اتوار 23  ستمبر 2018ء
اتوار 23  ستمبر 2018ء

عدالت العالیہ کے پانچ نئے ججز کی تقرری چیلنج

مظفرآباد، راولاکوٹ ( دھرتی نیوز) آزادجموں وکشمےر ہائےکورٹ مےں حال ہی مےں تعےنات ہونے والے 5 ججز کی تقرریوں کو بےرسٹر عدنان نواز خان اےڈووکےٹ سپرےم کورٹ نے بذرےعہ رٹ پٹےشن عدالت العالےہ مےں چےلنج کر دےا ہے ۔رٹ پٹےشن مےں موقف لےا گےا ہے کہ عدالت العالےہ مےں ججز تعےناتی کا طرےقہ اےکٹ 1974 کی دفعہ43 ذےلی دفعہ (2-A)اور (3) مےں درج ہے جسکے تحت صدررےاست آزاد جموں وکشمےر چےف جسٹس آزاد جموں وکشمےر اور چےف جسٹس عدالت العالےہ سے کنسلٹےشن کے بعد کونسل کی اےڈوائس پر جج ہائےکورٹ تعےنات کر سکتے ہےں ۔ پٹےشن مےں مذےد موقف لےا گےا ہے کہ سپرےم کورٹ آف پاکستان کے مشہور مقدمہ الجہاد ٹرست بنام فےڈرےشن آف پاکستان مےں ججز کی تعےناتی کی نسبت واضع کئے گئے رہنما اصولوں کے مطابق صدر رےاست دونوں چےف جسٹسز صاحبان کی سفارشات کی روشی مےں متفقہ ناموں کو ہی آزاد جموں وکشمےر کونسل کے پاس منظوری کے لےے بھےج سکتے تھے تاہم صدر رےاست آزاد جموں وکشمےر نے جن نو تعینات ججوں کے نام کشمےر کونسل کو بھےجے ان مےں سے کسی نام پر بھی دونوں چےف جسٹسزصاحبان متفق نہ تھے جبکہ کشمےر کونسل نے اےکٹ 1974 کی دفعہ43 ذےلی دفعہ (2-A) کی خلاف ورزی اور سپرےم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اعلیٰ عدلےہ کے ججز کی تعےناتی کی نسبت طے کےئے گے اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے نوتعےنات ججز کی تقرریوں کی منظوری دی ۔پٹےشن مےں مذےد موقف لےا گےا کہ نو تعےنات ججز مےںسے اےک جج کو بطور ڈسڑکٹ اےنڈ سےشن جج ابھی 3 سال بھی مکمل نہ ہوئے تھے جسکی تعےناتی اےکٹ74 کی دفعہ43 ذےلی دفعہ3 (b) کے بھی مغائر کی گئی ہے ۔پٹےشنر کا مذےد ےہ موقف ہے کہ مذکورہ تعےناتےاں چےف جسٹس ہائےکورٹ کی سفارشات کو مکمل طور پر پس پشت ڈال کر خلاف قانون کی گئی ہےںجبکہ اےکٹ 74مےں عدالت العالےہ و عدالت العظمیٰ مےں ججز کی تعےناتی کی نسبت کسی وکےل کی عدالت العالےہ مےں پرےکٹس ہی بنےادی قابلےت ہے لہٰذا چےف جسٹس عدالت العالےہ کی رائے کو کسی طور بھی نظر انداز نہ کےا جاسکتا ہے اور اگر اےسا ہواتو ےہ اےکٹ1974 مےں ترمےم کے مترادف سمجھا جائے گااور آئندہ عدالت العالےہ کے چےف جسٹس کو عدالت العالےہ مےں ججز کی تعےناتی کی نسبت مکمل طور پر غےر ضروری سمجھا جائے گاجس کی قانون مےں کوئی گنجائش موجودنہ ہے ۔پٹےشنر کا ےہ کہنا ہے کہ نو تعےنات ججز کی تقرری کے حوالے سے صدررےاست آزادجموں وکشمےر نے جو انوکھا طرےقہ اختےار کےا ہے اس کی آئےن مےں کوئی گنجائش موجود نہ ہے جس کی وجہ سے عوام الناس کے ذہنوںمےں شدےد شکوک وشبہات پےدا ہورہے ہےں اور عدلےہ کی آزادی کی نسبت عوامی حلقوں مےں بھی سوال اٹھائے جارہے ہےںاور اب آزاد جموں وکشمےر قانون ساز اسمبلی مےں بھی اس معاملہ پر بحث شروع ہو چکی ہے ۔پٹےشن مےں ےہ بھی موقف لےا گےا ہے کہ سپرےم کورٹ آف پاکستان نے مقدمہ عنوانی الجہاد ٹرسٹ بنام فےڈرےشن آف پاکستان مےں ےہ بھی واضع کر دےا ہے کہ کنسلٹےنز مےںسے کوئی بھی کم اہم ےا کم تر نہ ہے اور چےف جسٹس ہائےکورٹ کی رائے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ چےف جسٹس سپرےم کورٹ کی ۔پٹےشن مےں مذےد ےہ موقف لےا گےا کہ کوئی بھی فےصلہ آئےن( جو کہ سپرےم لاءہے ) کے مغائر نہ ہوسکتا ہے اور اےسا فےصلہ تارےخ اجراءسے ہی کالعدم سمجھا جائے گا۔رٹ پٹےشن مےںاستدعا کی گئی کہ نو تعےنات ججز کی تقرری کی نسبت نوٹےفکےشن محررہ 21-05-2018 اےکٹ 1974 سے متصادم ہونے کی بناءپر کالعدم قرار دےا جائے اور عدالت العالےہ کے ججز کی آسامےوں کو خالی قرار دےتے ہوئے آزاد جموں وکشمےر کونسل کو ڈائرےکشن جاری فرمائی جائے کہ وہ اےکٹ1974 مےں درج طرےقہ کار کو سامنے رکھتے  ہوئے از سر نو اپنی اےڈوائس جاری فرمائے۔رٹ پٹےشن مےں کل 14 رسپانڈنٹس رکھے گے ہےن جن مےں آزاد گورنمنٹ،چےئرمےن آزاد جموں وکشمےر کونسل ،آزاد جموں وکشمےر کونسل ،سےکرٹری و جوائنٹ سےکرٹری آزاد جموں وکشمےر کونسل، وزےر امور کشمےر ،صدر رےاست ،محکمہ قانون و سےکرٹری قانون کے علاوہ نو تعےنات ججز جن مےں رضاءعلی ،محمد اعجاز خان،چوہدری خالد ےوسف ،راجہ سجاداحمد خان اور چوہدری محمد منےر شامل ہےں۔