پیر 19 نومبر 2018ء
پیر 19 نومبر 2018ء

شہباز شریف مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ صدر منتخب

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ ان کی صدارت کا اعلان منگل کو اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کی جنرل کونسل کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔ واضح رہے کہ رواں برس 21 فروری کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دیا تھا، جس کے بعد مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلسِ عاملہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو جماعت کا تاحیات قائد اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو قائم مقام صدر منتخب کیا تھا۔ پارٹی صدر کے عہدے کے لیے منگل کی صبح کاغذاتِ نامزدگی وصول کیے گئے تاہم شہباز شریف کے علاوہ کسی دوسرے ممبر نے کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کرائے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل جولائی 2017 میں سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کے سربراہ کا عہدہ بھی چھوڑنا پڑا تھا۔ تاہم یکم اکتوبر 2017 کو پارلیمان میں انتخابی اصلاحات سے متعلق آئینی ترمیم کی گئی تھی، جس کے تحت کوئی بھی نااہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا تھا۔ پارلیمان سے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری کے بعد نواز شریف دو اکتوبر 2017 میں اپنی جماعت کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک اس عہدے پر موجود رہے۔ انتخابی اصلاحات بل کو حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت 16 درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ میں چیلینج کیا تھا۔ نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق منگل کو مسلم لیگ ن کی جنرل کونسل کے اجلاس سے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے خطاب کیا اور کہا کہ نواز شریف کو 'انتقام کا نشانہ' بنایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان اور آصف علی زرداری کا گٹھ جوڑ ان پر بھاری نہیں ہو گا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی خطاب کیا اور یہ اعلان کیا کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے منشور کا عنوان 'ووٹ کو عزت دو' ہو گا۔ اسی اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے بطور قائم مقام سیکریٹری جنرل قرارداد پیش کی جس میں نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔