اتوار 23  ستمبر 2018ء
اتوار 23  ستمبر 2018ء

ہجیرہ،پرائمری سرکاری اسکول میں کلاس سوئم کی بچی پر تشدد، متاثرہ بچی نے اسکول چھوڑ دیا

ہجیرہ( دھرتی نیوز ) تحصیل ہجیرہ میں واقع گاﺅں پوٹھی چھپڑیاں کے پرائمری سرکاری سکول بائی نکہ کے ایک معلم محمد طاہر نے تیسری جماعت میں زیر تعلیم ایک بچی طوبیٰ مشتاق کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا کہ بچی اب سکول چھوڑ چکی ہے اور بچی کے والدین انصاف کے منتظر ہیں ، یہ واقعہ گذشتہ جمعہ کو پیش آیا کہ مذکورہ بچی کو اس سکول کے معلم محمد طاہر نے اس بات پر تشدد کا نشانہ بنایا کہ اس نے سبق صحیح یاد نہیں کیا یا عبارت لکھنے میں کوتائی کی۔مذکورہ معلم نے ساتھ ہی بچی کو دھمکی دی کہ اگر اس نے گھر میں کسی کو بتایا تو اس پر مزید تشدد کیا جائیگا ، اس بات کا علم بچی کی ماں کو اس وقت ہوا جس غسل کے دوران اس نے بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات دیکھے تو اس نے بچی سے پوچھا کہ یہ نشان کس طرح پڑے ، پہلے بچی نے بہانہ بنایا تو پھر بتایا کہ ” سر طاہر “ نے انہیں مارا ہے اور ڈرا رہے تھے کہ گھر نہیں بتانا ہے ، بچی کی کمر اور ٹانگ پر تشدد کے نشانات موجود ہیں ، سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں کچھ عرصہ سے اس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ، سرکاری سکول میں یہ واقعہ ایک ایسے وقت رونما ہوا جب حکومت بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے گرینڈ پروگرام شروع کر رہی ہے ۔ متاثرہ بچی کی ایک رشتے دار وں خاتون نے ”دھرتی“ کو بتایا کہ ایک دفعہ پہلے بھی اس سکول میں اسی بچی کو تشدد کا نشانہ بنا یا گیا تھا لیکن بعد میں معاملہ دبا دیا گیا تھا لیکن اس بار ہمیں انصاف کی توقع ہے،انہوں نے بتایا کہ بچی بہت خوفزادہ ہے اور اس نے اب اسکول جانے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد ہم کوئی متبادل طریقہ سوچ رہے ہیں۔دریں اثناءاس حوالے سے سب ڈویژنل مجسٹریٹ ہجیرہ کا موقف تھا کہ انہٰن اس واقعہ کا علم نہیں لیکن اگر ورثاءنے درخواست دی تو قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی