جمعرات 22  اگست 2019ء
جمعرات 22  اگست 2019ء

راولاکوٹ،مورتیوں کی تلاش،قبرستان کی کھدائی کی الزام میں سرکاری اہلکاروں سمیت 6 افراد گرفتار

راولاکوٹ (دھرتی نیوز) پولیس نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات حسین کوٹ کے علاقہ منجاڑی کے قبرستان سے قبریں کھودنے کے الزام میں 6سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا جن میں مجسٹریٹ میونسپل کارپوریشن راولاکوٹ، ایک پولیس آفیسر سمیت پانچ افراد شامل ہیں، مقامی لوگوں کے مطابق گرفتار کئے گئے افراد رات گئے قبرستان سے قبریں کھودنے میں مصروف تھے اور کم ازکم دو قبریں کھودی جا چکی تھیں کہ پولیس کو اطلاع کی گئی  جس نے موقع پر پہنچ کر جملہ افراد کو گرفتار کر لیا، ایک سرکاری اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شر ط پر بتایا کہ مذکورہ افراد جن میں سے بعض کا تعلق پشاور سے ہے کے پاس حساس قسم کے نقشہ جات تھے اور ان کے رابطے سہنسہ اور راولاکوٹ میں بعض لوگوں سے تھے جن میں مجسٹریٹ کارپوریشن اور بعض پولیس اہلکار شامل ہیں، مذکورہ افراد اس نقشے کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ مذکورہ قبرستان میں کئی سوسال پرانی مورتیاں دفنائی گئی ہیں جو تقسیم سے پہلے ہندو خاندانوں میں قبرستان میں اس غرض سے دفنائی تھیں کہ یہ مسلمانوں کی مقدس جگہ ہے اور اس وجہ سے محفوظ رہیں گی، ان افراد کے پاس اس طرح کی چیزوں کے کھوج لگانے کے آلات اور ڈرل مشینیں بھی تھیں اور وقوعہ سے قبل وہ چار سے زائد مرتبہ مذکورہ جگہ کا دورہ کرکے مقامی لوگوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش بھی کر چکے تھے، جمعرات کی شام یہ لوگ مذکورہ قبرستان میں پہنچے اور پہلے ناپ تول کے عمل میں لگے رہے پھر رات دس بجے قبرستان کی کھدائی شروع کردی اور مقامی لوگوں کے مطابق دو سے زائد قبروں کو کھود بھی چکے تھے۔ مقامی لوگوں نے مزاحمت کی اور پھر پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچی مذکورہ افراد کو حراست میں لے لیا جمعہ کی صبح تک ان افراد کے خلاف ایف آئی آر نہ ہوئی تھی تاہم تفتیشی اہلکار مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں، اس واقعہ کے بعد مقامی علاقے میں خوف وہراس پایا جاتا ہے اور شہر میں مختلف طرح کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم