بدھ 03 جون 2020ء
بدھ 03 جون 2020ء

کرونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ازمائش ہے، صبر و تحمل سے اس ازمائش پر پورا اُترنا ہو گا، صدر آزاد کشمیر

مظفرآباد (دھرتی نیوز)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کرونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑی ا زمائش ہے اور ہمیں صبر و تحمل کے ساتھ اس آزمائش پر پورا اترنا ہو گا۔ مشکل کی اس گھڑی میں علماء کرام آگے بڑھ کر لوگوں کی رہنمائی کریں اور قوم کو اس آزمائش پر پورا اترنے کے لیے قرآن اور سنت کی روشنی میں اپنے عمل اور کردار کو ڈھالنے کے لیے تیار کریں۔آزاد کشمیر ابھی تک اس ناگہانی آفت سے قدر محفوظ ہے لیکن ہمیں اپنی تیاریاں مکمل رکھنا ہوں گی اور مستقبل میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کرنے ہوں گے۔ پیر کے روز آزاد کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل صحت عامہ ڈاکٹر  سردار آفتاب خان سے وائرس کے حوالے سے اب تک کی جانے والی تیاریوں کے بارے میں  ٹیلیفونک بریفننگ لینے کے بعد اپنے ایک بیان میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اُنہیں بتایا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کے تمام دس اضلاع میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کی سربراہی میں ریپڈ ریسپانس ٹیمیں پوری طرح متحرک ہیں اور ان ٹیموں میں محکمہ مال، غیر حکومتی تنظیموں اور ای پی آئی پروگرام کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ ٹیمیں ایسے مشتبہ افراد جو حالیہ دنوں میں بیرون ملک سے پاکستان میں داخل ہوئے کو تلاش کر کے اُن کے ٹیسٹ کرنے اور اُنہیں قرنظینہ مرکز میں منتقل کرنے اور ایسے افراد کے اعداد و شمار جمع کرنے میں مصروف ہیں جو سانس کی نالی کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ڈسٹرکٹ ریپڈ ریسپانس ٹیمیں رابطہ کاری، تدارک اور مانیٹرنگ کی تین بنیادی ذمہ داریوں پر ہمہ وقت کام کر رہی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل صحت عامہ نے صدر آزاد کشمیر کو یہ بھی بتایا کہ آزاد کشمیر کے دس ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کے لیے علیحدہ وارڈز قائم کر دیئے گئے ہیں جبکہ اب تک آزاد کشمیر سے کرونا کے چوالیس مشتبہ مریضوں کے نمونے حاصل کر کے نیشنل انسٹییٹوٹ آف ہیلتھ کو بھیجے گئے جن میں سے چالیس افراد کے ٹیسٹ کے رزلٹ موصول ہو چکے ہیں اور ان چالیس میں سے انتالیس افراد کے ٹیسٹ منفی اور ایک کا مثبت آیا ہے جسے میرپور قرنطینہ مرکز میں منتقل کر دیا گیا ہے اور چار افراد کے رزلٹ کا ابھی انتظار ہے۔ اس کے علاوہ مظفرآباد میں عباس انسٹیٹیوب آف میڈیکل سائنسز کی وائرولوجی لیبارٹری کو ہنگامی بنیاد پر بہتر کیا گیا ہے تاکہ مشتبہ افراد کے ٹیسٹ مقامی طور پر اسی لیبارٹری میں کرائے جا سکیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں یہ لیبارٹری تسلی بخش انداز میں کام شروع کر دے گی۔ اپنے بیان میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے قبل ہی آزاد کشمیر کے خارجی اور داخلی راستوں پر کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی سکریننگ، وبا سے متاثر ہونے والے مشتبہ افراد کے لیے قرنطینہ مراکز کا قیام، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور متعلقہ سٹاف کی موجودگی اور اُن کی تربیت اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے جیسے اقدامات ہنگامی بنیاد پر کیے گئے لیکن یہ ایک مسلسل عمل ہے جو روزانہ کی بنیاد پر جاری رہے گا۔ صدر آزاد کشمیر نے افواج پاکستان کی طرف سے کرونا کی وبا سے متاثرہ یامتوقع طور پر متاثر ہونے والے افراد کے علاج معالجہ کے لیے تعینات کی گئی طبی ٹیموں کو تربیت دینے کے عمل کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے افواج پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، آزاد کشمیر کی سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دوسرے متعلقہ اداروں کی طرف سے بعض فوری نوعیت کے اقدامات کی بھی تعریف کی۔ اُنہوں نے کہا کہ کرونا سے آزاد کشمیر کی معیشت خاص طور پر غریب اور معاشی لحاظ سے کمزور افراد پر پڑنے والے منفی اثرات  سے نمٹنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ان منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے تمام متاثرہ افراد کے اعداد و شمار آنے کے بعد ان کے لیے کسی معاشی پیکج کے حجم اور دیگر تفصیلات کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اُن تما م ہدایات پر مکمل طور پر عمل کریں جو ماہرین طب کی طرف سے اُنہیں دی جا رہی ہیں جن میں صفائی، سماجی فاصلہ اور گھر سے باہر غیر ضروری سماجی اور تجارتی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اگر خدانخواستہ کرونا کا مرض آنے والے دنوں میں مذید پھیلتا ہے تو ہمیں میڈیکل آلات اور ادویات کی ہنگامی بنیاد پر ضرورت پڑے گی۔ صدر آزاد کشمیر نے علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے دائرہ اثر میں لوگوں کو صحت و صفائی اور طبی ماہرین کی ہدایات کے مطابق عمل کرنے کا شعور پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اُنہوں نے ہلال احمرآزاد کشمیر برانچ کو بھی ہدایت کی کہ وہ غریب اور نادار لوگوں کو ماسک، دستانے اور جراثیم کش مصنوعات فراہم کریں تاکہ اُنہیں بھی معاشرے کے دوسرے لوگوں کی طرح حفاظتی اقدامات کی اس مہم کا حصہ بنایا جائے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اگرچہ ہم سائنسی بنیاد پر اس وبا کی روک تھام کے لیے تما م ضروری اقدامات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں قرآن اور سنت کی اُن تعلیمات کو بھی سمجھنا ہو گا جو ا زمائش کے حوالے سے ہیں اور جن میں صحت و صفائی کے بنیادی اُصول بیان کیے گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اس وقت جبکہ دنیا کی توجہ کرونا وائرس کی وبا پر مرکوز ہے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا ایک نیا سلسلہ وسیع پیمانے پر شروع کر دیا ہے۔ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ اکیس دنوں میں مقبوضہ کشمیر کے طول عر ض میں محاصروں اور گھر گھر تلاشیوں کے دوران کشمیریوں کو قتل و حراساں کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اس دوران دو سو چھپن کاروائیوں میں دو خواتین سمیت باسٹھ کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور حریت رہنماؤں، کارکنوں اور کمسن نوجوانوں کو گرفتار کر کے بھارت کی مختلف جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ اُنہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی ظالمانہ کاروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا فوری نوٹس لے۔ _________________  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم