بدھ 16 اکتوبر 2019ء
بدھ 16 اکتوبر 2019ء

خود محتار کشمیر کے حامی 19افراد کے خلاف غداری کا مقدمہ درج

کوٹلی (نامہ نگار)حکومت نے گذشتہ سال 26 نومبر کو کوٹلی میں منعقدہ جموں و کشمیر کی ذیلی تنظیم سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ (ایس ایل ایف)کے کنونشن میں کی گئی مبینہ طور پر متنازعہ تقاریر اور ریلی کو جواز بنا کر لبریشن فرنٹ، سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ اور گلگت بلتستان کے انیس رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف غداری کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔جن افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گے ہیں ان میں طاہرہ توقیر(کوٹلی)،راجہ طفیل (راولاکوٹ)راجہ عبدالقیوم ،محمد حفیظ(کھوئی رٹہ)،شفقت انقلابی،آصف مرزا،سلیم ہارون (راولاکوٹ)،ساجد صدیقی (بھمبر)،توثیق جرال،انجنیر جلیل (کھوئی رٹہ)،رفیق ڈار (راولپنڈی)،سردار انور ایڈووکیٹ(علی سوجل)،حافظ انور سبہانی (راولاکوٹ)،عبدالرحیم (تتہ پانی)،راجہ حق نواز( سہنسہ)،سید ساجد بخاری،بابر شکور( راولاکوٹ)،ڈاکٹر توقیر گیلانی (کوٹلی)،عبدالحمید بٹ(میر پور) شامل ہیں، پالیس کی طرف سے مرتب کردہ استغاثہ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہان افراد نے ریلی اور بعد ازاں جلسہ سے خطاب کے دوران مملکت پاکستان اور پاکستان آرمی کے خلاف تقاریر کی ہیں ۔پاکستان کی فوج کو کشمیر سے نکلنے کا مطالبہ کیا ہے اور متنازعہ نعرے بازی کی۔مقررین نے گلکت بلتستان میں آزاد کشمیر کی طرز کا سیٹ اپ قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے جو کہ غداری کے زمرے میں آتا ہے لہذا ان لوگوں کے خلاف اے پی سی ۔123 اور A/34 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔جن لوگوں کے خلاف ایف آئی ار درج کی گئی ہے ان میں سے کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔