحہ بہ لمحہ پتہ کرتاہوںمیںخودایل اوسی پررہتاہوںجس کی وجہ سے متاثرین کنٹرول لائن کی مشکلات کااندازہ ہے بھارت آئے روزسول آبادی کونشانہ بنارہاہے کنٹرول لائن پربچے،خواتین،بزرگ مشکلات کاشکارہیں740کلومیٹرلمبی کنٹرول لائن پرپانچ لاکھ لوگ بھارت کی بلااشتعال فائرنگ سے متاثرہورہے ہیںبھارت نفسیاسی لڑائی لڑ رہاہے بھارت ہندومسلم فسادات چاہتاہے میڈیاقوم کے اندرخوداعتمادی پیداکرنے کے لےے اپناکرداراداکرے بھارت کنٹرول لائن پرفائرنگ کاسلسلہ بڑھاکرمقبوضہ کشمیرمیںاپنے مظالم سے نظرہٹانے کی ناکام کوشش کررہاہے متاثرین کنٹرول لائن کی قربانیاںبے مثال ہیںمقبوضہ کشمیرمیںعورتوں،بچوں اوربوڑھوںکوآنکھوںکی روشنائی سے بھارت محروم کررہاہے کنٹرول لائن پرشہیدہونے والوںکوسرکاری اعزازکے ساتھ دفنایاجارہاہے متاثرین کنٹرول لائن کی مشکلات کااحساس کرتے ہوئے ہم نے ایل اوسی پرسکولوںکے ساتھ بینکربنانے کافیصلہ کیاہے حکومت پاکستان اورافواج پاکستان کاشکرگزارہوںجنہوںنے بینکرزبنانے کے لےے سریہ سیمنٹ مہیاکرنے کے لیے موثراقدامات کیے دوارب روپے کے اخراجات سے بینکرزبنائیںگے افواج پاکستان انسانی حقوق کاخیال رکھتے ہوئے کنٹرول لائن کی دوسری طرف مقبوضہ کشمیرمیں سویلین آبادی کونشانہ بنانے سے ہمیشہ گریز کرتی ہے جبکہ بھارت کنٹرول لائن پرسویلین آبادی کونشانہ بناکرانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاںکررہاہے ،ان خیالات کااظہارانہوںنے تتہ پانی کے مقام پرمتاثرین کنٹرول لائن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جبکہ اس موقع پروزیرما ل سردارفاروق سکندرخان،وزیرتعمیرات چوہدری عزیز،ایم ایل اے راجہ نصیراحمدخان،ایم ایل اے چوہدری یٰسین گلشن،ملک یوسف ودیگرنے بھی خطاب کیا۔وزیراعظم آزادکشمیرراجہ محمدفاروق حیدرخان نے اپنے خطاب میں کہاکہ کنٹرول لائن پربسنے والے بھارت کے ناپاک عزائم کوسمجھتے ہوئے بھارت کی تخریب کاری کی کاروائیوںسے ہوشیاررہیںاپنے قرب وجوار پرنظررکھیںمشکوک لوگوںکی اطلاع متعلقہ اداروںکودیںکھلونے بم سے ہوشیاررہیںبھارتی وزیراعظم مودی ناپاک عزائم رکھتاہے کشمیریوںکی قربانیوںکے نتیجہ میںبھارت بہت جلددس حصوںمیں بٹ کررہے گامتاثرین کنٹرول لائن کے مسائل کوسمجھتے ہوئے مزیدایمبولینس کے لےے آرڈردیاہواہے کنٹرول لائن پرشہیدہونے والوںکوہم معاوضہ نہیںدے رہے بلکہ یہ ہماری طرف سے امدادہے۔