بدھ 16 اکتوبر 2019ء
بدھ 16 اکتوبر 2019ء

سگریٹ کے پیکٹ پر 10 روپے ٹیکس کی تجویز

اسلام آباد(اے این این)وزیراعظم عمران خان نے بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لئے کابینہ کا خصوصی اجلاس منگل کو طلب کر لیا۔ ملازمین کی تنخواہوں میں حتمی اضافے اور چینی پر سیلز ٹیکس بڑھانے پر طویل غور کئے جانے کا امکان ہے۔ ٹیکس رقوم میں 1400 ارب روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔بجٹ 11 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ کابینہ 6 ہزار 800 ارب روپے سے زائد کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے گی جس میں سے 3 ہزار ارب روپے کا خسارہ متوقع ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 2500 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، وفاق کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 925 ارب روپے مختص ہوں گے۔ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 5 سو 50 ارب روپے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ 14سو ارب روپے کے قریب ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔چینی پر سیلز ٹیکس 8 سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے، پولٹری مصنوعات، الیکٹرونک مصنوعات سمیت درجنوں اشیا پر ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافے، لگژری اشیا کی درآمد پر 2 فیصد اضافی ڈیوٹی کو بڑھا کر 3 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔وفاقی بجٹ میں پانچ برآمدی شعبوں کیلئے زیرو ریٹنگ ختم کرنے کی بھی تجویز ہے، کھادوں کی قیمتوں میں کمی کی منظوری بھی متوقع ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجاویز زیرغور آئیں گی۔تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی حتمی منظوری کابینہ منگل کو دے گی جبکہ تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس چھوٹ میں بھی ردو بدل کیا جائے گا۔۔کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ذرائع  کے مطابق  وفاقی بجٹ 2019-20 میں عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی تیاری کرلی گئی اور اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ انڈسٹریل اور کمرشل صارفین پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق کمرشل اور انڈسٹریل صارفین سیلز ٹیکس کی شرح 5 سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے اور جن صارفین کا بجلی کا بل 20 ہزار روپے ماہانہ سے زائد ہوگا ان پر یہ ٹیکس لگے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سالانہ 10 لاکھ روپے بجلی کا بل ادا کرنے والے گھریلو صارفین کو این ٹی این دکھانا ہوگا جب کہ مالدار طبقے کے لیے این ٹی این کی شرط لازمی کرنے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں نان فائلرز کے لیے بزنس کلاس ائیر ٹکٹ مہنگا کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور ان پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح دو گنا کرنے کی تجویز ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نان فائلرز انڈسٹریل اور کمرشل صارفین پر انکم ٹیکس کی شرح 25 فیصد کرنے کی سفارش ہے اور زرعی آمدن پر چھوٹ صرف ٹیکس فائلرز کو فراہم کرنے کی بھی تجویز ہے۔حکومت نے سگریٹ اور سوفٹ ڈرنکس پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کی حتمی منظوری دے دی ہے جس کا باضابطہ اعلان آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ میں کیا جائے گا۔حکومت نے سگریٹ اور سوفٹ ڈرنکس پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کی حتمی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 20 سگریٹ والے پیکٹ پر 10 روپے جب کہ 250 ملی لیٹر کی کاربونیٹڈ ڈرنک کی ایک بوتل پرایک روپیہ ہیلتھ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ہیلتھ ٹیکس کا باضابطہ اعلان بجٹ میں ہو گا۔ حاصل ہونے والا ٹیکس صحت کارڈ کے ذریعے غریبوں پرخرچ ہو گا۔وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد تمباکو نوشی بابر عطا نے ہیلتھ ٹیکس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ موت کے سوداگروں کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، ملکی تاریخ میں پہلی بار تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لئے ٹیکس لگانے جارہے ہیں،اس ٹیکس سے 40 سے 50 ارب روپے کے وسائل حاصل ہوں گے۔