بدھ 01 دسمبر 2021ء
بدھ 01 دسمبر 2021ء

راولاکوٹ، توہین آمیز مواد شوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں نوجوان گرفتار

ہجیرہ،راولاکوٹ(دھرتی نیوز)ہجیرہ پولیس نے ہجیرہ کے نواحی گاوں نڑول سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان فواد اختر کو سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے الزام میں اسلام آباد سے گرفتار کر کے راولاکوٹ تھانے میں پہنچا دیا۔ہجیرہ پولیس نے یہ مقدمہ مرکزی پولیس دفتر مظفراباد سے لکھے ایک خط کی روشنی میں درج کیا ہے جس میں ایسے لوگوں کی جانچ پڑتال کرنے کا کہا گیا تھا جو اپنی وال پر اس طرح کی توہین آمیز عبارت شیئر کرتے ہیں۔سردار فواد کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر میں میں ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک فواد اختر نے معزز ججز صاحبان کے بارے میں توہین آمیز کلمات شیئر کیے ہیں۔ایف آئی ار میں دفعات 501,500,589y,489o شامل کیے گے ہیں۔مرکزی پولیس دفتر سے مکتوب  06 اکتوبر کو لکھا گیا جبکہ ایف آئی ار 13 اکتوبر کو درج کی گئی۔ایف آئی کی نقل ایف آئی اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو بھی بھیجی گئی تا کہ فیس بک پر اس اکوئنٹ کو بند کروایا جا سکے۔ہجیرہ پولیس نے اسلام آباد پولیس کے تعاون سے فواد اختر کو اسلام آباد سے گرفتار کر کے راولاکوٹ پہنچا دیا ہے۔فواد آختر اپنا فیس بک  اکاونٹ سردار فواد کے نام سے چلاتا ہے۔وہ ایک سیاسی کارکن ہے۔گذشتہ انتخابات میں وہ امیدوار کے طور پر کاغذات بھی جمع کروا چکا ہے لیکن بوجوہ یہ کاغذات مسترد کر دئیے گے تھے۔وہ سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں اور شخصیات پر کڑی تنقید کرتا رہتا ہے اور موجودہ وزیر اعظم آزادحکومت سردار عبدالقیوم نیازی پر بھی اسی طرح کی تنقید کر چکا ہے۔ایف آئی 13 اکتوبر کو درج کی گئی جبکہ 14اکتوبر کو سردار فواد نے اپنی آئی ڈی سے ایک پوسٹ شیئر کی تھی کہ وہ کسی سے ڈرتے نہیں اور جس نے گرفتار کرنا ہے وہ کر لیے۔”دھرتی“ کی تحقیقات سے یہ شک گذر رہا ہے کہ بظاہر ایف آئی ار میں ججز کے خلاف توہین آمیز کلمات شیئر کیے جانے کا الزام تو لگایا گیا ہے لیکن اصل میں وزیراعظم سمیت ان کی کابینہ کے بعض ممبران کے خلاف شیئر کی گئی پوسٹیں اس ایف آئی ار کا سبب بن سکتی ہیں۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم