جمعه 21  ستمبر 2018ء
جمعه 21  ستمبر 2018ء

”جسٹس فارنعیم بٹ “کمیٹی کی اپیل پر راولاکوٹ میں شٹر ڈاون و پہیہ جام ہڑتال

راولاکوٹ(نامہ نگار)”جسٹس فارنعیم بٹ شہید“کمیٹی کے زیراہتمام احتجاجی دھرناپیرکوبارویں روزمیں داخل ہوگیا۔پیرکوکمیٹی کی اپیل پرراولاکوٹ میں مکمل شٹرڈاﺅن اورپہیہ جام ہڑتال رہی ۔پیر کی صبح فجر کے وقت راولاکوٹ شہر کی طرف آنے والی شاہرات کو پتھر رکھ کر اور درخت کاٹ کر بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے شہر کی طرف آنے والی ٹریفک متاثر ہوئی اور ساتھ اسکول شفٹ کی گاڑیاں بھی سڑکوں پر نہ آسکیں جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے غیر اعلانیہ بند رہے۔سرکاری دفاتراورعدالتوں میں حاضری بھی جزوی رہی ۔نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا اور پو لیس شاہرات اور مارکیٹو ں سے غائب رہی ، جس کی وجہ سے ریاستی رٹ دوردورتک نظرنہیں آئی۔بعدازاں ایک پرامن احتجاجی ریلی نکالی گئی جو بوائزکالج گیٹ سے شروع ہوکربڑی بڑی شاہرات کاچکرلگانے کے بعدکچہری چوک میں ایک احتجاجی جلسہ کی شکل اختیارکرگئی۔احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین سردارلیاقت حیات نے اعلان کیاکہ پانچ مئی تک احتجاج دھرناجاری رہے گا،آج کاشوایک ٹریلرتھاجبکہ چھ مئی سے پورے ڈسٹرکٹ پونچھ میں پرتشدداحتجاجی تحریک کاآغاز کیاجائے گا۔پانچ مئی کے بعدکوئی سرکاری دفترنہیں کھلنے دیں گے اورنہ ہی کسی سرکاری آفیسرکودفترمیں بیٹھنے دیں گے اورنہ ہی کسی سرکاری گاڑی کوسڑک پرآنے دیں گے ۔کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ نعیم بٹ کے قتل کے ذمہ داران کوان کے عہدوں سے ہٹاکرگرفتار کیا جائے۔کمیٹی کے مطالبے پر19اپریل سے کمشنراورڈپٹی کمشنرکے دفاترکے باہرحتجاجی دھرناجاری ہے ۔دوروزقبل کمیٹی نے اعلان کیاتھاکہ تیس اپریل مکمل شٹرڈاﺅن پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی جس کی باعث پیرکورراولاکوٹ اورگردونواح کے بازاروں پانیولہ،پاک گلی ،مجاہدآباد،چک چہڑھ،کھائی گلہ دریک بنجونسہ ،چھوٹاگلہ میں مکمل شٹرڈاﺅن رہا۔کسی بھی علاقے سے راولاکوٹ کوئی پبلک یاذاتی ٹرانسپورٹ نہ آئی۔جس باعث پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں غیر اعلانیہ چھٹی رہی۔یونیورسٹی پونچھ میں ہونے والے امتحان کا آج کاپرچہ ملتوی کردیاگیا۔عدالتوں اوردفاترمیں حاضری نہ ہونے کے باعث کوئی کام نہ ہوسکا، جسٹس فارنعیم بٹ کمیٹی اورراولاکوٹ انجمن تاجران نے مشترکہ احتجاجی ریلی نکالی اس احتجاجی ریلی کی قیادت سردارلیاقت حیات(چیئرمین کمیٹی)سردارعبدالنعیم خان(صدرراولاکوٹ انجمن تاجران )سرداررﺅف کشمیری(جے کے ایل ایف رﺅف گروپ)سردارمحمدانورخان،سردارقیوم افسر،وقاص لیاقت ،سردارامجدیعقوب ایڈووکیٹ(جماعت اسلامی)سردارذوالفقار عارف، عمر نذیر کشمیری، مصطفی سعید،وسیم خورشید،شاہدخورشید،سرداراظہرکاشر،ایس ایم ابراہیم ایڈووکیٹ،سردارامتیازایڈووکیٹ، رمضان شیخ، حنیف اعوان ایڈووکیٹ اوردیگرکررہے تھے۔احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی سردارلیاقت حیات نے اعلان کیاکہ ہمارے پرامن احتجاج کوکمزوری نہ سمجھاجائے جولوگ یہ کہہ رہے تھے کہ صرف دس پندرہ آدمی احتجاجی دھرنامیں موجودہیں آج ہم نے عوامی قوت سے یہ ثابت کردیاہے کہ اس مطالبے کے پیچھے پوری عوامی قوت ہے ۔ بعض لوگوں نے انتظامیہ کوخوش رکھنے کے لیے بیانات دیئے تھے ۔انہوں نے اعلان کیاکہ اگرپانچ مئی کی شام تک ڈی سی ، ایس پی اورقتل کے دیگرذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتارکرکے قانون کے کٹہرے میں نہیں لایاجاتااورجوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرعام پرنہیں لائی جاتی توچھ مئی سے نہ صر ف راولاکوٹ بلکہ پورے ڈسٹرکٹ میں جس تحریک کاآغازکیاجائے گااس میں کارکنان اورعوام کوکنٹرول کرناہمارے بس میں نہیں ہوگااوروہ تحریک ایسارخ اختیارکرے گی کہ حکومت آزادکشمیراورضلعی انتظامیہ کواپنابوریابسترکلوزکرناہوگا۔پانچ مئی کے بعدنہ ہی کسی سرکاری آفیسرکودفترمیں بیٹھنے دیاجائے گااورنہ ہی کسی سرکاری گاڑی کوسڑک پرآنے دیاجائے گا۔کچھ نادان دوستوں نے اعلان کیاتھااورکہاتھاکہ یہ ہڑتال نہیں ہونے دیں گے تاجروں اورعوام نے یہ ثابت کردیاکہ وہ حق اورسچ کے ساتھ ہیں۔اس کے بعدان لوگوں کوہوش کے ناخن لینے چاہیے اورحق کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوناچاہیے بعدازاں شرکاءریلی پرامن طورپرمنتشرہوگئے۔