پیر 19 نومبر 2018ء
پیر 19 نومبر 2018ء

آزاد کشمیر میں چار نئے حلقوں کے لیے تیاریاں ،حویلی میں نیا حلقہ بنائے جانے کے امکانات ختم

راولاکوٹ ( دھرتی نیو ز) آزادکشمیر اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی تیرہویں ترمیم کے بعد آزادکشمیر میں چار اضافی حلقوں کے قیام کی راہ تو ہموار ہو گئی لیکن یہ طے ہونا باقی کہ اضافی حلقے کون سے اضلا ع میں بنائے جائیں گئے۔ اضافی حلقہ جات بنائے جانے کے بعد اسمبلی میں آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کی نشستوں کی تعداد جو قبل ازیں 29تھی 33ہو جائے گی ، یہ نئے حلقہ جات بنانے کا اختیار بھی اب الیکشن کمیشن کے پاس ہو گا آزادکشمیر میں نئی مردم شماری کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد کشمیر کی کل آبادی 4045366 ہے۔ اضلاع کی آبادی کا تناسب اس طرح ہے کہ ضلع کوٹلی کی آبادی 7,74194ہے مظفرآباد کی 650370پونچھ کی 500571 ، میرپور کی 456200، بھمبر کی 420624باغ کی 371919، سدھنوتی کی 230529، نیلم کی 191251، اور حویلی کی 152124نفوس پر مشتمل ہے ، میرپور ڈویژن کے ضلع کوٹلی کی پہلے سے پانچ نشستیں ہیں آبادی کے تناسب سے وہاں ایک سیٹ کا اضافہ ہو گا اس طرح کل نشستیں چھ ہو جائیں گی ، میرپور کی پہلے سے چار سیٹیں ہیں جو آبادی کے تناسب سے چار ہی رہیں گی۔ بھمبر کی تین نشستیں ہیں اب موجودہ فارمولہ کے تحت بھمبر کی ایک سیٹ بھی بڑھ سکتی ہے جس کے بعد وہاں سیٹیوں کی مجموعی تعداد چار ہو جائے گی ،ضلع حویلی کی سیٹ بڑھنے کا امکان کم ہے ۔ضلع پونچھ کی مجموعی آبادی کا تناسب اس فارمولے پر پورا اترتا ہے جس کے تحت نئے حلقے بنائے جانے ہیں ، اس طرح پونچھ میں بھی ایک حلقے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح نیلم کے ضلع میں بھی ایک سیٹ کا اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ کوٹلی پہلے ہی آبادی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے لہذا وہاں ایک نیا حلقہ بننا ناگزیر ہے ۔نئی حلقہ بندی کا اختیار اب حکومت کی بجائے الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔ واضح رہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں بھی کوٹلی، پونچھ، حویلی اور نیلم کے اضلاع میں نئے حلقے بنائے جانے کی تجویز تھی اور پونچھ میں شہر کا حلقہ علیحدہ کیا جانا تھا لیکن اب حویلی کا نیا حلقہ بننا مشکل نظر آتا ہے ۔ قانونی ماہرین کے مطابق آبادی کے تناسب سے موجودہ وقت میرپور ڈویژن کے دو اضلاع بھمبر ، اور کوٹلی میں ایک ایک اضافی حلقہ جبکہ ضلع نیلم اور پونچھ میں ایک ایک نیا حلقہ بنائے جانے کی راہ ہموار ہے جس کے لیے ابتدائی کام شروع ہو چکا ہے لیکن اس فیصلے پر عملدرآمد آئندہ انتخابات کے شیڈول سے قبل ہی ہو گا۔