پیر 19 نومبر 2018ء
پیر 19 نومبر 2018ء

کشمیر کونسل کے فنڈز ‘ اثاثے‘ ملازمین آزاد حکومت کو منتقل

    مظفرآباد(دھرتی نیوز)آزاد کشمیر حکومت کے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیر کونسل کے اختیارات میں کمی اور آزادکشمیر حکومت کو حاصل ہونے والے اہم معاملات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کونسل کی حیثیت اب محض مشاورتی رہ گئی ہے ‘ عبوری آئین 1974کی نئی ہیت کے نمایاں نکات پر بات کرتے ہوئے سینئر وزیر نے کہا ہے کہ نئے آئین کے تحت آزادکشمیر میں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اسلامی طرز زندگی گزارنے کی پابندی ہوگی ۔ہر شخص ذاتی اور اجتماعی طور پر اسلامی طرز زندگی گزارنے کا پابند ہو گا۔آزادکشمیر کے عوام کے فلاح و بہبود کے لیے خصوصی طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جب تک آزادانہ ‘ غیرجانبداراورمنصفانہ طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کا انعقاد نہیں ہو جاتا عبوری آئین 1974ءنافذ العمل رہے گا۔ عبوری آئین 1974ءاب ایکٹ کے بجائے عبوری آئین 1974 کہلائے گا۔ جس کے سیکشن اور سب سیکشن آرٹیکل اور سب آرٹیکل میں تبدیل کر دیئے گئے ۔آئین میں جہاں جہاں مشترکہ اجلاس کی تعریف کی گئی وہاں سے مشترکہ اجلاس کے الفاظ حذف کر کے اسمبلی اجلاس میں تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔آزاد جموں وکشمیر عدالت عظمیٰ اور آزاد جموں وکشمیر عدالت العالیہ کے ایڈہاک جج ‘ اُسی طرح جج ہوں گے جس طرح سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج ہیں ۔ صدر ‘ وزیراعظم ‘ سپیکر ‘ ڈپٹی سپیکر ‘ وزراء‘ وفاقی وزیر اُمور کشمیر ‘ پارلیمانی سیکرٹریز ‘ اسمبلی ممبران اور ممبران کشمیر کونسل غیر منعفت بخش عہدے ہوں گے۔حکومت اُصولی پالیسی وضع کرے گی جس کے تحت آزادکشمیر کے اندر ہر طرح کے تعصبات کے خاتمہ کے لیے سرکاری طور پر اقدامات کیے جائیں گے ۔ خاندانی نظام کو تحفظ دیا جائے گا مقامی حکومتوں کا نظام بلدیاتی انتخابات کے ذریعے وضع کیا جائے گا۔خواتین کی ہر ہر شعبہ زندگی میں نمائندگی یقینی بنائی جائے گی ۔ اقلیتوں کو مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کا بھرپور موقع اور انہیں مکمل تحفظ اور سرکاری ملازمتوں میں اُن کا خصوصی کوٹہ مختص کیا جائے گا۔خاندان ماں اور بچے اور شادی کے عمل کو تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔ سماجی اقدار اور انصاف کی فراہمی کو فروغ دیا جائے گا ۔ سماجی برائیوں کے خاتمہ کیلئے سرکاری سطح پر اقدامات کیے جائیں گے ۔ ہر شخص کو معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے یکساں طور پر آزادانہ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ آزادکشمیر کے شہریوں کو عبوری آئین 1974 کے تحت پاکستان کے آئین 1973 میں دیئے گئے بنیادوں حقوق حاصل ہوں گے ۔ پانچ سے سولہ سال کے بچوں کی تعلیم تک رسائی ممکن بنائی جائے گی ۔آزادکشمیر کے شہریوں کو اطلاعات تک رسائی کا حق بھی حاصل ہو گا۔سینئر وزیر نے بتایا کہ عوام کے عزت و نفس کی حفاظت ‘ مقامی زبانوں کے فروغ ‘ تہذیب و تمدن و مقامی کلچر کے ساتھ فری ٹرائل کا حق حاصل ہو گا جبکہ شہریوں کو دوہری سزاﺅں سے محفوظ کیاجائے گا۔صدر آزادکشمیر اس اُصولی پالیسی پر عملدرآمد کے لیے اپنے مشاہدات پر مبنی رپورٹ ہر سال اسمبلی میں پیش کریں گے ۔ کشمیر کونسل کے ممبران صدر کے انتخاب و مواخذہ کے عمل میں شریک نہیں ہوں گے ۔مشترکہ اجلاس کی جگہ اسمبلی کے اجلاس کے الفاظ آئین میں شامل کیے گئے ہیں ‘ وزراءکی تعداد کل ممبران اسمبلی کے 30 فی صد ہوگی ۔جس کا اطلاق آئندہ اسمبلی سے ہو گا۔وزیراعظم دو مشیران ‘ دو معاون خصوصی اور پانچ پارلیمانی سیکرٹریز کا تقرر کر سکیں گے ۔ وزیراعظم کی جسمانی معذوری یا بیماری کے باعث ناکارہ ہونے کی صورت میں سینئر وزیر وزیراعظم کے اختیارات استعمال کر سکیں گے ۔وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک 25 فی صد ممبران پیش کر سکیں گے ۔آرٹیکل 19 کے سب آرٹیکل 2 کے تحت آزاد کشمیر حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ حکومت پاکستان کی اجازت سے عوام کے مفادکو مدنظر رکھتے ہوئے شرطیہ یا غیر شرطیہ وفاقی اداروں ‘ وزارتوں ‘ اتھارٹیز ‘ آرگنائزیشنزاور آئینی اداروں کو آزادکشمیر میں کام کی اجازت دے سکے ۔آئینی اداروں میں (سپریم کورٹ‘ سینیٹ ‘ قومی اسمبلی ‘ یونیورسٹیز ‘ ہائیر ایجوکیشن ‘ پی ایم ڈی سی ‘ انجینئرنگ کونسل ‘ پیمرا) شامل ہیں ۔حکومت پاکستان بھی شرطیہ و غیر شرطیہ اپنے کچھ مخصوص اختیارات آزادکشمیر حکومت کو تفویض کر سکتی ہے ۔ حکومت آزادکشمیر روزمرہ معاملات کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات کار کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کیے گئے اختیارات اور تعلقات کار وفاقی کابینہ کے نوٹیفکیشن نمبری 8/9/70کوڈ 01 مجریہ 11 مئی 1971ءکے تابع ہوں گے۔اس نوٹیفکیشن کے تحت آزادکشمیر کو معاملات میں صوبے کی طرز پر دیکھا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کونسل کی انتظامی اور مالیاتی اتھارٹی و قانون سازی کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے۔چیئرمین کشمیر کونسل کی جانب سے اپنا اختیار کسی بھی دیگر عہدیدار کو منتقل کرنے کا عمل ختم کر دیا گیا ۔کشمیر کونسل اب ایڈوائزی ڈھانچہ پر مشتمل ہو گی جو حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق تفویض شدہ اختیارات کے بارے میں مشاورت اور تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرے گی۔ آزادکشمیر اسمبلی کے ممبران کی تعداد 53 ہوگی ۔ نئے انتخابی حلقے آبادی کی بنیادپر الیکشن کمیشن آئندہ الیکشن سے پہلے بنائے گا ۔ آزادکشمیر اسمبلی کے 45 ممبران بالغ رائے دہی کی بنیاد پر براہ راست منتخب ہوں گے ۔ آزادکشمیر سے 33ممبران اسمبلی منتخب ہوں گے ۔ ویلی کے حلقوں سے 6ممبران کا انتخاب کیا جائے گا۔ یہ حلقے سابق ضلع مظفر آباد ‘ اننت ناگ (اسلام آباد) ‘ بارہ مولہ پر مشتمل جو علاقے 14 اگست 1947ءکو وجود رکھتے تھے ان علاقوں سے اُس وقت پاکستان کے کسی بھی علاقہ میں ہجرت کر کے مقیم ہونے والے ووٹ دے سکتے ہیں اور منتخب ہو سکتے ہیں۔ جموں کے 6 ممبران 14 اگست 1947ءکو جموں ‘ کھٹوعہ ‘ ریاسی ‘ اودھمپور ‘ پونچھ سٹیٹ ‘ میرپور اور متاثرین منگلا ڈیم مقیم پاکستان منتخب / ووٹ ڈال سکیں گے ۔ مہاجرین کے 12 حلقوں سے منتخب ممبران اسمبلی کو آئینی تحفظ دے دیا گیا ہے ۔ اسمبلی اجلاس سال میں کم از کم 60 دِن لازماً ہو گا ۔ آزادکشمیر اسمبلی عبوری آئین 1974کے تھرڈ شیڈول کے پارٹ اے میں شامل معاملات کے علاوہ تمام شعبہ جات کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے ۔ حکومت پاکستان عبوری آئین 1974ءکے شیڈول تھری کے پارٹ اے کی حد تک قانون سازی کا مکمل اختیار رکھتی ہے ۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی حکومت پاکستان کی اجازت سے عبوری آئین 1974تھرڈ شیڈول کے پارٹ بی کے بارے میں قانون سازی کر سکے گی ۔ آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی قانون سازی کے ذریعے آزادکشمیر کے اندر انکم ٹیکس کے نفاذ کے بارے میں قانون سازی کر سکتی ہے ۔سینئر وزیر آزاد کشمیر حکومت کے مطابق آزادکشمیر میں قرآن و سنت اور اسلامی تعلیمات کے منافی کوئی بھی قانون سازی نہیں ہو سکے گی ۔ تمام مکاتب فکر کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کاحق حاصل ہو گا۔اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل قائم ہو گی جس کے ممبران کی تعداد کم سے کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 10 ہو گی ممبران کا تقرر وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر آزادکشمیر کریں گے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران کی اہلیت کے لیے اسمبلی کے اندر قانون سازی ہو گی ۔ ایسے افراد جو اسلامی تعلیمات قرآن و حدیث ‘ اسلامی فلسفہ ‘ آزاد کشمیر کے سیاسی ‘ قانونی ‘معاشی ‘ انتظامی معاملات کو سمجھتے ہوں گے اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر بن سکےں گے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مکاتب فکر کی نمائندگی یقینی بنائی جائے گی ۔ کونسل میں کم از کم ایک ممبر سابق یا حاضر سروس جج ضرور ہو گا۔ممبران اسلامی نظریاتی کونسل کا اسلامک ریسرچ کے شعبہ میں 15 سالہ تجربہ کا ہونا لازمی ہے ۔ صدر آزادکشمیر ایک ممبر کو چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نامزد کرےں گے ۔ اسمبلی ممبران کی ایک تہائی تعداد کوئی بھی معاملہ ‘ رائے اور رہنمائی کے لیے کونسل کو بھیج سکتے ہیں جبکہ حکومت آزادکشمیر کسی بھی معاملہ میں شرعی رہنمائی کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کر سکتی ہے ۔ کونسل پندرہ دِن کے اندر جواب بھجوانے کی پابند ہے اسلامی نظریاتی کونسل مزید رہنمائی کے لیے پاکستان اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کر سکتی ہے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران تین سال کے لیے مقرر کیے جائےں گے ۔ آزادکشمیر کے آئین میں ترامیم دو تہائی اکثریت سے ممکن ہوں گی ۔آرٹیکل 31 ‘ 33 اور 56 میں ترمیم حکومت پاکستان کی اجازت سے ممکن ہوں گی ۔ مشترکہ اجلاس کی کارروائی آئندہ کیلئے ختم کر دی گئی ہے ۔ اسمبلی کی کارروائی کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا سکے گا ۔ ممبران اسمبلی و مختلف کمیٹیوں کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین اسمبلی کے اندر کہے اور کیے گئے معاملات کے حوالے سے کسی عدالت کے سامنے پیش ہونے سے مستثنیٰ ہوں گے اسمبلی (وہ جگہ جہاں اجلاس ہو ) کے اندر سپیکر اسمبلی کی اجازت کے بغیر داخلہ ممکن نہ ہو گا۔ کشمیر کونسل کا (Consalidatry fund)ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اب صرف آزادکشمیر حکومت کا Consaldatry fundہو گا۔تمام ریونیو ‘ ٹیکس ‘ انکم ٹیکس آزاد کشمیر حکومت کے Consaldatry fundاکاﺅنٹ میں جمع ہوں گے ۔ سپریم کورٹ آزادکشمیر کی عدالتی فیس بھی اب آزادکشمیر Consaldatry fund میں جائے گی۔آرڈیننس کے 4ماہ پورے ہونے کے بعد مزید توسیع کے لیے اسمبلی سے قرارداد منظور کروانا ضروری ہو گا آئین میں جہاں جہاں لفظ کونسل تھا آزادکشمیر حکومت سے تبدیل کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ آزادکشمیر عدالت العالیہ کے اندر شریعت اپیلینٹ بنچ قائم ہو گا ۔ چیف جسٹس عدالت العالیہ موجود ججز میں سے کسی کو بھی شریعت اپیلنٹ بنچ کے اختیارات سونپ سکیں گے ۔ شریعت اپلینٹ بنچ میں عالم جج کا تقرر صدر آزادکشمیر وزیراعظم کی ایڈوائس پر کریں گے ۔ عالم جج کی اہلیت اسمبلی طے کرے گی۔شریعت اپیلینٹ بنچ کو آئینی تحفظ دے دیا گیا ہے ۔پبلک سروس کمیشن کے ممبران کی اہلیت و میعاد اسمبلی طے کرے گی ان کا تقرر صدر آزادکشمیر وزیراعظم کی ایڈوائس پر کریں گے۔ چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی تقرری کیلئے قائد ایوان قائد حزب اختلاف سے مشورہ کریں گے ۔ موجودہ پبلک سروس کمیشن کو تحفظ حاصل رہے گا ۔ الیکشن کمیشن چیف الیکشن کمشنر اور 2ممبران پر مشتمل ہو گا ۔ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری چیئرمین کشمیر کونسل کی ایڈوائس پر صدر آزادکشمیر کریں گے ۔ اس سلسلے میں قائد ایوان قائد حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کریں گے ۔ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی اہلیت سپریم کورٹ ‘ ہائی کورٹ کے سابق جج یا گریڈ 21کا سابق آفیسر ہونا طے پائی ہے ۔ الیکشن کمیشن کے دو ممبران کا تقرر وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر آزادکشمیر کریں گے ۔ الیکشن کمیشن ‘ صدر ‘ قانون ساز اسمبلی اور اے جے کے کونسل کے ممبران کے ساتھ بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کا ذمہ دارہو گا ۔ چیف الیکشن کمشنر کی عدم موجودگی پر سینئر ممبرالیکشن کمیشن بطور چیف الیکشن کمشنر فرائض سرانجام دے گا۔ الیکشن کمیشن کی میعاد پانچ سال ہو گی ۔ تاہم موجودہ چیف  الیکشن کمشنر اپنے عہدے کی میعاد پوری کریں گے ۔ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کوبذریعہ سپریم جوڈیشل کونسل عہدوں سے ہٹایا جا سکے گا۔ آڈیٹر جنرل کا تقررکشمیر کونسل کے چیئرمین کی ایڈوائس صدر آزادکشمیر کریں گے ۔ آزاد جموں و کشمیر و چیئرمین کشمیر کونسل کے اب تک بنائے گئے قوانین کے تحت جاری شدہ احکامات کو آئینی تحفظ حاصل ہو گا اب تک بنائے گئے ان قوانین کو اسمبلی ‘ حکومت پاکستان ‘ آزاد حکومت کے قوانین کہا جائے گا ۔ آزادکشمیر کونسل کے فنڈز ‘ اثاثے‘ جائیدادیں بشمول ملازمین آزاد کشمیر حکومت کو معہ اختیارات منتقل ہو گئے ہیں۔ کشمیر کونسل کے ڈیپوٹیشن پر تعینات ملازمین واپس اپنے محکموں میں جا سکیں گے ۔ کشمیر کونسل کے منتخب ممبران اور ملازمین کی تنخواہ مراعات و پنشن آزاد کشمیر حکومت کے ذمہ ہو گی ۔ آزاد کشمیر حکومت کی تمام جائیدادیں اور معاہدہ جات صدر آزاد کشمیر کے نام سے ہوں گے ۔ آزادکشمیر میں موجود بے نامی یا لاوارث جائیداد آزاد کشمیر حکومت کو منتقل ہو گی سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے مزید کہا کہ تمام قدرتی وسائل جو معاشی لحاظ سے قومی ورثہ ہیں اور آئندہ نسلوں کے لیے ہیں اُنہیں محفوظ بنانے کےلئے کئے گئے ضروری اقدامات آزادکشمیر اسمبلی کے ذریعے باقاعدہ بنائے جائیں گے ۔ قدرتی وسائل کو معاشی ترقی کیلئے اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے عوامی مفادکے تابع بنایا جائے گا ۔ قدرتی وسائل کے استعمال کے عوض آزادکشمیر حکومت معاشی مفادات حاصل کر سکے گی۔اور اس سلسلے میں حکومت پاکستان کے کسی بھی ادارے کے ساتھ معاہدہ کر سکے گی ۔ آزادکشمیر میں ایمر جنسی کا نفاذ اسمبلی کی اجازت سے ہو گا اور ایک ماہ کے اندر صدر غیر معمولی حالات کے پیش نظر اسمبلی سے ایمر جنسی کے نفاذ کےے لیے اجازت لینے کے پابند ہوں گے ۔ ایمر جنسی 2 ماہ کیلئے ہو گی۔ ایمر جنسی کے نفاذ پر اسمبلی موجود رہے گی البتہ بنیادی حقوق معطل ہوں گے ۔ عبوری آئین 1974ءکے نفاذ کے لیے رولز وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر آزادکشمیر نافذ کریں گے ۔ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کا حلف ہو گا ۔ تھرڈ شیڈول پارٹ بی کے تحت کونسل کو حاصل 52 معاملات میں قانون سازی کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے ۔سینئر وزیر نے بتایا کہ تھرڈ شیڈول پارٹ ون میں دفاع ‘ کرنسی ‘ خارجہ امور ‘ فارن ایڈ و فارن ٹریڈ ‘ پوسٹل ٹیلی گراف ‘ ٹیلی فون ‘ وائرلس ‘ براڈ کاسٹنگ ‘ پوسٹ آفس ‘ سیونگ بینک ‘ نیوکلیئر انرجی ومنزل ریسورس جن سے نیو کلیئر انرجی بنتی ہے ۔ نیوکلیئر فیولز و نیوکلیئر پیداوار ‘ نیوکلیئر شعائیں ‘ ایئر کرافٹ ‘ ایئر نیوی گیشن ‘ ایئر ٹریفک کے جملہ اُمور ‘ ہوائی سفر و تجارتی سامان کی ترسیل ‘ کاپی رائٹ ‘ ایجادات ‘ ڈیزائن ‘ ٹریڈ مارک ‘ تجارتی ٹریڈ مارک ‘ افیون کی تجارت ‘ سٹیٹ بینک پاکستان ‘ وہ تمام بینک اور کارپوریشن جو آزادکشمیر کی کارپوریشن نہیں ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے قوانین ‘ سٹاک ایکسچینج وہ تمام مارکیٹیں جو آزادکشمیر سے متعلق کاروبار نہیں کرتیں ۔ کارپوریشن کے قانونی و تجارتی معاملات ‘ سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلقہ اُمور کے بارے میں پلاننگ ‘ ہائی ویز جو آزادکشمیر کی حدود سے باہر ہیں وہ تمام سڑکیں جو دفاعی نوعیت کی ہیں بیرونی معاملات ‘ معاہدہ جات ‘ تعلیمی و ثقافتی ایگریمنٹ ‘ کیے گئے معاہدہ جات کے حوالہ سے عملدرآمد ‘جرائم پیشہ مطلوب افراد کی بیرون آزادکشمیر اور پاکستان سے حوالگی کے لیے قانون سازی ‘ درآمدات و برآمدات سے متعلق کسٹم قوانین کا اطلاق وہ تجارت جو بارڈر پر ہوتی ہے۔ بین الاقوامی معاہدہ جات اور ایگریمنٹ بین الاقوامی ثالثی سے متعلق اُمور ‘ ارضیاتی و موسمیاتی سروے سے متعلق اُمور اوزان و پیمائش سے متعلقہ اُمور درآمدت و برآمدت پر کسٹم ڈیوٹی کا نفاذ ‘پاکستان میں کام کرنے والی کارپوریشنز پر ٹیکسز ‘ ان معاملات کے جو اس پارٹ میں درج ہیں کے مغائر قانونی اقدام سے متعلقہ اُمور ‘ ان معاملات جو اس پارٹ میں درج ہیں کے اعداد و شمار و انکوائیز کے  معاملات وہ تمام اُمور جو حادثاتی یا واقعاتی طور پر اس پارٹ میں درج ہیں سے متعلقہ قانونی اُمور چوہدری طارق فاروق کے مطابق تھرڈ شیڈول پارٹ بی ان معاملات پر مشتمل ہے جن کے تحت حکومت آزادکشمیر پاکستان کی حکومت کی اجازت سے جن معاملات پر قانون سازی کر سکے گی اُن میں ریلویز ‘ منرلز ‘ آئیل و قدرتی گیس ‘ آگ پکڑنے والے قدرتی وسائل ‘ سائنس و ٹیکنالوجی پلاننگ ‘ قرضہ جات کی نگرانی ‘ صنعتی بائلرز ‘ مردم شماری ‘ مسئلہ کشمیر حل ہونے تک آزادکشمیر حکومت کی پراپرٹی ‘ برقیات ماسوائے اپنی پیداوار ‘ ٹرمینلز پر سفری ٹیکس ‘ ریلوے ‘ ہوائی یا کسی دوسرے ذریعے سے سفر پر ٹیکس ‘ آزادکشمیر پولیس کی دیگر صوبوں کے اندر فرائض کی انجام دہی کے حوالے سے اُمو ر‘پاکستان کے دیگر صوبوں کی پولیس کے افسران کی آزادکشمیر کے فرائض سے متعلقہ اُمور آزادکشمیر حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی پولیس آزادکشمیر میں مداخلت نہیں کر سکتی ‘اس حوالہ سے قانون سازی‘ مطلوب و مفرور ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے قانون سازی ‘ قیدیوں کی منتقلی کے حوالے سے قانون سازی ‘وبائی امراض کی روک تھام کیلئے اقدامات ‘ نصاب تعلیم و تعلیم سے متعلقہ اُمور پر قانون سازی ‘ ریسرچ سے متعلق ہائیر ایجوکیشن کے لیے قانون سازی ‘ میڈیکل و دیگر شعبہ جات ماسوائے شعبہ قانون کے لیے قانون سازی ‘ فنی تعلیم کےلئے اداروں کا قیام ‘ صوبوں کے ساتھ رابطہ کے طریقہ کار ‘ اس لسٹ میں شامل معاملات متعلق عدالتی حدود و اختیارات اس حصہ میں شامل میں معاملات کے لیے قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی‘ شماریات یا ڈیٹا کی منتقلی کے لیے قانون سازی ‘ حادثاتی و واقعاتی طور پر اس پارٹ میں درج معاملات کے حوالے سے قانون سازی شامل ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔