جمعه 30 اکتوبر 2020ء
جمعه 30 اکتوبر 2020ء

بی جے پی سازشی،عمران خان مودی کے حمایتی ہیں،سردار نزاکت

کراچی (دھرتی نیوز)  وزارت بلدیات حکومت سندھ کے کو آرڈینیٹر اور ممبر بلاول میڈیا سیل سردار نزاکت خان  نے کہا کہ 5اگست کے بعد ریاست جموں کشمیر کے اندر ظلم و ستم اور بربریت کا بازار گرم ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے- بی جے پی کی حکومت نے آرٹیکل 25 اے اور 280 ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کرنے کی سازش کی اس میں پوری دنیا کے رہنے والے لوگوں نے کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی پاکستان کے چاروں صوبوں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں نے بھرپور آواز اٹھائی اور اپنی حکومت کو یہ مینڈیٹ دیا کہ پوری دنیا میں کشمیریوں کے لئے لابنگ کریں لیکن پاکستان کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی 27 اکتوبر کی تقریر کے بعد مجرمانہ خاموشی پر کشمیر کے لوگ سوال اٹھاتے ہیں جب ہندوستان کے اندر الیکشن ہو رہا تھا بی جے پی کے الیکشن منشور میں تھا کہ ہم کشمیر کے اسپیشل سٹیٹس کو ختم کریں گے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا وزیر اعظم کہہ رہا تھا کہ مودی الیکشن جیتے گا تو مسئلہ کشمیر حل ہوگا۔ایک مقامی روزنامے کو دئیے گے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان کے لوگوں نے کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی اس پر پورے اہل کشمیر پاکستانی عوام کے شکر گزار ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ عوام کی کشمیر کے حوالے سے سوچ ایک طرف ہے اور  حکومت کی سوچ ایک طرف ہے ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا پاکستان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے آج کشمیر لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اینٹ کا جواب پتھر سے کب دیں گے کیا پاکستان کے موجودہ حکمران آخری کشمیری کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں؟ بھارت پوری دنیا کو یہ باور کرانے میں مکمل طور پر کامیاب ہوا ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور کشمیر کی جو آزادی کی تحریک ہے وہ دراصل ایک دہشت گرد تحریک تھی بدقسمتی سے ہمارے حکمران اپنا سچ پوری دنیا کو نہیں بتا سکے جب کہ ہندوستان نے اپنا جھوٹ بتاکر پوری دنیا میں لابنگ کرنے میں کامیاب ہوا ہے- پاکستان کے تمام الیکٹرونکس پرنٹ اور سوشل میڈیا نے بھرپور کردار ادا کیا ہے- پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے پاکستان کے اندر گڈ گورننس نام کی کوئی چیز نہیں ہے پاکستان کی موجودہ حکومت کے رویے کی وجہ سے کشمیر سمیت بہت سارے ایشیوز پر پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت تقسیم نظر آتی ہے آج پاکستان کے اندر ایسی لیڈرشپ کی ضرورت ہے جس طرح ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم کشمیریوں کے لیے ہزار سال تک جنگ لڑیں گے جب محترمہ بینظیر بھٹو شہید وزیراعظم بننے کے بعد پہلی دفعہ مظفرآباد گی تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں پاکستان والو کا لہو بہے گا کشمیر والوں کو اس طرح کی کمنٹمنٹ والے حکمراں کی ضرورت ہے ماضی کی حکومتوں میں سرینگر-جموں سمیت پورے مقبوضہ کشمیر کی بات ہوتی تھی کہ ہم مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروائیں گے جبکہ موجودہ حکومت مظفرآباد کو بچانے کی بات کر رہی ہے پاکستان کے ہر مکاتب فکر کے لوگوں کو آگے آنا ہوگا اور اپنی حکومت کو یہ باور کرانا ہوگا کے پاکستان کے لوگ کسی صورت تقسیم کشمیر کو قبول نہیں کریں گے اس کے علاوہ کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اور کسی طرح کے بھی مذاکرات میں کشمیری قیادت کی شاملیت ناگزیر ہے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی قیادت جس طرح پوری دنیا کو اپنا کیس پیش کر سکتے ہیں اس طرح پاکستان کے وزیر خارجہ نہیں کر سکتے  لہذا کسی طرح کی بھی فیصلہ سازی میں پاکستان کی حکومت  کو کشمیری قیادت کو شامل کرنا پڑے گا    

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم