بدھ 21 نومبر 2018ء
بدھ 21 نومبر 2018ء

توہین عدالت کیس،ممبر قانون ساز اسمبلی سردار خالد ابراہیم خا ن پر چارج شیٹ

مظفرآباد(اے این این)آزادجموں وکشمیر سپریم کورٹ نے رکن اسمبلی سردار خالد ابراہیم پر فرد الزام عائد کرتے ہوئے آئندہ تاریخ سماعت 4اکتوبر مقرر کر دی ،منگل کے روز چیف جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیا ،سینئر جج راجا سعید اکرم پر مشتمل بینچ نے روبکار عدالت ،راجہ امجد اعلی خان وغیرہ ،سردار افتخار احمد خان وغیرہ بنام سردار خالد ابراہیم خان کیسز کی سماعت کی ،سائلان راجہ امجد علی خان، ہارون ریاض مُغل، راجہ ذوالقرنین عابد، راجہ ضیغم ، راجہ ارشد و صغیر جاوید ، ایڈووکیٹس اصالتاً پیش ہوئے ،عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تاریخ پر مسﺅل کو عرضی عنوانی ”سردار افتخار بیگ وغیرہ بنام سردار خالد ابراہیم خان “کی نقل برائے وضاحت ارسال کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں مس نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ ،ممبر آزاد جموں و کشمیر بار کونسل نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر مہلت چاہی تھی کہ آئندہ تاریخ پر مسﺅل کی طرف سے وکالت نامہ پیش کیا جائے گا ۔ دفتر نے ریکارڈ پر مسﺅل کی 14جون 2018ءکی پریس کانفرنس کے متعلق اخباری تراشہ جات شامل کیے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ مسﺅل نے مس نبیلہ ایوب ایڈ کی پیشی کے حوالے سے عدالت پر سنگین اور بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے عدالت کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں مس نبیلہ ایوب سے وضاحت طلب کی جائے کہ وہ عدالت میں پیشی کے حوالے سے اپنا مو¿قف پیش کرے نیز بار کونسل کو لکھا جائے کہ وہ مس نبیلہ ایوب کے عدالت میں پیش ہونے اور اس نسبت اُس کے کردار کے حوالے سے آئندہ تاریخ پر اپنی رپورٹ پیش کرے۔ مسﺅل کے خلاف 14جون 2018ءکی مبینہ پریس کانفرنس کی نسبت مزید کارروائی مس نبیلہ ایوب کی وضاحت اور بار کونسل کی رپورٹ کے بعد عمل میں لائی جائے گی جسے آئندہ تاریخ تک موخر کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں الگ فائل مرتب کی جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مسﺅل کو قبل ازیںاسمبلی خطاب کے حوالے سے وضاحت کے لیے نوٹس جاری کیا گیا جس کی اطلاع اور تعمیل کے باوصف مسﺅل نے کوئی وضاحت عدالت میں پیش نہ کی بلکہ پریس کے ذریعے سے مسﺅل نے جن خیالات کااظہار کیا ہے وہ انتہائی قابل اعتراض ،خلاف قانون، دشنام طرازی اور بہتان تراشی پر مبنی ہیں۔ مسﺅل کے اس طرزِ عمل اور اخباری تراشہ جات کے ملاحظہ سے عدالت کو اطمینان ہوچکا ہے کہ وہ دانستہ عدالت میں پیش ہونے سے گریزاں ہے اور وہ اپنے طرزِ عمل کی وضاحت نہ کرنا چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ روز آزاد جموں و کشمیر بار کونسل کے ممبران خواجہ مقبول وار، میر شرافت، سردار محمد حبیب خان، سردار محمد اختر، شیرزمان اعوان اور سردار آزاد خان، ایڈووکیٹس، راقم اور میرے بھائی جج کے روبرو چیمبر میں پیش ہوئے اور اظہار کیا کہ آزاد جموں و کشمیر بار کونسل نے اپنے اجلاس میں معاملہ ہذا کی اہمیت، آئین کی بالا دستی ،عدلیہ کی آزادی اور تحفظ کے مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے مسﺅل سے تفصیلی ملاقات کی ہے ۔مسﺅل نے انہیں اپنی طرف سے پیش ہونے کا اختیار تو نہیں دیا تاہم اُس نے بار کونسل کے کردار ادا کرنے کے عمل پر اتفاق کیا ہے۔ بار کونسل کی کمیٹی نے استدعا کی کہ معاملہ ہذا میں مہلت دی جائے۔ ہماری رائے میں نوعیت کے اعتبار سے گو کہ قانونی تقاضہ ہے کہ کارروائی اسی ہفتہ میں مکمل کی جائے تاہم چونکہ بار کونسل ،آزاد جموں و کشمیر کا ایک اہم ادارہ ہے جس کا عدلیہ کی آزادی اور تحفظ میں اہم کردار ہے اس لیے بار کونسل کی کمیٹی کی استدعا کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بصورت دیگر بھی چونکہ عدالت ہذا کی موسم گرما کی تعطیلات اگلے ہفتے سے ہورہی ہیںاس لیے بار کونسل کی استدعا کو پذیرائی بخشتے ہوئے اس ہفتے کے بجائے بعد از گرمائی تعطیلات تاریخ مقرر کی جاتی ہے،عدالتی حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ مسﺅل نے عدالتی نوٹس کے جواب میں وضاحت پیش کرنے یا قانونی راستہ اپناتے ہوئے عدالت میں حاضری کے بجائے پریس کانفرنس اور سڑک پر آکر جس طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بظاہر آئین کی دفعات کی خلاف ورزی، قانون توہین عدالت اور آزاد جموں و کشمیر اسمبلی (الیکشنز) آرڈیننس ۰۷۹۱ءکی متعلقہ دفعات کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ ایسی صورت میں مسﺅل کو فردِ الزام جاری کیا جانا تقاضہِ قانون ہے،لہذا شائع شدہ خبروں اور سائلان راجہ امجد علی اور سردار افتخار احمد وغیرہ کی دائر کردہ درخواستوں اور دیگر مشمولہ مواد کی بناءپر مسﺅل سردار خالد ابراہیم کو بذیل فردِ الزام بغرض جواب ارسال کیا جاتا ہے”عدالت ہذا نے آپ کے اسمبلی بیان کی بناءپر آپ سے وضاحت طلب کی۔ آپ نے عدالتی نوٹس کی تعمیل میں وضاحت دینے کے بجائے مورخہ 25مئی 2018، 3جون2018،9 جون 2018اور بعد ازاں 14جون 2018ءکی پریس کانفرنس ہا اور اخباری بیانات میں عدلیہ اور ججز کے بارے میں بیانات دیے۔ عدلیہ اور ججز کے بارے میں جو بیانیہ آپ سے منسوب ہے اور بتکرار شائع ہوا ہے ،اپنے نفسِ مضمون کے اعتبار سے بادی النظر میں ایسا بیانیہ عدلیہ کی آزادی اور وقار کو نہ صرف مجروح کرنے کے مترادف ہے بلکہ عدلیہ کے تمسخر اور اور تضحیک پر بھی مبنی ہے جو آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین1974ءکی آرٹیکل4کے پیراگراف 9، آرٹیکل 45 معہ متعلقہ قانون توہین عدالت کے تحت قابل مواخذہ اور تعزیزی سزا ہے۔ آپ کا یہ طرزِ عمل آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین کے آرٹیکل 24معہ آزاد جموں و (الیکشنز)آرڈیننس کی دفعہ ۵ ذیلی دفعہ (2) کی شق (vii) آپ کی اسمبلی رکنیت سے ناہلی پر منتج ہو سکتا ہے۔ لہذا آپ اصالتاً آئندہ تاریخ پیشی پر آ کر تحریری جواب اور ثبوت عدالت میں پیش کریں“عدالت نے حکومت کو بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ فوری طور پر ایڈووکیٹ جنرل کی تعیناتی عمل میں لائی جائے جو توہین عدالت کی اس کارروائی کی پیروی کے لیے مزید ہدایات رجسٹرار سے حاصل کرتے ہوئے فہرست گواہان اور دیگر جو دستاویزی اور قانونی شہادت ہے اُس کا عدالت میں شیڈول پیش کرے۔ سائلان راجہ امجد علی اور سردار افتخار بیگ وغیرہ کو بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ اس ضمن میں وہ بھی جو شہادت پیش کرنا چاہتے ہیں اُس کی بھی تفصیل عدالت میں جمع کرائیںعدالت نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ ہم گزشتہ حکم میں بھی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بھی وضاحت کرچکے ہیں کہ وہ قانونی حدود کا پاس رکھیں ۔ عدالت آزادی اظہار رائے پر کوئی قدغن نہیں لگانا چاہتی لیکن عدالت کے انتباہ کے باوجود کچھ اخبارات نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا مواد شائع کیا ہے جو بظاہر توہین عدالت اور پرنٹنگ اور پریس قوانین کے صریح خلاف ورزی ہے۔ رجسٹرار کو ہدایت کی جاتی ہے کہاس حوالہ سے شائع شدہ مواد کی ضروری تفصیل فائل پر لائے۔ مابعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی،علاوہ ازیں عدالت کے نوٹس میں یہ بات بھی لائی گئی ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت سوشل میڈیا پر عدلیہ، ججز اور دیگر ریاستی ، مذہبی اور اہم آئین اداروں میں متمکن شخصیات کے خلاف مکروہ عزائم اور مقاصد کے حصول کے لیے بے بنیاد اور گمراہ کن مواد کی تشہیر سے اداروں میں عدم استحکام اور معاشرے میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس ضمن میں فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے دیگر متعلقہ اداروں اور ایجنسیوں کی مدد سے ایسے عناصر کا کھوج لگا کر نشاندہی کرے ۔ اس ضمن میں یکم ستمبر2018ئتک کی گئی کارروائی کی نسبت رجسٹرار کے پاس رپورٹ جمع کروائی جائے۔