هفته 22  ستمبر 2018ء
هفته 22  ستمبر 2018ء

توہین عدالت کیس، ممبر اسمبلی سردار خالد ابراہیم 13 جون کو دوبارہ عدالت میں طلب

مظفراباد (دھرتی نیوز)ممبر قانون ساز اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان کو سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر نے اپنا بیان داخل کروانے کے لیے 13 جون تک کی مہلت دی ہے ۔بدھ کو اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس کے سامنے پیش کیے گئے ریکارڈ میں بتایا گیا کہ سردار خالد ابراہیم 5 جون کو عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کی جانب سے کوئی جواب بھی داخل نہیں کیا گیا۔عدالت نے اس مقدمے کو اہم نوعیت کا مقدمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممبر اسمبلی نے عدالتی نوٹس لینے سے بھی انکار کیا ہے اور پریس کانفرنس کے ذریعے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ ایسا ہوا ہے ۔یہ نہ صرف توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ جموں و کشمیر اسمبلی( الیکشنز) آرڈینس 1970 کی دفعہ 5 ذیلی دفعہ (v11 ) کے تحت ان کے مواخذے کا مواجب ہے ۔لہذا وہ 13 جون 2018 کو عدالت میں پیش ہو کر اپنا جواب داخل کریں تا کہ مزید کارروائی جاری رکھی جا سکے ۔چیف جسٹس نے رجسٹرار کو بھی ہدایت کی کہ اسمبلی سے ان کی تقریر کا متن اور میڈیا میں آنے والی ان سے منسوب خبروں کا ریکارڈ بھی پیش کیا جائے۔سردار خالد ابراہیم خان کو گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے ایک جسٹس کی جانب سے عدالتی نوٹس بھیجا گیا تھا جس میں انہیں پانچ جون کو عدالت میں پیش ہو کر یہ وضاحت کرنے کو کہا گیا تھا کہ انہوں نے عدالت کے ججز سے متعلقہ جو اظہار خیال کیا ہے اس کے کیا ثبوت ہیں۔سردار خالد ابراہیم نے عدالت میں پیش نہ ہونے کا اعلان کیا تھا اور اپنے موقف پر بھی قائم رہنے کا عندیہ دیا تھا۔