پیر 19 نومبر 2018ء
پیر 19 نومبر 2018ء

زینب کیس: مجرم عمران علی کو چار بار سزائے موت کا حکم

 لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے قصور کی کم سن بچی زینب کے اغوا کے بعد ریپ اور قتل کے مقدمے کے مرکزی ملزم عمران علی کو چار مرتبہ سزائے موات سنائی ہے۔ انھیں اغوا، ریپ، قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت سزائیں دی گئی ہیں۔ سنیچر کو زینب قتل کیس کے مقدمے کا فیصلہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج سجاد احمد نے سنایا۔ پراسیکوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے لاہورکی کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجرم عمران علی کو چار جرائم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ چار جنوری کو قصور کی سات سالہ زینب لاپتہ ہو گئی تھی اور نو جنوری کو زینب کی لاش گھر کے قریب موجود کوڑے کے ڈھیر سے ملی۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق زینب کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ زینب کی لاش ملنے کے بعد قصور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ زینب کے والدین نے عمران علی کی سزائے موت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اُسے سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے زبنب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران علی کو 22 جنوری کو قصور سے گرفتار کیا تھا۔ جس کے بعد صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے 23 جنوری کو نیوز کانفرنس میں اعلان کیا کہ ان کا ڈی این اے زینب کے جسم سے ملنے والے ڈی این اے سے مکمل مطابقت رکھتا ہے اور وہی اس کے قاتل ہیں۔ یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کو سات دن کی مہلت دی تھی۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 10 فروری سے روزانہ کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت شروع کی۔ عدالت نے 12 فروری کو عمران علی پر فردِ جرم عائد کیا تھا اور 15 فروری کو عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فیصلہ 17 فروری کو سنانے کا اعلان کیا تھا۔ پراسکیوٹر جنرل احتشام قادر نے میڈیا کو بتایا کہ مجرم عمران علی اپنی سزا کے فیصلے کے خلاف پندرہ دن کے اندر اپیل کر سکتا ہے اور لاہور ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی توثیق کرے گی۔ مجرم عمران علی پر کم سن بچیوں کے قتل اور ریپ کے نو سے زیادہ مقدمات ہیں لیکن اُن صرف زینب کے مقدمہ میں ہی سزا سنائی گئی ہے۔ پراسکیوٹر جنرل نے بتایا کہ باقی مقدمات میں بھی کارروائی مکمل ہو گئی ہے اور جلد چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ مجرم عمران علی کو اپنے دفاع کا بھرپور موقع دیا گیا۔ پولیس کے مطابق عمران علی نہ صرف سیریل کِلر یعنی قاتل ہے بلکہ ایک سیریل پیڈوفائل بھی ہے جو نفسیاتی حد تک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہے۔ 2015 سے قتل اور زیادتی کے مزید 10 کیسز سامنے آئے۔ ضلع قصور کی پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے بظاہر ایک ہی شخص ہے اور اس کا کھوج لگانے کے لیے پولیس کے دو سو سے زیادہ افسران کوشاں تھے۔