جمعه 21  ستمبر 2018ء
جمعه 21  ستمبر 2018ء

متاثرین کنٹرول لائن سے یکجہتی مارچ ، پولیس سے تصادم ، درجنوں زخمی و گرفتار

 تتہ پانی(دھرتی نیوز ) سیز فائرلائن کے متاثرین سے یک جہتی کیلئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی اپیل پر کیا جانیوالا یک جہتی مارچ سہر ککوٹہ پہنچنے پر پولیس نے روک لیا جس کے دوران رینجرز کی ایک چیک پوسٹ کو جلا دیا گیا ، جبکہ جھڑپوں کے دوران درجنوں افراد زخمی ہو گئے جن میں بعض پولیس اہلکار بھی شامل ہیں ، احتجاجی مظاہرین کے خلاف مقامی تھانہ میں مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ، جبکہ درجن بھر افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ، یہ احتجاجی مظاہرہ گزشتہ روز جمعہ کو تتہ پانی کے قریب سے شروع ہوا جس میں میرپور ڈویژن سے بڑی تعداد میں کارکنان شریک تھے ، جبکہ راولاکوٹ سمیت دیگر علاقوں سے بھی کارکنان رات کو ہی تتہ پانی اور گردو نواح میں پہنچ چکے تھے ، احتجاجی مظاہرین کو روکنے کےلئے پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کی گئی تھی اور سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے ، احتجاجی مظاہرہ کے منتظمین نے تتہ پانی سے مدارپور تک احتجاجی مظاہرہ کرنے اور وہاں پہنچنے پر جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا تھا ، تاہم جب شرکاءجلوس سہر ککوٹہ پہنچے تو ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کی طرف سے انہیں آگے نہ جانے کا مشورہ دیا گیا جس دوران احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان پتھراﺅ کا تبادلہ ہوا ، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا اور مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا ، تاہم مظاہرین ٹولیوں کی شکل میں مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور پولیس اور سیکورٹی حکام پر پتھراﺅ کیا ، اسی دوران سہر ککوٹہ میں قائم رینجرز کی ایک چیک پوسٹ کو نذر آتش کردیا گیا پولیس نے الزام لگایا ہے کہ چیک پوسٹ کو مظاہرین نے نذر آتش کیا ، پولیس اور مظاہرین کے درمیان رات گئے تک جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا ، ایس ایس پی پونچھ یاسین بیگ نے دھرتی کو بتایا کہ ہم نے شرکاءمارچ کو ایک ڈیڈلائن دی تھی کہ یہاں سے آگے آپ نے نہیں جانا ہے اور یہاں پر جلسہ کر سکتے ہیں لیکن شرکاءمارچ نے نہ صرف آگے کی طرف بڑھنا شروع کیا بلکہ ایک چیک پوسٹ کو بھی نذر آتش کیا جس کے بعد پولیس کو کارروائی کرنا پڑی ، انہوں نے بتایا کہ درجن بھر افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر گرفتاریوں کےلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں ، ادھر مارچ میں شامل سیاسی جماعتوں نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی اور کہا کہ ان کے پرامن احتجاجی جلوس کو روکا گیا ، سیکورٹی فورسز نے بلا وجہ ان پر تشدد کیا ، انہوں نے گرفتاریاں نہ دینے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے ۔ تتہ پانی تا مدارپور پرامن پیدل مارچ،جے کے ایل ایف ، ایس ایل ایف کے رہنماﺅںوکارکنان اورمختلف سیاسی جماعتوں ،تنظیموںاور سول سوسائٹی کے افراد کی سینکڑوں کی تعداد میںشرکت ،خواتین بھی بڑی تعداد میں مارچ میں شریک ہوئیں،مارچ میں مرکزی وائس چیئرمین جے کے ایل ایف سلیم ہارون ، مرکزی چیف آرگنائزرراجہ حق نوازخان،صدر جے کے ایل ایف آزادکشمیر گلگت بلتستان زون ڈاکٹر توقیرگیلانی، جے کے ایل ایف وایس ایل ایف کے دیگر رہنماﺅں رفیق ڈار،خواجہ منظور چشتی،طفیل عجائب،توصیف جرال،یوسف چوہدری،محترمہ طاہرہ توقیر، عبدالرحیم ملک، ایاز کریم ،سردار مشتاق احمد خان،نصرت قریشی،ضیا ءالدین گلگتی،سہیل احمد کٹاریہ، لیاقت ملک،سردارغلام اویس،شہزادحسین شاہ،رفیق بھٹی ،عدنان ملک ،نوید نذیر، ذوہیب کشمیری، شاداب احمد ،اسامہ اسحاق سمیت ہزاروں کی تعداد میں جے کے ایل ایف ایس ایل ایف کے رہنماﺅںوکارکنان اورمختلف سیاسی جماعتوں ،تنظیموںاور سول سوسائٹی کے افراد کی ہزاروں کی تعداد میںشرکت کی۔