پیر 19 نومبر 2018ء
پیر 19 نومبر 2018ء

احتساب بیورو کے ایک آفیسر کیخلاف ہائی کورٹ میں رٹ دائر

اسلام آباد( سپیشل رپورٹر) آزاد کشمیر میں کرپشن اور بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لئے قائم ادارے احتساب بیورو کے یک افسر کیخلاف باغ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے آزاد کشمیر ہائیکورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا ، کیس کی سماعت آج پیر کو ہو گی۔ رٹ میں بیورو کے آفیسر پر استحقاق سے ہٹ کر مراعات، ڈیپوٹیشن رولزکے برخلاف مسلسل 6 سال تک احتساب بیورو میں تعیناتی اور مظفرآباد یونیورسٹی میں بطور کنٹریکٹ پروفیسر جیسے مفادات سے ٹکراﺅ کے الزامات لگاتے ہوئے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ افسر کیخلاف کارروائی کی جائے ، اطلاع کے مطابق باغ یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کے پرفیسر قمر احمد نے احتساب بیورو کے شعبہ لیگل میں گریڈ 19 میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر امجد منہاس کیخلاف آزاد کشمیر ہائیکورٹ میں ایک رٹ فائل کرتے ہوئے مﺅقف اپنایا ہے کہ امجد منہاس ڈیپوٹیشن پالیسی کیخلاف مسلسل 6 سال سے وزارت قانون سے احتساب بیورومیں تعینات ہیںجو صریحاً غیر قانونی ہے۔ ڈیپوٹیشن پالیسی کے تحت کسی بھی افسر یا ملازم کو زیادہ سے زیادہ تین سال کےلئے دوسرے محکمے میں تعینات کیاجاسکتاہے۔ 3 سالہ مدت پوری کرنے کے بعد ڈیپوٹیشن افسرکو لازمی طور پر دوبارہ اپنے محکمے میں واپس جانا ہوتا ہے پھر کچھ مدت بعد اگر ضروری ہو تو نئی ڈیپوٹیشن دی جا سکتی ہے لیکن امجد منہاس پہلی بار 2012 میں محکمہ قانون سے جہاں وہ سیکشن افسر تھے، احتساب بیورو میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات ہوئے ، ان کی ڈیپوٹیشن 2015تک تھی لیکن امجد منہاس نے اپنے اصل محکمے میں واپس جائے بغیر پہلے دو سال اور پھر مزید ایک سال کی توسیع لے لی۔ اب مسلسل 6 سال کے بعد اطلاع ہے کہ امجد منہاس کو مزید توسیع دینے کےلئے ایک فائل تیار کی گئی ہے جس پر وزیراعظم سے پالیسی میں نرمی لینے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔امجد منہاس پر دوسرا لزام لگایا گیا ہے کہ وہ محکمہ قانون کے مستقل ملازم ہونے کے باوجود ایک عرصے سے مظفر آباد یونیورسٹی کے ساتھ بطور کنٹریکٹ پروفیسر منسلک ہیں جو واضح طور پر مفادات کے ٹکراﺅ کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح ان پر احتساب بیورو میں سے استحقاق سے بڑھ کر مراعات لینے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ ہائیکورٹ نے رٹ سماعت کےلئے منظور کرتے ہوئے آج بروز پیر تاریخ سماعت مقرر کی ہے۔ یاد رہے کے امجد منہاس کے بار ے میں اطلاع عام ہے کہ وہ اس وقت احتساب بیور و کے عملاً چیئرمین شمار کےے جاتے ہیں۔ احتساب بیورو میں دائر ہونے والے مقدمات انہی کی قانونی رائے کے مرہون منت ہیں۔ ان کے سروس کیرئیر کے بھی مشکوک ہونے کی اطلاعات زبان زد عام ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ ابتداءمیں وہ ایک معمولی ملازمت سے آزاد کشمیر شریعت کورٹ میں گریڈ17میں اپنی تقرری کا راستہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ پھر خود کو گریڈ17 کا حامل افسر ہونے کے باعث محکمہ قانون میں سیکشن افسر کی آسامی پر تعینات کرالیا۔ حالانکہ پبلک سروس کمیشن میں مقابلے کا امتحان پاس کےے بغیر کوئی بھی شخص سیکشن افسر کی پوزیشن لے ہی نہیں سکتا ۔محکمہ قانون میں امجد منہاس کواپنے ہی گریڈ17میں جونہی اگلی پوزیشن ڈپٹی سیکرٹری کا چارج دیا گیا تو وہ ڈیبوٹیشن لے کر احتساب بیورو میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔ لیکن حیرت انگیز یہ کے انہیںایک گریڈ اوپر یعنی گریڈ18 کی پوزیشن دی جاتی بے ضابطگیاں روکنے کے ذمہ دار ادارے میں انہیں2گریڈ اوپر یعنی گریڈ19 میں بطور لیگل ڈپٹی ڈائریکٹر تعیناتی دی گئی۔