اتوار 23  ستمبر 2018ء
اتوار 23  ستمبر 2018ء

جسٹس فار نعیم بٹ کمیٹی کے زیرا ہتمام احتجاجی ریلی ،دھرنا جاری

راولاکوٹ (دھرتی نیوز) جسٹس فار نعیم بٹ شہید کمیٹی کا احتجاجی دھرنا پیر کو پانچویں روز میں داخل ہوگیا ۔ شرکاءدھرنا نے پیر کو بھی ان دفاتر کے باہر دھرنا دیئے رکھا حکومت آزادکشمیر کی مبینہ بے حسی پر عوامی حلقوں کا اظہار مذمت ، پیر کے روز احتجاجی ریلی نکالی گئی جو حسین شہید پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ سے شروع ہو کر سارے شہر کا چکر لگانے کے بعد احاطہ عدالت میں احتجاجی جلسہ کرنے کے بعد احتجاجی دھرنا کیمپ میں پہنچی ۔احتجاجی ریلی کی قیادت سردار لیاقت حیات (چیئرمین کمیٹی)،سردار رﺅف کشمیری ، سردار عبدالنعیم خان (صدر انجمن تاجران)، سردار قیوم ا فسر (جماعت اسلامی)،سردار اظہر نذر (مسلم کانفرنس)،صابر کشمیر ی ایڈووکیٹ، سردار وسیم خورشید ، سردار عمر نذیر کشمیری ، سردار مصطفی سعید، ایس ایم ابراہیم ایڈووکیٹ اور دیگر زعماءکررہے تھے ۔بعدازاں احتجاجی ریلی جب احتجاجی دھرنا کیمپ میں پہنچی تو عوام کی ایک بڑی تعداد نے خوش آمدید کہا اس موقع پر پولیس کی بھاری مسلح نفری ڈی ایس پی ساجد عمران ، انسپکٹر اعجاز احمد، اور پولیس تھانہ راولاکوٹ کے انچارج اکمل شریف کی قیادت میں موجود رہی تاہم کوئی ناخوشگوار واقع رونما نہیں ہوا ۔احتجاجی کیمپ میں جن زعماءنے خطاب کیا ان میں سردار رﺅف کشمیری ، سردار لیاقت حیات، سردار محمد انور خان ، سردار محمد قدیر خان، سردار قیوم افسر خان، سردار وقاص لیاقت ، صابر کشمیری ایڈووکیٹ ، عمر نذیر کشمیری ، وسیم خورشید، اظہر کا شر ، سردار یاسر حسرت ، ناصر سرور ، شاہد خورشیدنے خطاب کیا ۔ ان زعماءنے کہا کہ پانچ دنو ںسے عوام سراپا احتجاج ہیں مگر صدرریاست اور وزیراعظم آزادکشمیر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں صدرریاست کا یہ آبائی ضلع ہے جس میں گزشتہ پانچ دنو ںسے عوام احتجاج پر ہیں ایک بے گناہ نوجوان کو سر عام ضلعی انتظامیہ نے گولیوںسے چھلنی کر دیا مگر صدرریاست کو اس واقع پر اظہار افسوس کر نے کی بھی توفیق نہیں ہوئی ان مقررین نے کہا کہ صدرریاست جب اس عہدے پر فائز ہوئے تھے تویہی تاثر دیاگیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے علاوہ کشمیر میں ہونے والے ظلم خواہ و ہ مقبوضہ کشمیر میں ہوں یا آزادکشمیر میں اس کا بروقت نوٹس لیں گے مگر وہ بلاآخر صرف اور صرف بیورو کریٹ ثابت ہوئے ۔