اتوار 23  ستمبر 2018ء
اتوار 23  ستمبر 2018ء

انجمن تاجران راولاکوٹ نے گرینڈ اجلاس طلب کر لیا

راولاکوٹ(دھرتی نیوز) انجمن تاجران راولاکوٹ نے ضلع کونسل کے ٹیکسز ، موبائل فون ٹیکسز اور سٹی ڈویلپمنٹ منصوبہ جات کو اپنے کنٹرول میں لینے سے محکمہ جات کے انکار سمیت دیگر مسائل پر گرینڈ اجلاس دس جولائی کو دن دو بجے راولاکوٹ میں طلب کر لیا گیا ہے، گرینڈ اجلاس میں ٹرانسپورٹرز، تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور ٹریڈ یونینز کے نمائندوں کو بھی دعوت دی گئی ہے، انجمن تاجران راولاکوٹ کے صدر سردار افتخار فیروز نے مرکزی دفتر میں یونین اجلاس میں انجمن تاجران کے تمام عہدیداران کی مشاورت کے بعد رابطہ کمیٹیاں تشکیل دیدی ہیں، تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنے کے علاوہ انجمن تاجران کے عہدیداران شہر بھر میں رابطہ مہم چلائیں گے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر انجمن تاجران سردار افتخار فیروز، جنرل سیکرٹری حاجی اعجاز حنیف، ڈپٹی جنرل سیکرٹری سردار طاہر فاروق، سیکرٹری مالیات آصف اشرف، چیف آرگنائزر عرفان اشتیاق، سیکرٹری اطلاعات تنویر خالق،قاضی کامران اور دیگر مقررین نے کہا کہ حکومت نے تاجران کے مرکزی عہدیداران سے مذاکرات کے بعد یہ طے کیا تھا کہ تاجروں کی مشاورت کے بغیر کوئی ٹیکس نافذ نہیں کیا جائیگا لیکن رات کے اندھیرے میں نوٹیفکیشن جاری کر کے چونگیاں قائم کر دی گئی ہیں جس سے حکومت کے عوام کےساتھ کئے جانیوالے سلوک کا اندازہ ہو رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ریڑھی بان سے لیکر ٹائر پنکچر لگانے والے تک پر بھاری ٹیکسز نافذ کئے گئے ہیں لیکن دوسری طرف حکومت آج تک راولاکوٹ سمیت آزادکشمیر بھر میں پینے کا صاف پانی تک مہیا نہیں کر سکی ہے، راولاکوٹ میں آنیوالے دنوں میں قحط سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اب بھی جو پانی شہری استعمال کر رہے ہیں اس میں اکثریت اپنی مدد آپ کے تحت نکالا جانیوالا پانی ہے، مواصلات کا شعبہ عبوری آئین میں حکومت پاکستان کے اختیارات میں دیا گیا ہے لیکن موبائل کمپنیاں صارفین کو ٹیکسٹ میسج کے ذریعے اطلاعات دے رہی ہیں کہ ساڑھے بارہ روپے ٹیکس حکومت آزادکشمیر نے موبائل کارڈز پر لگادیا ہے جبکہ دس روپے سروس چارجز لئے جائیں گے، جبکہ پاکستان بھر میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد موبائل کارڈز پر ہر طرح کے ٹیکسز اور سروس چارجز ختم کرتے ہوئے پورا بیلنس فراہم کیا جا رہا ہے لیکن آزادکشمیر کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ 94مختلف اقسام کے ٹیکسز نافذ کرتے ہوئے ناصرف تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو ہراساں کیا جا رہا ہے جبکہ ان ٹیکسز کا براہ راست اثر غریب عوام کی تمام تر پرتوں پر پڑے گا، انہوں نے کہا کہ دوسری جانب اربوں روپے قرض لیکر سٹی ڈویلپمنٹ منصوبہ جات پر صرف کئے گئے ہیں لیکن کوئی ایک بھی منصوبہ ایسا نہیں ہے جو قابل رفتار ہو، کسی محکمہ نے ابھی تک منصوبہ جات کو اپنی تحویل میں نہیں لیا ہے، واٹر سپلائی سکیم کو ناقابل رفتار قرار دیکر پبلک ہیلتھ نے اپنی تحویل میں لینے سے انکار کر دیا ہے، سیوریج سسٹم کو اپنی تحویل میں لینے کےلئے کوئی محکمہ تیار نہیں ہے، پانی کے ذرائع تعمیر نہیں کئے جا سکے ہیں، شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، تمام تعمیر ہونیوالی سڑکیں دوبارہ تباہ ہو رہی ہیں لیکن تاحال محکمہ شاہرات نے انہیں اپنی تحویل میں نہیں لیا ہے، انہوں نے کہا کہ نیسپاک نے چینی کمپنیوں کے ساتھ مل کر آر سی ڈی پی حکام کی ملی بھگت سے راولاکوٹ کے منصوبہ جات کو تباہ و برباد کر دیا ہے، آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کا خمیازہ آنیوالی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا، اس لئے انجمن تاجران شہر کے مسائل پر خاموشی اختیار نہیں کر سکتی، ہم نے بارہا حکام بالا کو ملاقاتیں کرتے ہوئے اور بذریعہ میڈیا اپنے تحفظات سے آگاہ کیا لیکن تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، اس لئے اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے، اب دس جولائی کے بعد جو تحریک شروع کی جائیگی وہ تمام تر مسائل کے حل تک جاری رکھی جائیگی، قبل ازیں صدر انجمن تاجران افتخار فیروز کی قیادت میں عہدیداران کے وفد نے ڈپٹی کمشنر پونچھ انصر یعقوب اور بعد ازاں ایس ایس پی پونچھ چوہدری منیر ، ڈی ایس پی راولاکوٹ وحید گیلانی ، ایس ایچ او سردار اعجاز خان اور دیگر پولیس افسران سے بھی ملاقاتیں کرتے ہوئے شہر کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔