بدھ 21 نومبر 2018ء
بدھ 21 نومبر 2018ء

موبائل فون کے استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جا رہا ہے،سپریم کورٹ

اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈ سیلز ٹیکس پر صوبوں جبکہ سروس چارجز پر موبائل کمپنیوں اور ایف بی آر سے جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ابھی تو میں پٹرول اور ڈیزل کی طرف بھی آﺅں گا، پوچھا جائے گا پٹرول، ڈیزل پر کتنا ٹیکس لگایا جاتا ہے؟۔منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میںسپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے موبائل فون کارڈ پر حد سے زیادہ کٹوتی کیس کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا 100روپے کے کارڈ پر 10 فیصد سروس چارجز ہیں، 12.7 فیصد ود ہولڈنگ ڈیوٹی اور 19.5 فیصد سیل ٹیکس ہے۔ جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پوچھا موبائل فون کے استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جا رہا ہے ؟ ود ہولڈنگ ٹیکس کی وضاحت کریں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سروس چارجز کیوں لیے جاتے ہیں ؟ اٹارنی جنرل نے بتایا سروس چارجز کا جواب کمپنیاں دے سکتی ہیں۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا حکومت اور سفارتکاروں سے ودہولڈنگ ٹیکس نہیں لیا جاتا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے جو ٹیکس ادا نہیں کرتا وہ ٹیکس کے پیسے کیسے واپس لے گا ؟ جو ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ود ہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا ؟ ودہولڈنگ وہی شخص دے گا جو ٹیکس دینے کا اہل ہوگا، 14 کروڑ عوام سے ود ہولڈنگ کیسے لیا جا رہا ہے؟۔ایف بی آر نے عدالت کو بتایا سیل ٹیکس صوبے وصول کر رہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے صوبے کس قانون کے تحت سیل ٹیکس لگا رہے ہیں ؟ ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ہے ؟ صوبے 19.5 فیصد سیلز ٹیکس کس قانون کے تحت کاٹ رہے ہیں ؟ ۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا سروس چارجز بھی ایک قسم کا ٹیکس ہے، 42 فیصد پیسے ٹیکس کی مد میں کاٹ لیے جاتے ہیں، یہ غیرقانونی طور پر عوام سے پیسے نکلوانا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ڈیزل اور پٹرول پر ہوشربا ٹیکس کے اطلاق کا بھی نوٹس لینے کا عندیہ دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تو میں پٹرول اور ڈیزل کی طرف بھی آوں گا، پوچھا جائے گا پٹرول ڈیزل پر کتنا ٹیکس لگایا جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈ پر ٹیکس کٹوتی کیس کی سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کر دی۔