هفته 22  ستمبر 2018ء
هفته 22  ستمبر 2018ء

چھ رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ،روشن خورشید بروچا وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان تعینات

اسلام آباد (دھرتی نیوز)پاکستان میں نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک کی چھ رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔منگل کو ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین نے نگران کابینہ سے حلف لیا۔کابینہ میں شامل اراکین میں سابق گورنر سٹیٹ بینک شمشاد اختر، عبداللہ حسین ہارون، روشن خورشید بروچا، اعظم خان، سید علی ظفر اور محمد یوسف شیخ شامل ہیں۔حلف برداری کے بعد وزرا ءکو قلمدان بھی سونپ دیے گئے ہیں اور کابینہ ڈویڑن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عبداللہ حسین ہارون کو وزارت خارجہ اور قومی سلامتی ڈویڑ ن کا قلمدان دیا گیا جب کہ وزارت دفاع و دفاعی پیداوار کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہو گا۔عبداللہ حسین ہارون کا تعلق کراچی کے مشہور ہارون خاندان سے ہے اور وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب رہ چکے ہیں۔عبداللہ حسین ہارون سندھ اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں۔ڈاکٹر شمشاد اختر کو وزارت خزانہ، شماریات اور وزارت منصوبہ بندی کا قلمدان دیا گیا ہے، اس کے ساتھ وزارت تجارت اور وزارت صنعت و پیدوار کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہوگا۔ڈاکٹر شمشاد اختر عالمی بینک کی نائب صدر اور 2006 سے 2009 تک پاکستان کے سٹیٹ بینک کی گورنر رہ چکی ہیں۔اس سے قبل وہ 2004 میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی ڈائریکٹر جنرل بھی تھیں۔ڈاکٹر شمشاد اختر اقوام متحدہ میں انڈر سیکریٹری جنرل رہ چکی ہیں اور وہ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون کی سینیئر مشیر بھی تھیں۔محمد اعظم خان کو وزارت داخلہ، وزارت کیڈ اور وزارت نارکوٹکس کنٹرول کا قلمدان دیا گیا ہے اور ان کے پاس وزارت بین الصوبائی رابطہ کا اضافی چارج بھی ہوگا۔اعظم خان ریٹائرڈ سینئر بیورو کریٹ ہیں اور وہ چیف سیکریٹری پختونخوا کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ وفاقی سیکرٹری پٹرولیم اور مذہبی امور بھی رہ چکے ہیں۔وفاقی کابینہ میں سید علی ظفر کو وزارت قانون و انصاف، وزارت پارلیمانی امور اور وزارت اطلاعات کا قلمدان دیا گیا ہے۔بیرسٹر علی ظفر ممتاز ماہر قانون ایس ایم ظفر کے صاحبزادے ہیں۔وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ انھیں سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں عدالتی معاون بھی مقرر کیا تھا۔روشن خورشید بروچا کو وزارت انسانی حقوق، کشمیر و گلگت بلتستان امور اور وزارت سیفران کا قلمدان دیا گیا ہے۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والی روشن خورشید سوشل ورک میں ماسٹرز ڈگری رکھتی ہیں۔وہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2000 سے 2002 تک صوبائی وزیرِ سوشل ویلفئیر بھی رہیں اور 2003 سے 2006 تک وہ بلوچستان سے سینیٹر بھی رہ چکی ہیں۔روشن خورشید قومی کمیشن انسانی ترقی کی قائم مقام چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔یوسف شیخ کو وزارت وفاقی تعلیم پیشہ ورانہ تربیت کا چارج دیا گیا ہے جب کہ وزارت صحت اور وزارت مذہبی امور کا اضافی چارج بھی ا±ن کے پاس ہوگا۔نگراں کابینہ میں شامل چھٹے وزیر شیخ محمد یوسف نے تمام زندگی تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔ وہ کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں اور آرمی ایجوکیشن کور سے ریٹائرڈ میجر ہیں۔یاد رہے کہ نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک نے یکم جون کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور وہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات 2018 کے انعقاد کے بعد بننے والی حکومت تک ملک کے وزیراعظم رہیں گے۔