اتوار 23  ستمبر 2018ء
اتوار 23  ستمبر 2018ء

اپوزیشن کی جانب سے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق

مر ی (دھرتی نیوز)پاکستان مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق کیا ہے۔سنیچر کو پنجاب کے شہر مری میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے بعد ن لیگ کے سینیئر رہنما احسن اقبال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس مری میں نواز شریف کی رہائش گاہ پر منعقد کی گئی تھی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل، نیشنل پارٹی (این پی) اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے وفود نے شرکت کی۔احسن اقبال نے کہا کہ اجلاس میں مشترکہ صدارتی امیدوار لانے کے حوالے سے قابل عمل تجاویز زیر غور آئیں جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے اپنی لیڈرشپ سے مشورہ کرنے کے لیے رات تک کا وقت لیا ہے۔’باقی اپوزیشن کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے کل (اتوار) باضابطہ طور پر الائنس کے مشترکہ امیدوار کا اعلان کر دیں۔‘واضح رہے کہ صدرِ مملکت ممنون حسین کے عہدے کی میعاد آٹھ ستمبر کو ختم ہو رہی ہے، جبکہ ملک کے نئے صدر کے لیے چار ستمبر کو انتخاب ہوگا۔حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ڈاکٹر عارف علوی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار نامزد کیا۔تاہم پاکستان مسلم لیگ ن کو اعتزاز احسن کے نام پر تحفظات ہیں۔جب پوچھا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی نے آج بھی اعتزاز احسن کا نام ہی تجویز کیا ہے تو احسن اقبال نے جواب میں کہا کہ ’آج رات تک مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار سامنے لانے کے حوالے سے ہوم ورک مکمل ہو جائے اور کل باضابطہ طور پر مشترکہ امیدوار کے نام کا اعلان کر دیا جائے گا۔‘احسن اقبال نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے کہا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں انتہائی عجلت کا مظاہرہ کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کل جماعتی کانفرنس نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی الیکشن میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔’انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی الیکشن کمیشن کے اس آن لائن سسٹم پر اپنے خدشات ظاہر کرچکے ہیں کہ اس سسٹم کے ملک اور بیرون ملک سے ہیک ہونے کا خطرہ موجود ہے۔‘احسن اقبال نے مزید کہا کہ اجلاس میں اس پر خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ اپوزیشن رہنماو¿ں کو دھمکی آمیز کالیں موصول ہورہی ہیں۔ ’عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار حسین کو بھی شدید نوعیت کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔‘انھوں نے حکومت سے مطابہ کیا کہ ان دھمکیوں کا فوری نوٹس لے اور اپوزیشن رہنماو¿ں کی سکیورٹی کا بندوبست کرے۔