پیر 19 نومبر 2018ء
پیر 19 نومبر 2018ء

متاثرین زلزلہ کے ترقیاتی فنڈز سے متعلق کیس کی سماعت ، نیب سے تحقیقات کا عندیہ

اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے زلزلہ متاثرین کے لئے ملنے والے ترقیاتی فنڈز کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقار کا کہنا تھا کہ عدالت نے سیکرٹری فنانس اور آڈیٹر جنرل کو وضاحت کے لیے بلایا تھا،جس پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیاکہ ہمیں یہ بتائیں زلزلہ متاثرہ شہر بالا کوٹ کا کیا بنا؟کیا غیر ملکی امداد قومی خزانے میں ڈال دی گئی؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل کاکہناتھا کہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈز میں جو رقم مختص ہوتی وہ وزارت خزانہ جاری کرتی ہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ زلزلے کے وقت مخیر حضرات نے فنڈز دئیے،غیر ملکی امداد بھی پاکستان آئی، ان تمام فنڈز کا کیا بنا ؟زلزلہ متاثرین کیلئے آنے والے کمبل فروخت ہو گئے۔یہ بتائیں مجموعی طور پر متاثرین کے لیے کتنی امداد آئی تو وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ بیرون ملک سے 2.89بلین ڈالر امداد آئی، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ پاکستان کے لوگوں نے کتنی امداد دی؟ تو وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا تھا کہ وہ امداد وزارت خزانہ کے پاس نہیں ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ ایرا کے مطابق فنڈز وفاقی حکومت کے پاس آئے حکومت کے کام میں بہت پیچیدگیاں ہیں ایراکا کام صرف منصوبوں پرعمل کرناتھا معلوم ہوناچاہیے امداد کی مد میں مجموعی طور پر کتناپیسہ جمع ہوا ۔اس دوران درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی زلزلہ متاثرین کانفرنس میں 3.6بلین ڈالراکٹھے ہوئے ،ایراکے اکاﺅنٹ میں 1985میں 85ارب روپے تھے ۔55ارب روپے بی آئی ایس پی کے اکاﺅنٹ میں شامل کردئیے گئے ۔زلزلہ متاثرین کی امداد ان پر خرچ نہیں ہوئی اس لئے ترقیاتی فنڈز کاآڈٹ ہونابہت ضروری ہے درخواست گزار کاکہنا تھا کہ ڈونرایجنسیوں نے نقصان کاتخمینہ 5بلین ڈالرلگایا ایرانے 14ہزار7سومنصوبوں پرکام کرناتھا چیف جسٹس نے کہاکہ آج تک 290.85بلین روپے ایرا کوملے ۔ نمائندہ ایرا نے بتایاکہ اب تک ایرا 10ہزار5سو89منصوبے مکمل کرچکاہےاس دوران چیف جسٹس نے بالاکوٹ جانے کافیصلہ کرتے ہوئے کہاکہ رجسٹرار سپریم کورٹ پرائیویٹ ہیلی کاپٹر سے متعلق معلومات لیں ،ہیلی کاپٹر کرایہ پرلینے کاکیاریٹ ہے ان کا کہنا تھا کہ اپنے خرچے پرزلزلہ سے متاثرہ علاقوں کادورہ کریں گے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ جس نے فنڈز دیئے ان کوبھی بلالیتے ہیں دیکھیں گے کہ ایرا نے زلزلہ متاثرہ علاقوں کے لیے کیاکیا ؟ایرا میں اپنے رشتہ داروں کوبھرتی کیاگیا۔بتایاجائے کس کس کے رشتہ داروں کوبھرتی کیاگیا؟ایرا میں چاچے مامے بھرتی کئے گئے اور جنرل بھی ڈیپوٹیشن پر آئے ۔فاضل چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے فنڈ متاثرین کے لئے آئے یہ فنڈ کسی دوسری جگہ استعمال کرناجرم ہے سیکرٹری خزانہ کدھر ہے ؟بتایاجائے کہ بالاکوٹ کے لوگ تعلیم اور علاج کے لئے کہاں جائیں ؟مانسہرہ میں ہسپتال بن گیاکیاوہاں میڈیکل آلات موجود ہیں ؟کیامتاثرین کے بچوں کواچھاسکول نہیں ملناچاہیے ؟ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا تھا کہ ایراکوفنڈز ترقیاتی فنڈ میں سے دئیے جاتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے عدالت میں سماعت ختم کرتے ہوئے کہاکہ ہم ابھی بالاکوٹ کے لیے نکلنے لگے ہیں، بعد ازاں چیف جسٹس بذریعہ سڑک بالاکوٹ روانہ ہوگئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سب کو بلالیں، راستے میںہم ڈھابے وغیرہ سے کھانا کھا لیں گے، جس جس نے جانا ہے ہمارے قافلے کے ساتھ آجائے،