بدھ 03 جون 2020ء
بدھ 03 جون 2020ء

راولاکوٹ،ٹریفک بے قابو،ون وے کی خلاف ورزیاں،

راولاکوٹ (دھرتی نیوز)راولاکوٹ شہر میں موجودہ وقت شہریوں کو جن بڑے مسائل کا سامنا ہے ان میں پارکنگ اور بے ہنگم ٹریفک سب سے بڑا مسئلہ ہے۔گذشتہ سالوں میں جہاں شہری آبادی میں اضافہ ہوا وہاں پرائیویٹ گاڑیوں کی تعداد میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا۔گو کہ اب راولاکوٹ شہر کے اطراف میں کئی بائی پاس سڑکات تعمیر کی جا چکی ہیں لیکن ناقص حکمت عملی اور ٹریفک پولیس کی ”خاموشی“ کے باعث یہ مسائل دن بدن الجھ رہے ہیں۔”دھرتی“ نے ایک سروے رپورٹ کے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں سے اس بارے میں جاننے کی کوشش کی،سروے کے دوران پتہ چلا کہ ان مسائل کے حل نہ ہونے میں جہاں متعلقہ ادارے،ٹریفک پولیس یا مجسٹریٹ صاحبان قصوروار ہیں وہاں گاڑیوں کے مالکان اوربلڈنگ مالکان اور بعض تاجر حضرات بھی برابر کے قصور وار ہیں۔کئی دکان داروں نے اعتراض کیا کہ غیر متعلقہ لوگ ہماری دکانوں کے آگے سڑک پر کئی کئی گھنٹے گاڑیاں کھڑی کر کے جاتے ہیں جس سے ہمارا کاروبار تباہ ہو رہا ہے لیکن جب وہاں کھڑی پرائیویٹ گاڑیوں کے مالکان سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم ٹیکس دیتے ہیں یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمیں پارکینگ بنا کر دے ورنہ ہم تو اسی طرح سڑک پر ہی گاڑیاں کھڑی کریں گے۔وروے کے دوران جو بات سامنے آئی کہ پورے شہر میں سوائے کوئی ایک یا دو مارکیٹوں کے کسی بھی بلڈنگ یا پلازہ کے مالک نے پارکنگ کی جگہ نہیں رکھی،عمارات بے تحاشہ تعمیر کی گئیں جس سے یہ مسائل بڑھے۔موجودہ وقت ہاوسنگ اسکیم میں مین روڈ پر تعمیر ہونے والے ایک پرائیویٹ ہسپتال،ایک ہوٹل اورنادرا کے دفتر کی وجہ سے ہر وقت درجنوں گاڑیاں سڑک پر کھڑی رہتی ہیں ان تینوں اداروں کے پاس کروڑوں کی عمارتیں تو ہیں لیکن پارکنگ نہیں ہے۔یہاں پر آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ بے ہنگم ٹریفک کی ایک وجہ ون وے کی خلاف ورزی ہے جس پر ٹریفک پولیس”مروت“ میں کسی کو کچھ نہیں کہتی۔رکشے اور موٹر سائیکل سب سے زیادہ بیماری ہیں۔پورا دن ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہیں  جس ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ایک ٹریفک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمارے پاس اختیار کوئی نہیں عام ٹریفک والا چالان نہیں کر سکتا۔ڈرائیور بدتمیزی کرتے ہیں،کسی کے خلاف کارروائی کریں تو الٹا ہمارے خلاف ہی کارروائی کی جاتی ہے۔ یہ بات تو اپنی جگہ کسی حد تک جائز بھی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اداروں نے اپنا کام چھوڑ دیا ہے۔قانون کی بالا دستی ختم ہو گئی ہے۔ہر کوئی اپنے آپ کو قانون سے بالا سمجھ بیٹھا ہے  حالا نکہ ایسا ہے نہیں۔زیا دہ تر شہریوں نے ٹریفک پولیس کو فعال بنانے اور مجسٹریٹ صاحبان کو قانون پر عمل کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم