بدھ 16 اکتوبر 2019ء
بدھ 16 اکتوبر 2019ء

اخبارات کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے حکومت کو 10فروری تک کی ڈیڈ لائن

مظفرآباد(پ ر)آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی (اے کے این ایس)نے ترقیاتی مزانیہ کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے حکومت کو 10فروری کی حتمی تاریخ دیتے ہوئے ریاست گیر احتجاج کا فیصلہ کر لیا،وزیر اعظم آزادکشمیر کے باربار احکامات کے باوجود5کروڑ سے زائد کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔دوماہ قبل وزیراعظم نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں سیکرٹریز اور سربراہان محکمہ جات کو بقایا جات کی ادائیگی کرنے کے لیے 15دن کا وقت دیا تھا اور یہ واضع احکامات بھی دیئے تھے کہ جو محکمہ ادائیگی نہ کرے محکمہ مالیات ان محکمہ جات کے فنڈز سے یکمشت ادائیگی کے اقدامات اُٹھاتے ہوئے از خود کٹوتی کرکے محکمہ اطلاعات کے فنڈز /اکاونٹ میں منتقل کردے۔ بیورورکریسی نے وزیراعظم کے احکامات کو ہوا میں اُڑادیا اور 15دن کے بجائے دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا مگر ادائیگی کے لیے کوئی پیش رفت نہ ہوئی ،اے کے این ایس نے جملہ میڈیا ہاؤسز سے بھرپور تعاون کی توقع کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بقایا جات تمام اداروں کے ہیں اور پرنٹ میڈیا اس وقت شدید مالی مسائل اور ورکرکو تنخواؤں کی ادائیگوں جیسی مشکلات میں مبتلا ہے اور تمام اداروں کے سالہسال سے موجودہ مالیاتی بحران میں محکمہ جات کی جانب سے ادائیگیاں نہ ہونا اور حکومت کی جانب سے کوئی موثر اقدامات نہ اُٹھانا سوالیہ نشان ہے؟ترقیاتی بجٹ کا ایک فیصد جوپبلسٹی کے لیے مختص ہے اگر محکمہ اطلاعات کو منتقل کیا جاتا تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی حکومت کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے اس لیے حکومت بالخصوص محکمہ مالیات سرکاری محکمہ جات کے فنڈ ز سے یکمشت ادائیگی کے لیے محکمہ کے فنڈز سے از خود رقم کٹوتی کرکے 5کروڑ روپے کے بقایا جات کی ادائیگی کرے،10فروری تک بقایا جات کی یکمشت ادائیگی کو یقینی نہ بنایا گیا تو (اے کے این ایس)تمام اداروں سے ملکر ریاست گیر احتجاج کرے گی اور اس احتجاج کے لیے ریاستی بیوروکریسی پرنٹ میڈیا کو مجبور کررہی ہے۔کیونکہ وزیراعظم کے واضع احکامات کے باوجود بیوروکریسی کی طرف سے اقدامات نہ اُٹھانا سوالیہ نشان ہے ،فنڈز کی کمی بھی نہ ہے لیکن بیوروکریسی اپنے مخصوص مقاصد کے لیے بقایا جات کی ادائیگی کرنے میں مخلص نہیں جسکے لیے احتجاج کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔