بدھ 21 نومبر 2018ء
بدھ 21 نومبر 2018ء

سردار رشید حسرت (مرحوم ) کی برسی پرمشن جاری رکھنے کا عزم

  راولاکوٹ( دھرتی نیوز)بابائے خودمختاری سردار رشید حسرت کا نام تاریخ حریت میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا ¾ انہوں نے نامساعد حالات میں ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی ¾ قومی آزادی و منصفانہ سماج کے لئے بے مثال جدوجہد کی۔ جدوجہد آزادی کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے رشید حسرت کے ویژن ¾ سوچ اور نظریات کے تحت جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا ¾ نعیم بٹ شہید کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہچانے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے ¾ سیز فائر لائن پر دو طرفہ گولہ باری بند کی جائے ¾ ریاست جموں کشمیر کے تمام قدرتی راستوں کو کھولا جائے۔ ان خیالات کا اظہار جے کے ایل ایف کے سپریم ہیڈ سردار رﺅف کشمیری ¾ چیئرمین صابر کشمیری ایڈووکیٹ ¾ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سردار جاوید نثار ایڈووکیٹ ¾ نیپ کے سربراہ سردار لیاقت حیات ¾ لبریشن لیگ کے سینئر نائب صدر امتیاز اکبر ایڈووکیٹ ¾ فریڈ م موومنٹ کے سابق صدر سردار قدیر خان ¾ جے کے ایل ایف کے چیف آرگنائزر سردار سلیم ¾ جے کے ایل ایف (یاسین ) ضلع پونچھ کے صدر حاجی ابراہیم ¾ کے ایس ایل ایف کے سینئر وائس چیئرمین قمر الیاس ¾ سیکرٹری جنرل اسد شان ¾ سدہنوتی کے کنویئر شازیب اختر ¾ سینئر رہنما جے کے ایل ایف منظور میر ¾ نجیب قدیر ¾ طاہر شکیل ¾ محمد کاشر ¾ ایس ایم ابراہیم اور دیگر نے بابائے خودمختاری سردار رشید حسرت کی 26ویں برسی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بابائے خودمختاری سردار رشید حسرت کی تنظیمی ¾ تحریکی ¾ سیاسی و سماجی خدمات پر زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔سپریم ہیڈ رﺅف کشمیری نے کہا کہ 1990ءمیں قومی آزادی کی تحریک کو سبوتاژ کر نے والے عناصر کی راہ میں رکاوٹ بننے کی وجہ سے رشید حسرت کو ٹارگٹ کیا گیا اور مرتے دم تک ذہنی طور پر ٹارچر کیا گیا لیکن انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور قابض طاقتوں کے خلاف ناقابل مصالحت جدوجہد جاری رکھی۔ ڈسٹرکٹ بار کے صدرجاوید نثار ایڈووکیٹ نے کہا کہ ریاست کے طول و عرض میں پھیلے آزادی پسند رشید حسرت کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ مجھ سمیت سردار صغیر اور دیگر لوگوں کی سیاسی ¾ انسانی تربیت رشید حسرت مرحوم نے کی۔ سردار لیاقت حیات نے کہا کہ رشید حسرت مرحوم جیسے کردار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں زندہ قومیں اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتیں ہمیں بھی رشید حسرت کے افکار و نظریات آبیاری کرنا ہوگی۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ سیز فائر لائن پر دو طرفہ گولہ باری بند کی جائے ¾ دونوں ممالک اپنی افواج سیز فائر لائن سے پچیس کلو میٹر پیچھے لائیں۔ نعیم بٹ کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔