پیر 19 نومبر 2018ء
پیر 19 نومبر 2018ء

اسمبلی کا گھراﺅ کرنے کے لیے ایک ہفتہ کی ڈیڈ لائن

اسلام آباد(پ ر )جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنماءو سابق سیاسی شعبہ کے سربراہ سردار انور ایڈووکیٹ نے حکومت آزاد کشمیر کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ لبریشن فرنٹ کے امن مارچ پر بد ترین ریاستی دہشتگردی پر ذمہ داران کو معطل کیا جائے ،اور اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری کی جائے ،بصورت دیگر ہم مظفرآباد اسمبلی کا گھراﺅ کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، سردار انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ انڈین فائرنگ کیخلاف کنٹرول لائن کے متاثرین کے ساتھ امن مارچ کررہی تھی، کے مدارپور کے قریب پر امن مارچ پر پونچھ انتظامیہ کی جانب سے آنسو گیس ، تشدد اور فائرنگ کر کے درجنوں کارکنوں کو شدید زخمی کیا، جن میں لبریشن فرنٹ کے دو کارکن زندگی اور موت کی کشمکش میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ضلع پونچھ کی تمام انتظامیہ کو فوری طور پر معطل نہ کیا ان کیخلاف جوڈیشل انکوائری نہ کی تو ہم مظفرآباد میں بھرپور احتجاج کریں گے ، اور تب تک مظفرآباد کا گھراﺅ جاری رکھیں گے جب تک کارکنوں کو انصاف نہیں مل پاتا۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف کنٹرول لائن پر شدید گولہ باری ہو فائرنگ کی وجہ سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں ،اور دوسری جانب ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والوں پر پونچھ انتظامیہ نے گولیاں چلائیں ،اور انڈین آرمی سے بھی بدترین رویہ اختیار کیا۔ ہم اس واقع کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ جب تک ریاست کے اندر سے ظلم ختم نہیں ہو گا، ہم امن کے لیے جدوجہد کریں گے، اور ہماری جنگ تب تک جاری رہے گی، جب تک نہتے عوام پر گولیاں برسانے والے چاہے وہ انڈین آرمی ہو یا ریاستی پولیس ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔