بدھ 21 نومبر 2018ء
بدھ 21 نومبر 2018ء

عمران خان ملک کے نئے وزیراعظم منتخب ہو گئے

اسلام آباد (دھرتی نیوز)پاکستان کے 22ویں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی قومی اسمبلی کے اجلاس میں رائے شماری کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان قومی اسمبلی میں 176 ووٹ لے کر ملک کے نئے وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ان کے مدمقابل مسلم لیگ نون صدر شہباز شریف کو 96 ووٹ ملے۔جمعے کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں جب اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن اراکین نے اپنی سیٹیوں پر کھڑے ہو کر گیلریز میں موجود غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر تنقید کی۔قومی اسمبلی میں سپیکر کے انتخاب کے برعکس قائدِ ایوان کا انتخاب ڈویڑن کے ذریعے ہوتا ہے جس کے تحت ارکان اسمبلی اپنے اپنے امیدواروں کی لابی میں گئے۔ عمران خان کے حامی لابی نمبر اے میں گئے جبکہ شہباز شریف کے حامی لابی نمبر بی میں اکھٹے ہوئے۔انتخاب کے بعد قائد ایوان سنیچر کو ایوان صدر میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے جہاں صدر مملکت ممنون حسین ان سے حلف لیں گے۔تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اسمبلی کے اجلاس سے پہلے جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کی۔تحریکِ انصاف کے علاوہ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایوان میں آئے۔پیپلز پارٹی کی جانب سے قائدِ ایوان کے انتخاب میں ووٹنگ نہ کرنے کے فیصلے پر بی بی سی اردو کے ذیشان ظفر سے بات کرتے ہوئے جماعت کے سینیئر رہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت شبہاز شریف کو ووٹ نہیں دے گی اور نہ ہی تحریک انصاف کے امیدوار عمران خان کو ووٹ دے گی۔پیپلز پارٹی کے موقف میں آنے والی تبدیلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں نوید قمر نے کہا کہ انتخابات کے بعد جب مسلم لیگ نون اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر جن فیصلوں پر اتفاق ہوا تھا ان میں حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن مسلم لیگ نون کی جانب سے وزارتِ اعظمیٰ کے امیدوار کا نام سامنے نہیں آیا تھا۔’لیکن جب مسلم لیگ نون کی جانب سے شہباز شریف کا نام سامنے آیا تو ان کی پارٹی کے اندر کافی اعتراضات سامنے آئے۔ اس پر فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ نون سے درخواست کی جائے کہ وہ اپنا امیدوار تبدیل کرے اور بات چیت کے مختلف ادوار ہوئے لیکن نام تبدیل نہیں کیا گیا تو مجبوراً ہمیں بھی یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ ہم ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔‘نوید قمر نے کہا کہ ایوان میں جماعتیں کسی نہ کسی امیدوار کی حمایت کرتی ہیں لیکن ایسا پہلی بار ہو گا کہ ان کی جماعت ایوان میں تو موجود ہو گی لیکن کسی امیدوار کی حمایت نہیں کر رہی ہو گی۔نوید قمر نے ان اطلاعات کو سختی سے مسترد کیا کہ ان کی جماعت کے تحریک انصاف کے ساتھ درپردہ رابطے ہیں۔خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کی مسلم لیگ کے رہنما نواز شریف کے برعکس شہباز شریف سے ہمیشہ دوریاں رہی ہیں اور شہباز شریف پیپلز پارٹی کے بڑے ناقد رہے ہیں اور اب بار انھوں نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو سڑکوں پر گھیسٹنے کی بات بھی کی تھی۔پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا کہ انھوں نے 30 سال کے اندر ایسی صورتحال نہیں دیکھی۔انھوں نے سپیکر کو مخاطب ہو کر کہا کہ ’یہ جو گیٹ پر لوگ کھڑے ہیں، رول نمبر24 پڑھ لیں آپ دیکھ لیں، یہ خالی کروائیں اس سے پہلے ایک واقعہ ہو چکا ہے۔۔۔۔‘سپیکر اسمبلی نے ایوان میں موجود سارجنٹس سے کہا کہ وہ گیلریز کو خالی کروائیں۔ اس کے ساتھ ہی سپیکر نے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے وضع کردہ طریقہ کار پڑھ کر سنایا۔